قصہ ‘نشان حیدر’ کے ‘میجر راجہ عزیز بھٹی’ سے ملاقات کا

یہ 1990 ء کی دہائی کے آخری ماہ و سال کے سنہرے سجیلے دنوں کا ذکر ہے، جب 6 ستمبر اور اس طرح کے قومی ایام سرکاری چھپر سایہ کے بغیر اور مجبوری کی بجائے ایک جذبے، محبت اور ملی یکجہتی سے منائے جاتے تھے۔ ان دنوں میں ایک خاص قسم کا اپنا پن اور والہانہ پن جھلکتا تھا، یہ وہ عہد زریں تھا جب بقول ہمارے چچا جان کے ”خر دجالی“ عوامل اور کلجگ کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا، کارپوریٹ کلچر، کمرشل ازم کا ظہور بڑے محدود پیمانے پر تھا۔ جب ابھی اقدار و روایات زندہ تھیں یا شاید آخری ہچکیاں لے رہی تھیں۔ انہی دنوں 6 ستمبر کو پی ٹی وی کے دوش پر ایک ڈرامہ ”میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نشان حیدر“ نشر ہوا، ہمیں یاد ہے کہ اپنی بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر رات گئے نشر ہونے والے اس ڈرامے کو دیکھ کر امی ابو سمیت کئی سوں کی آنکھیں نم ہو گئی تھی۔

اپنے دور طالب علمی سے ہی میجر راجہ عزیز بھٹی شہید ہماری انتہائی پسندیدہ اور آئیڈیل شخصیات میں سے ایک ہیں، اسی دور میں ہم نے اپنی ایک ڈائری بنا رکھی تھی جس میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کی مختلف تصاویر جنہیں ہم مختلف اخبارات سے کاٹ کر گوند سے چسپاں کرتے تھے اور ان کے حوالے سے تحریریں تھیں۔ لہذا پی ٹی وی کے اس ڈرامے میں ہماری دلچسپی ایک قدرتی امر تھا۔

اس ڈرامے کی ریکارڈنگ کے حصول کے لئے ہم نے پی ٹی وی سے لے کر جی ایچ کیو تک ہر دروازہ کھٹکھٹایا، آخر کار پتہ چلا کہ یہ ویڈیو ریکارڈنگ آئی ایس پی آر سے ہی مل پائے گی۔ جھٹ پٹ ہم نے ڈائریکٹر آئی ایس پی آر کو خط لکھا، ان کی طرف سے جواب آیا کہ 250 روپے منی آرڈر کریں تو آپ کو مطلوبہ ویڈیو ارسال کر دی جائے گی، سو ہم نے سکول جاتے وقت ابو کی طرف سے روزانہ ملنے والی جیب خرچی سے کئی دن بعد 250 روپے اکٹھے کیے اور زندگی میں پہلی بار منی آرڈر کراتے ہوئے ان کی نذر کر دیے۔

چند دنوں بعد ہمیں گھر کے ایڈریس پر آئی ایس پی آر کی طرف سے ایک پیکٹ موصول ہوا جس میں ایک ویڈیو کیسٹ اور خط تھا۔ ہم اس خوشی اور مسرت کو کبھی نہیں بھول سکتے جب ہم نے منو بھائی کی دکان سے کرایہ پر وی سی آر لے کر وہ ڈرامہ دیکھا، وقت نے پلٹا کھایا تو وی سی آر کے ساتھ ساتھ ویڈیو کیسٹ بھی متروک ٹھہری۔ لہذا بدلتے وقت کے تناظر میں ویڈیو کیسٹ کی سی ڈی بنوا لی اور کیسٹ سنبھال کر رکھ لی کہ یہ ہمارے بچپن کی ایک خوبصورت یاد ہے۔ کیسٹ اور سی ڈی دونوں ہمارے پاس ابھی تک محفوظ ہیں۔

ڈرامہ دیکھنے کے بعد اب ہمیں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کا مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار سے ملنے کی چاہ ہوئی۔ پتہ چلا کہ موصوف کا نام سید ناصر شیرازی ہے، وہ باقاعدہ اداکار نہیں بلکہ پیشے کے لحاظ سے ایک صحافی ہیں اور لاہور میں رہتے ہیں۔ تین چار سال گزرنے کے بعد بھی ان سے ملنے کا اشتیاق مگر برقرار رہا۔

27 اکتوبر 1999 ء میں لاہور میں مقیم ہمارے چچا جان کی وفات ہوئی تھی تو ابا جی اپنی بیماری کے باعث نہ جا سکے تھے سو اپنی وفات سے تین ماہ قبل 6 ستمبر 2000 ء کو ابو اپنے چھوٹے بھائی اور ہمارے چچا جان حاجی رحیم بخش زاہد کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے ہمیں ہمراہ لے کر لاہور گئے، اس دوران لاہور میں ”نوائے وقت“ کے مرکزی دفتر بھی جانا ہوا۔ مجید نظامی صاحب کے علاوہ ماہنامہ ”پھول“ کے ایڈیٹر بھیا اختر عباس سے ملاقات ہوئی تو ہم نے بھولپن میں ان سے ”نشان حیدر“ میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کا کردار ادا کرنے والے ناصر شیرازی کا پتا پوچھ لیا، اس وقت تو ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے کہا کہ آج پھول فورم میں ہمارے مہمان ناصر شیرازی صاحب ہی ہیں، جو جنگ ستمبر اور ”نشان حیدر“ کے موضوع پر پھول ساتھیوں سے گفتگو کریں گے اور سوالوں کے جوابات دیں گے، لہذا آپ شام تک انتظار کریں۔

ابو کا اسی شام یعنی کہ 8 ستمبر کو اوچ واپسی کا ارادہ تھا، تاہم ہماری ضد کے آگے ہار مانتے ہوئے انہوں نے واپسی کا سفر دوسرے دن تک ملتوی کر دیا، اسی شام ہم دوبارہ نپکو ہاؤس گئے، مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا، آخر کار انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں، ناصر شیرازی صاحب تشریف لائے، شاندار شخصیت، وجاہت دھیما لہجہ، ان کی خوبصورت باتوں میں ایک گھنٹہ گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ اس کے بعد سوال و جواب کا سیشن شروع ہوا۔ بعد میں ہم نے آٹو گراف لیا۔

آج یہ یاد 21 سال پرانی ہو گئی ہے، ہمارے ابو اور اس محفل میں موجود بہت سے خوبصورت لوگ وقت کی قید سے پرے جا آباد ہوئے اور ہم ہجر کے پیڑ تلے اپنی باری کا انتظار کھینچ رہے ہیں۔ اتنا عرصہ بیت جانے کے باوجود میجر راجہ عزیز بھٹی شہید اور ناصر شیرازی سے وابستگی کا ناتا ٹوٹ نہیں سکا، ایک سے جذباتی وابستگی اور دوسرے سے رومانوی۔ دونوں ہمارے دل و دماغ میں خوشبو بن کر مہکتے اور جگنو بن کر دمکتے ہیں۔ تئیس چوبیس سال پرانی ویڈیو کیسٹ ابھی تک ہمیں اجڑی محفلوں اور کھو جانے والے پیاروں کے چاند چہروں کی یاد دلاتی ہے۔

ناصر شیرازی صاحب آج کل معاصر روزنامہ ”جہان پاکستان“ سے منسلک ہیں، 6 ستمبر کو واٹس ایپ پر ان کا میسج آیا کہ ”نعیم! پی ٹی وی ہوم پر میرا ڈرامہ“ نشان حیدر ”لگا ہے، دیکھ لو“ ۔ 6 ستمبر، ناصر شیرازی صاحب کا میسج اور ان کا ڈرامہ ”نشان حیدر“ اس بے ربط مضمون کا محرک بنے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words