تحریک انصاف کی حکومت کے تین سال


تحریک انصاف کی بیساکھیوں پر قائم حکومت کے تین سال مکمل ہوچکے ہیں۔ اس حکومت کی ترجیحات اور عوام کی توقعات پر اگر نظر دوڑائی جائے۔ تو یہ بات عیاں ہوتی ہے۔ کہ کسی ایک شعبے میں بھی بہتر نتائج نہیں دیے جاسکے۔ اور نہ ہی عام آدمی کے مسائل میں کمی آئی ہے۔ اگلے دو سالوں میں بھی اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ کہ حکومت بہتر پرفارمنس دے سکے گی۔ اقتدار سنبھالنے سے پہلے ایک سو دن کے اندر اپنے اہداف حاصل کرنے کا اعلان کیا گیا۔ بعد ازاں وزیراعظم نے فرمایا۔ پہلا سال ذرا مشکل ہوگا۔ اور اس کے بعد آسانی ہی آسانی ہوگی۔ مگر اب فرمایا جا رہا ہے۔ نیا پاکستان بٹن دبانے سے نہیں بن سکتا۔

اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ موجودہ حکومت کم از کم تین سالوں کے بعد کچھ ایسے اقدامات تو اٹھاتی۔ جس کی وجہ سے معیشت میں بہتری نظر آتی۔ عوام کو ریلیف دینے کے لئے جامع کوشش تو کی جاتی۔ جہاں تک احساس پروگرام کا تعلق ہے۔ یہ پاکستان کے نچلے طبقے کی اکثریت کا احاطہ نہیں کرتا۔ اس پروگرام سے صرف چند لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ جو 22 کروڑ کی آبادی میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

2014 کے دھرنے میں جب بجلی کی قیمت آٹھ روپے فی یونٹ تھی۔ وزیراعظم نے بجلی کا بل سرعام جلا دیا تھا۔ آج بجلی اٹھارہ روپے یونٹ تک پہنچ چکی ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ ہم اب کیا کریں۔ کس سے فریاد کریں۔ کس کو اپنا دکھڑا سنائیں۔ اور کس سے منصفی چاہیں۔

انتخابات میں کسی سیاسی پارٹی کی کامیابی کا دار و مدار اس کے انقلابی منشور یا پروگرام پر ہوتا ہے۔ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور میں شامل انقلابی نکتے ”روٹی، کپڑا اور مکان“ نے ملک گیر مقبولیت حاصل کی تھی۔ جس کی وجہ سے پارٹی کی اقتدار کے ایوانوں تک رسائی ممکن بنی۔

تحریک انصاف نے بھی ملک کی نوجوان نسل کو اپنے ساتھ ملا کر سٹیٹس کو تبدیل کرنے کے علاوہ نوکریوں اور چھت مہیا کرنے کے نعرے کی بنیاد پر ووٹ حاصل کیے۔ مگر عوام اور خاص کر نوجوانوں کی امید پوری نہ ہو سکی۔ نوکریاں تو دور کی بات ہے۔ پہلے سے برسرروزگار افراد کو ملازمتوں سے برطرف کیا جا رہا ہے۔

حکمران شروع دن سے صرف ایک ہی نعرے ”چوروں کو این آر او نہیں ملے گا“ کو لے کر چل رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ایک بھی چور ابھی تک نہیں پکڑا گیا۔ جس کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ کچھ عرصے کے بعد وہ لمبی ضمانت پر رہا ہوجاتا ہے۔ مسلم لیگ نون کے سزا یافتہ قائد نواز شریف پلک جھپکتے ہی ضمانت پر رہا ہو کر لندن جا پہنچتے ہیں۔ آج کل وہاں وہ مختلف تقریبات میں شرکت کر کے حکومت کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں۔

موجودہ حکومت نے بیچارے پاکستانیوں کو چینی، آٹا اور دال روٹی کے چکروں میں ڈال دیا ہے۔ وزیراعظم صاحب کچھ عرصہ قبل فرمایا کرتے تھے۔ مہنگائی کی وجہ سے مجھے رات بھر نیند نہیں آتی۔ اب انہوں نے پاکستان کو دنیا کے کئی ممالک کی نسبت سستا ملک قرار دے دیا ہے۔ لوگ خان صاحب کے تیزی سے بدلتے ہوئے بیانات پر خاصے حیران ہیں۔ دراصل انہیں خود بھی پتہ نہیں ہوتا کہ انہوں نے کل کیا فرمایا تھا اور آج کیا کہہ رہے ہیں۔ ممتاز کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں عمران خان کے بارے میں لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں فیصلے کرنے اور پھر فیصلے واپس لینے کی جو حیران کن صلاحیت ودیعت کر رکھی ہے وہ پاکستان تو کیا پورے ایشیا کے کسی دوسرے لیڈر میں موجود نہیں۔

پاکستانی معیشت کا سارا دار و مدار آئی ایم ایف پر ہے۔ کیوں کہ پاکستان کے دوست ممالک ہم سے ناراض ہیں۔ آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر قرضہ لینے کا تاوان قوم کو اٹھانا پڑھ رہا ہے۔ بجلی کے بلوں میں پہلے ہی ہوشربا اضافہ کیا جا چکا ہے۔ مگر اب حکومت بلوں کے سلیب میں رد و بدل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کی وجہ سے 200 سے 300 یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑھے گا۔ یہ اضافہ آئی ایم ایف کے اشارے پر کیا جا رہا ہے۔

حکومتی وزرا اور ترجمان حضرات مہنگائی اور معیشت کی تنزلی کی وجہ سابقہ حکومتوں کو قرار دیتے رہتے ہیں۔ لیکن سابقہ حکومتوں کے دور میں جو کام ہوئے تھے۔ ان کی جھلک واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔

بعض تجزیہ کار عمران خان کو اگلے دس سال تک ملک کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاکہ وہ نیا پاکستان بنا سکیں۔ مگر خان صاحب کے مخالفین کو ان کی موجودہ پانچ سالہ مدت کی تکمیل بھی ایک آنکھ نہیں بھا رہی۔ اپوزیشن کی یہ خواہش ہے کہ کسی طرح اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں عام انتخابات ہو جائیں۔

دوسری طرف عمران خان کے پاس عام انتخابات میں جانے کے لئے کوئی متاثرکن کارکردگی بھی نہیں ہے۔ جس کی بنیاد پر عوام ان کو ووٹ دیں گے۔ اسی لئے شاید وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹوں کو تحریک انصاف کی کامیابی کی کنجی تصور کرتے ہیں۔ دوسری طرف مگر اپوزیشن جو پچھلے انتخابات میں آر ٹی ایس کے بیٹھ جانے کے صدمے سے ابھی تک باہر نہیں نکل سکی۔ وہ EVM کے استعمال کو کسی صورت میں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ مزے کی بات مگر یہ ہے۔ کہ الیکشن کمشن آف پاکستان نے بھی ووٹنگ مشین کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وفاقی وزرا سیخ پا ہو کر الیکشن کمشن پر بے سروپا الزام تراشی کر رہے ہیں۔

آخر میں اگر وزیراعظم عمران خان کی اب تک کی پرفارمنس کا جائزہ لیا جائے۔ تو بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ وہ مثالی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ جاپان یا برطانیہ جیسے ممالک میں اگر وزیراعظم ایک مخصوص عرصے کے دوران بہتر پرفارم نہ کرسکے۔ تو پارٹی اسے تبدیل کر کے نیا چہرہ میدان میں اتار دیتی ہے۔ مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں وزرا، سیکرٹریز، آئی جیز وغیرہ تبدیل کرنے کی روایت تو موجود ہے۔ مگر لیڈر آف ہاؤس کرسی نہیں چھوڑتا۔ خواہ وہ کتنا ہی نا اہل کیوں نہ ہو۔ بلکہ وہ دوبارہ منتخب ہونے کے لئے ہر حربہ اختیار کرتا ہے۔ بقول شاعر،

چھٹتی نہیں منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words