شفقت انکل ہمیں نمبر دو


کورونا کی وبا نے ویسے تو زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا مگر پاکستان جیسے ملک میں جو طبقہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ طلبہ تھے۔ سکول، کالج یہاں تک کہ یونیورسٹی کے طلبہ بھی ایک بے یقینی، کشمکش اور کمزور حکمت عملی کا شکار نظر آئے۔ اگرچہ سکول اور کالج کی سطح پر ہمارا امتحانی نظام پہلے بھی خاص اور مثالی تو نہیں تھا مگر کورونا کی وجہ سے طلبہ کی اداروں میں غیر حاضری اور ناقص کارکردگی نے سوشل میڈیا پر مختلف ٹرینڈز کے رجحان کو تقویت دی جس میں سب سے زیادہ مقبول ٹرینڈ غالباً ”شفقت انکل ہمیں پڑھنے دو“ تھا جس پر میں پہلے ہی ایک آرٹیکل لکھ چکی ہوں مگر اس کے ساتھ ہی ان طلبہ کی بھی کمی نہیں تھی جو کہ ڈیٹ شیٹ آ جانے کے باوجود امتحانات کی تیاری کی بجائے امتحانات کو ملتوی کرانے کے لئے نہ صرف ٹویٹر ٹرینڈز چلاتے رہے بلکہ عملی طور پر احتجاجی مظاہروں میں لگے رہے۔

امتحانات تو خیر اللہ اللہ کر کے لے لیے گئے مگر پہلے قدم پر لازمی مضامین کو مکمل طور پر حذف کر دیا گیا اور انٹر کے طلبہ سے فقط تین اور میٹرک والوں سے چار مضامین کے امتحانات لئے گئے جس کی کارکردگی کو پچھلے سال کی کارکردگی مان کر رزلٹ فائنل کیا جائے گا مگر فیڈرل بورڈ کی طالبہ ہونے کے ناتے میں اس حقیقت کو آن دا ریکارڈ لانا چاہتی ہوں کہ تقریباً تمام مضامین کے امتحانی پرچے میں دیے گئے کئی سوالات نصاب سے باہر تھے جو کہ طلبہ کے لئے باعث تشویش امر ہے۔

ایسا لگتا تھا امتحانی پرچے کو بغیر کسی نگرانی کے بھیج دیا جاتا ہے۔ کچھ اطلاعات ایسی بھی تھیں کہ کچھ بورڈز کے پیپر لیک ہو کر کچھ طلبہ تک پہنچے ہوئے تھے یعنی نظام کی کمزوریاں کھل کر سامنے آ رہی تھیں اور کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ بورڈ کو لکھی جانے والی شکایات کے جواب میں کوئی تسلی بخش جواب ابھی تک موصول نہیں ہوا کہ کس فارمولا کے تحت ان خرافات کا ازالہ ممکن ہو گا۔

اس سال کے بورڈ کے طلبہ کی ایک مشکل یہ بھی تھی کہ ان کے پاس پچھلے پیپرز موجود نہیں تھے کیونکہ نصاب کو کورونا کی وجہ سے تبدیل کیا گیا تھا جس کی وجہ سے طلبہ کو گزشتہ امتحانی پرچوں سے تیاری کی سہولت بھی میسر نہیں تھی۔

جب ایک پرچے میں بیس سے تیس فیصد پرچہ نصاب سے باہر ہو تو طلبہ کی چوائس بالکل ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور اس سے بھی زیادہ پریشان کن وہ نفسیاتی دباؤ ہے جس کی وجہ سے باقی ماندہ کارکردگی پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔

میری متعلقہ اداروں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ طلبہ کے مستقبل سے اس طرح کھلواڑ نہ کیا جائے اور ہمارے تعلیمی نظام کی ساکھ کو اس طرح برباد نہ کیا جائے۔

”شفقت انکل ہمیں پڑھنے دو“ سے ”شفقت انکل ہمیں نمبر دو“ کے تعلیمی سفر کو احسن طریقے سے انجام پذیر کیا جائے جس میں طلبہ کا نقصان کم سے کم ہو۔

Facebook Comments HS