شادی سے پہلے اور بعد

شادی سے پہلے

محبوب: جان تم آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔ بہت عمدہ سوٹ پہن رکھا ہے۔
محبوبہ: اس کا مطلب ہے تم کو میں خوبصورت نہیں لگتی۔
محبوب:جان! میں تو آپ کی تعریف کر رہا ہوں۔
محبوبہ: یہ میری تعریف نہیں بلکہ کپڑوں کی تعریف ہے۔

محبوب: میرے چاند:تم چاند ہو، چاند کب بد صورت لگتا ہے لیکن آج تم چودھواں کا چاند لگ رہی ہو۔ محبوبہ: مجھ سے بات مت کرو۔

محبوب: تم خواہ مخواہ ناراض ہو گئی ہو۔ جاناں جب تم روٹھ جاتی ہو تو مجھے سارا جہاں تاریک نظر آتا ہے۔ میرے چاروں طرف اک سناٹا سا ہو جاتا ہے۔ اور میری راتوں کی نیند حرام ہو جاتی ہے۔

محبوبہ: تو میں کیا کروں؟
محبوب: ایک دفعہ میری طرف دیکھو جان
کہ آئے زندگی میں رت بہا ر کی۔
محبوبہ: لیکن ایک شرط ہے۔
محبوب: کون سی
محبوبہ: تم مجھے شاپنگ کراؤں گے۔
محبوبہ: ٹھیک ہے جان

شادی کے بعد

میاں : میرے ساتھ زیادہ فلمی ڈائیلاگ نہ مارا کرو۔
بیوی: شادی سے پہلے تو آپ میری ہر بات مانتے تھے۔ اب کیا ہو گیا ہے۔
میاں : تم میری بیوی ہو محبوبہ نہیں۔
بیوی: بیوی کے کوئی حقوق نہیں ہوتے۔
میاں : پورے کر تو رہا ہوں کیا کمی ہے؟

بیوی: منے کے پیمپر ختم ہیں، باورچی خانے کا سارا سودا ختم ہے، آپ نے مجھے سردیوں کا کوئی سوٹ بھی نہیں دلوایا۔

میاں : تم بہت فضول خرچ ہو۔ جب دیکھو پیسے مانگتی رہتی ہو۔
بیوی: میں تو شروع سے ایسی تھی آپ کو معلوم نہیں تھا۔
میاں : معلوم تھا لیکن تمہاری خوبصورتی نے آنکھوں کے آگے پردے جو ڈال رکھے تھے۔
بیوی: کیا میں اب خوبصورت نہیں ہوں؟
میاں : بالکل چلتی پھرتی گیند لگتی ہو، کتنی موٹی ہو گئی ہو۔
بیوی: آپ مجھے شادی سے پہلے چودھویں کا چاند کہتے تھے۔
میاں : میں جھوٹ بولتا تھا۔ کہاں چاند کہاں تم

بیوی: ابھی کچھ دیر پہلے آپ نے خود کہا تھا کہ تم اتنی خوبصورت تھی کہ آنکھوں کے آگے پردہ آ گیا تھا۔ اب کہتے ہیں جھوٹ بولتا تھا۔

میاں : مجھے سونے دو تم بہت باتیں کرتی ہو۔
میاں کروٹ بدلتا ہے اور سو جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words