کاروبار

سائیکالوجسٹ:کیا نام ہے آپ کا؟
:ابھی تو کوئی نام نہیں، جب ہوگا تو آپ کے کانوں تک بھی پہنچ جائے گا۔
سائیکالوجسٹ:کیا کرتی ہیں آپ؟
دن میں بہت سے کام ہوتے ہیں۔
سائیکالوجسٹ:کوئی دلچسپی والا کام؟
:لکھتی ہوں۔ یا کہہ سکتے ہیں لکھنے کی کوشش کرتی ہوں
سائیکالوجسٹ:کیا خاصیت ہوتی ہے آپ کے لکھے میں؟
:میرے لکھے کی یہ خاصیت ہے کہ یہ چوری تو ہوجاتا ہے لیکن شائع نہیں ہوتا
سائیکالوجسٹ:کون ہیں۔ خود (اپنے آپ کو) کو کیا سمجھتی ہیں؟
:بس اسی سوال کا جواب نہیں ملا
کتنی ڈگریاں ہیں آپ کے پاس؟

:۔ جو بھی ملتا ہے ، اپنے زاویئے سے پرکھتا ہے اور اک نئی ڈگری تھما کر چلا جاتا ہے۔ ڈگریاں مختلف۔ ، ان گنت اور بے شمار ابنارمل، ۔ مغرور، ضدی، متعصب، جاہل، ڈرپوک تو کبھی دیدہ دلیر۔ شدید مذہبی، اکڑو، لبرل وغیرہ۔ ہیں۔ مثلا

سائیکالوجسٹ:مضمون کون سا پڑھا؟
میں :ادب میں دلچسپی تھی، سائنس پڑھائی گئی، میتھس پڑھا رہی ہوں۔
سائیکالوجسٹ:بیسٹ فرینڈز ہیں؟
بہت کم۔ اتنے کہ ایک انگلی کے پوروں پہ گنتی ختم ہوجاتی ہے۔
سائیکالوجسٹ:کس انداز میں جینا چاہتی ہو؟
جینا چاہتی ہوں۔ انداز کوئی بھی ہو۔
سائیکالوجسٹ:کیا چیز پریشان کرتی ہے؟
سوچنا۔ بے تحاشا سوچنا۔ اس سے میرا دماغ وہ مسائل بھی ڈھونڈ لاتا ہے۔ جن کا سرے سے وجود ہی نہیں ہوتا۔
سائیکالوجسٹ:کیا سوچتی ہو؟
ٹھہریں! سوچ کے بتاتی ہوں۔
سائیکالوجسٹ:لوگوں کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہیں؟

:ہر انسان اپنے انداز سے خوبصورت ہے۔ بساوقات، ہم جس عدسے سے مقابل دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس کی صلاحیت اتنی اچھی نہیں ہوتی کہ وہ سامنے والے کے خوبصورت پہلووں کو آپ کے سامنے رکھ سکے۔ ایک بہترین محقق، بظاہر بھدی دکھائی دینے والی شے کو اس شے کی خرابی نہیں بتاتا۔ بلکہ عدسہ بدل کر یا صاف کر کے دیکھتا ہے۔ بس اسی لئے عدسہ بدل کر دیکھنے پر یقین رکھتی ہوں۔

سائیکالوجسٹ:لوگوں میں کیا شے کھوجتی ہیں؟

:وہ شے جسے کھوجنا چاہیے۔ میرے خیال سے وہ خلوص اور محبت ہے۔ اور انہیں دوسروں میں تلاشنا عبث ہے۔ آپ ہی بتائیے؟ کیا آپ کو اپنے لئے خود سے مخلص کوئی ملا؟ نہیں ناں! سو اسے خود میں کھوجتی ہوں۔

سائیکالوجسٹ:میرے پاس خود آئی ہیں یا لائی گئی ہیں؟
:خود آئی ہوں۔ میرا دل چاہتا تھا کہ کوئی اوٹ پٹانگ سے سوال کرے۔
سائیکالوجسٹ: ( ہنستے ہوئے ) یہ اوٹ پٹانگ سے سوال نہیں ہیں۔

:اچھا؟ ٹھیک دس سال بعد اگر زندگی رہی تو مجھ سے یہی سوال کیجیئے گا۔ آپ کو مختلف جوابات سننے کو ملیں گے۔ زندگی شاید کسی ایسے ہی تغیر کا نام ہے۔

سائیکالوجسٹ:نہیں۔ آپ کو اپنے ذہن میں کچھ الجھن محسوس ہوئی تب آپ آئیں یہاں۔ ہے ناں؟

(حالانکہ پچھلے ایک ہفتے سے اس کے پاس کوئی مریض نہیں آ رہا تھا۔ اور مجھے لکھنے کو کچھ دلچسپ نہیں مل رہا تھا۔ سوچا اس کا بھی بھلا ہو جائے۔ اور میرا بھی کام چل جائے )

:ہاں مجھے کچھ الجھن محسوس ہوتی ہے۔ جب میں اپنی غائب دماغی کے ہاتھوں خوار ہوتی ہوں
سائیکالوجسٹ:آپ کو کیسے پتہ چلا کہ آپ غائب دماغ ہیں؟

:تین فلورز کی سیڑھیاں چڑھتے، چوتھا فلور بھی پار کر جاتی ہوں۔ عینک ہاتھ میں لے کر سارے گھر میں ڈھونڈتی ہوں۔ بولتے ہوئے سامنے والے کو بھول جاتی ہوں۔ اور۔

سائیکالوجسٹ:کیا؟ بولتے ہوئے سامنے والے کو بھول جاتی ہیں؟ میں کون ہوں؟

:میں :وہ جس کی ”دکان“ پر پچھلے ہفتے سے کوئی نہیں آیا۔ (میں رحم کھا کر آ گئی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ ڈاکٹر کا بھلا سوچنے کی غرض سے دل کا آپریشن کروا لیں۔ )

یہ کیا کہہ دیا؟ اللہ!
دکان؟

:ہاں ناں دکان داری! جذبات و احساسات اگلوانے کی۔ لوگوں کو سننے کی دکانداری۔ وہ جنہیں کوئی نہیں سنتا انہیں سننے کی۔ میں :۔

سائیکالوجسٹ:اور تم؟ تم کیا کرتی ہو؟ لکھاری بھی تو یہی کرتے ہیں۔ لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔

: درست کہتی ہو۔ میں ان اگلے ہوئے، کچلے ہوئے، بے شکل، بے نور جذبات کو لفظوں میں پرونے کی ادھوری کوشش کرتی ہوں۔ فوڈ ویب میں ایک چھوٹی مچھلی کی طرح۔ بڑی مچھلی کا بچا ہوا سمیٹتی ہوں۔ تم اگلوا کے باہر پھنکواتی ہو۔ میں اگلوا کر ری سائیکل کرتی ہوں۔ ان لوگوں تک پہنچانے کے لئے جو اس کا باعث ہوں۔ خیر میں بہت حد تک نہیں تو کسی حد تک سچ بولتی ہوں۔ اور سچ یہ ہے کہ میں کچھ لکھنا چاہتی تھی۔ اسی لئے یہاں آئی۔

سائیکالوجسٹ:آہا! تو لکھو۔ وہ سب الٹے جوابات جو تم نے مجھے دیے۔ تمہاری نفسیاتی حالت کے پیش نظر ایک سائیکالوجسٹ ہونے کے ناتے میں تمہیں اگلا سیشن ریکمینڈ کروں گی۔ (دکانداری)

: میں :خیر۔ میں لکھوں گی۔ لیکن چونکہ میرے لکھے میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ شائع نہیں ہوتا تو آپ کی پبلسٹی اچھے سے نہیں ہو پائے گی۔ لیکن پھر بھی میں ضرور لکھوں گی۔ اللہ حافظ۔

”سائیکالوجسٹ (جلے بھنے انداز سے ) اللہ ہی حافظ۔ یہ کارڈ (نام و پتہ) لے جائیں، تاکہ دوبارہ کبھی اوٹ پٹانگ بولنے کا جی چاہے تو آپ بے دھڑک چلی آئیں“ (اس نے سرکے درد کی گولی نکال کر اپنی زبان پر رکھی)

Latest posts by عروج راؤ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words