نیو ہاسٹل الوداع

نیو ہاسٹل واجد علی شاہ کے پری خانے سے کسی طور کم نہیں۔ اس میں مردان خوش خصال، مردان خوش خیال، مردان خوش ادا، مردان خوش نوا، مردان خوش رو، مردان خوش گلو اور مردان خوش ذہن پائے جاتے ہیں۔ اس پری خانے میں چار برس اس قدر جلدی سے بیت گئے کہ دیوانوں کو کچھ خبر ہی نہ ہوئی۔ چار برس قبل یہاں وارد ہوئے اور اب حالت پا تراب میں ہیں۔ یہاں گزرا ہوا وقت صرف سنہری یادیں ہی نہیں بلکہ گنج ہائے گراں مایہ ہے جو ہم سب اپنے سینوں میں سمیٹے جا رہے ہیں۔ وہ بزم آرائیاں، وہ رزم آرائیاں، وہ صحبت یاراں، وہ جلوت کے جلیس، وہ خلوت کے انیس سب بکھر رہے ہیں اور بزم یاراں برخاست ہونے کو ہے۔ جب خیال الگ الگ ہونے کی طرف جاتا ہے تو سینے پہ سانپ سا لوٹ جاتا ہے مگر کیا کیجیے انتقال لازم ہے۔

ہم خاقانی نیو ہاسٹل تو نہیں جو قصیدہ نویسی یا قصیدہ طرازی و تراشی کریں البتہ اس استھان سے جڑی ہوئی چند یادوں کو سمٹنے نیم پختہ سی کوشش کر رہے ہیں کہ شاید خیالات کے منہ زور جذبات کو قرار آ جائے۔ نیو ہاسٹل نہ تو الوہی شان کا حامل ہے اور نہ ہی فریدوں کا دربار مگر ان سب کے باوجود یہ بہت کچھ ہے اس لیے ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ یہ یادوں کا تاج محل ہے اور نستعلیق و منخنی صحبتوں کا قلعہ۔ جب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور میں داخلہ ہوا تو نیو ہاسٹل میں قیام کے لیے جستجو ہوئی جس کے لیے خاصی دوڑ دھوپ اور تگ و دو کرنا پڑی۔

خوبیٔ قسمت کہ اقامت گاہ میں قیام کے لیے کامیاب ہونے والے طلباء کی پہلی ہی فہرست میں نام بھی آ گیا۔ پہلی ہی بار میں داخلہ مل جانا نعمت غیر مترقبہ سے کسی طور کم نہ تھا۔ ویسے ساز باز کر کے نیو ہاسٹل میں داخلہ لے لینا بھی کوئی جوکھوں کا کام نہیں، خیر یہ جملۂ معترضہ تھا۔ جب ہمیں اس اقامت گاہ میں قیام کا پروانہ ملا تو ہمارے پیر زمین پہ ہی نہ لگتے تھے۔ ہاسٹل میں مستقل قیام سے پہلے ہمیں مخاطبے (Interview) کی چھلنی میں سے گزرنا پڑا۔

اس وقت خادم علی خان نیو ہاسٹل کے مدار المہام تھے۔ اللہ ا اللہ، ان کا کیا طنطنہ تھا۔ کیا رعب تھا۔ اپنی پیری میں بھی جوان ارشق معلوم ہوتے تھے۔ ٹانگ میں لنگ کے باوجود ان کے رعب کا حسن ہرگز شرماتا محسوس نہ ہوتا۔ چہرہ خشونت زدہ اور آواز گرجدار۔ ان کی آواز کی اک گرج سے طلباء کے پیروں تلے زمیں نکل جاتی۔ غصہ میں ایسے معلوم ہوتا کہ رعد کڑک رہی ہے مگر اتنے ہی مشفق البتہ اشک بلبل جتنے غم گسار اور مانند ناف آہو دل دردمند رکھتے تھے۔ مامتا کا جذبہ محض کھلاڑیوں کے لیے رکھتے تھے آخر رکھتے بھی کیوں نہ خود بھی تو جوانی میں قومی سطح کے ہاکی کے کھلاڑی رہ چکے تھے۔ آپ کے جانے کے بعد کھلاڑیوں کا کوئی بھی تو پرسان حال نہیں رہا۔ یہ در نایاب و در جفاکش اب تک خان صاحب کے لیے آٹھ آٹھ آنسو بہاتے ہیں۔

خادم علی خاں صاحب کا عہد ختم ہوا تو ڈاکٹر عقیل امتیاز واہگہ نیو ہاسٹل کی مسند مدارالمہامی پہ سریر آراء ہوئے۔ ہمارا تعلق بھی شعبۂ معاشیات سے تھا اور آپ ہمارے شعبے کے نامور اساتذہ میں سے تھے۔ غیر ملکی تعلیم گاہوں اور علم کدوں سے اکتساب علم کے کرنے بعد آپ اپنے ساتھ دانش فرنگ لائے اور نیو ہاسٹل کے لیے سر سید احمد خاں ثابت ہوئے۔ آپ کے اندر ترحم کا مادہ بے پناہ بلکہ بدرجۂ اتم تھا اور اک نہایت منجھے ہوئے منتظم تھے۔

مگر یہ اصلاح کار، کبوتران گرہ باز کی شعبدہ بازیوں کا شکار ہو کر کچلا گیا یا کچل ڈالا گیا وا اللہ عالم با الصواب۔ آپ کے جانے کے بعد اس اقامت گاہ کی مدار المہامی کی مسند پہ ڈاکٹر بابر عزیز متمکن ہوئے۔ پہلے ہوسٹل میں جگہ جگہ دفتر کے آگے دربان اور حاجب نظر آتے تھے آپ کے آتے ہی سب داخل دفتر ہوئے۔ آپ بے حد ملنسار، طلباء پرور، شستہ اور پختہ ذہن کے مالک ہیں۔ قد کاٹھ کے لحاظ سے بقامت کہتر بقیمت بہتر مگر علمی قد کے لحاظ سے گنبد فلک سے ہمسری کرتے ہیں۔

نہایت طباع اور برق دماغ ہیں، بلیغ سیاسی شعور کے حامل ہیں، نکتہ ور اور تہہ رس بھی ہیں۔ ذہانت و فطانت کی بجلیاں آپ کے چہرے پہ کوندتی نظر آتی ہیں۔ البتہ نیو ہاسٹل کی جلالت، تمکنت، شان دل آرائی و دل ربائی آپ کی سرپرستی میں ماند پڑتی ضرور محسوس ہوئی۔ مظفر علی سید کی مانند نیو ہاسٹل کی یادوں کو سمیٹنا جگنو پکڑنے کے مرادف ہے جس کا نہ تو ہم میں حوصلہ ہے اور نہ ہی سلیقہ۔ البتہ یادوں کی زنبیل سے کچھ کچھ مخملی پھول اور جواہر ریزے ضرور چن سکتے ہیں۔ اس احمریں عمارت اور اس سے وابستہ یادوں کا ذکر پشمینے کی شال میں ریشم کے تار بننے کے مصداق ہے۔

نیو ہاسٹل سے جڑے ہوئے ملازمین بھی اسی کی مانند ہیں۔ کچھ نہایت پختہ کار، فرض شناس اور کچھ بے حد گرہ کٹ۔ اس اقامت گاہ کی آواز اس کا حجام ہے۔ ان کو دیکھ کر، برت کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ الف لیلہ کا حجام پھر سے زندہ ہو گیا ہے، ویسا ہی کن رس، کن سو اور نطق و زباں ہمہ وقت تر۔ علاوہ ازیں ہم نے یہاں دو چند ملازمین کو وقت آخر میں گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے بھی دیکھا، انھیں ہمیشہ زبان تہہ زبان داشتن پہ کاربند پایا اور ہر وقت خرقۂ سالوس زیب تن کیے دیکھا۔

یادوں کو کریدنا اور اس کے گنجینے سے طرح طرح کے لولو و مرجان و زمرد و احمر و پکھراج چننا ہمیشہ سب کے لیے طرب افزاء رہا ہے اور یہ اک طرب کیش عمل ہے بھی۔ نیو ہاسٹل رنگا رنگ پھولوں کا گلدستہ ہے جس میں ہر نوع کے طالب علم پائے جاتے ہیں۔ اس میں موجود خواب گاہیں گوناں گوں خیموں، الگ الگ مگر دیدہ زیب مکانوں کا نظارہ پیش کرتی ہیں۔ کوئی خواب گاہ غالب کا بلی ماراں کا مکان بنی ہوئی ہے تو کوئی میر کا مکان، کوئی آتش کا اکھاڑہ تو کوئی مومن کی حکمت کی دکان، کوئی سودا کا گھر تو کوئی ذوق کا محل، کوئی شیفتہ کا دولت کدہ تو کوئی مفتی صدرالدین آزردہ کا کتب خانہ۔

جب ان یادوں اور گزرے ہوئے لمحوں کا نقشہ آنکھوں کے سامنے کھینچتا ہے تو دل سے اک ہوک سی اٹھتی ہے۔ یہ اقامت گاہ حقیقت میں اک آشیانہ ہے۔ اس آشیانے سے نکلتے وقت یہی محسوس ہو رہا ہے کہ ہم نے تو ابھی اڑنا سیکھا بھی نہیں اور ہمیں اڑنا پڑ رہا ہے۔ وہ بھی اس شہر میں جہاں ہم جہانگیر کی مانند کس شان کج ادائی سے اتراتے ہوئے چلا کرتے تھے، پاؤں کا چکر تھمنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ ہر اتوار، مال روڈ پر کتابوں کی خریداری کے لیے جانا، سری پائے اور حلوا پوڑی کے ناشتے کے لیے لاہور کی گلیوں کی خاک چھاننا۔

اک کٹار سی سینے پہ چلتی محسوس ہوتی ہے۔ یاروں کے زندہ اور ساتھ ساتھ رہنے ہی سے صحبت گرم رہتی ہے مگر جب یار ہی نہ رہیں تو صحبتوں کو بھی رنجک چاٹ جاتی ہے۔ ان صحبتوں کے محل، کھنڈر ہو جاتے ہیں جن میں بعد کو الو بولتے ہیں۔ مگر یہی اکٹھ جب ہاسٹل میں قیام کے دوران ہوتا تو اس کے بالکل متضاد ہوتا۔ کبھی یہ بلو کیفے کے سامنے آسن جمائے ہوئے ہے تو کبھی مسجد کے پائیں باغ، سبزہ زار میں برگد کے درخت تلے۔ کوئی اس میں یوسف کارواں بنا بیٹھا ہے، کوئی صلصل، کوئی شامہ تو کوئی بلبل ہزار دستاں۔ یہاں کا مطبخ خانہ اور کھانا اوسط درجے کا ہے۔ بقول شخصے، جتنا عمدہ سامان مہیا کیا جائے گا اتنا ہی اعلی کھانا بنے گا۔ عقلمند را اشارہ کافی است!

دربار اکبری میں جو اوج شیخ مبارک کے دو ہونہار فرزند ابو الفضل اور فیضی کو ملا وہ کم کم ہی کسی کو ملتا ہے اور یہ دونوں اب تک تاریخ میں زندہ ہیں۔ یہ لعل و گہر انتہائی باکمال اور سحر آگیں شخصیت کے حامل تھے۔ فیضی کی انشاء پردازی اور قلم کے آگے بڑے بڑے ادباء و فضلاء و شعراء و علماء کے قلم کانپتے تھے البتہ نیو ہاسٹل کے دو برادر معمولات زندگی میں ابوالفضل اور فیضی کے علی الرغم ہیں، بالکل متضاد ہیں اور یہ نیو ہاسٹل کی انگشتری میں میں نگینے کی مانند بیٹھ چکے ہیں۔

کورونا نے اس دنیا کو خوب لتاڑا ہے اور اب تک لتاڑ رہا ہے۔ اس کی زد نیو ہاسٹل اور اس کے تمدن پہ اتنی کاری پڑی کہ یہ اب تک اس سے جانبر نہیں ہو سکا۔ یہ تمدن کورونا کے خنجر تلے اب تک تڑپتا ہے۔ کورونا کی پہلی لہر جب ساحل سے ٹکرا کر واپس مڑی توجاتے جاتے اس اقامت گاہ میں اک نہایت آبدار موتی کو اگل گئی جس کی چمک سے ہر اک آنکھ خیرہ ہو گئی، بلکہ چندھیا گئی، اور اب تک ہو رہی ہیں۔ یہ آبدار موتی، فتنہ قامت، بیاض گردن اور فتاں چشم ہے۔ نیو ہاسٹل کی آفتابی ہے۔ شام اودھ کی نوبہار اور یہ اک دوسرے کا پرتو ہیں۔

اس اقامت گاہ کی غلام گردشوں اور راہ داریوں میں اک سحر ہے، اک ٹھہراو، اک سکوت ہے۔ چاندنی راتوں میں جب چاندنی چھن چھن کر، اس کی قوسی و محرابی چوکھٹ اور مدور جالیوں سے گزرتی تو دل کے چکور پرواز بھرنے لگتے اور قلب میں خاموش سمندر موجزن ہو جاتا۔ اب بھی ہم گہری شب، شب دیجور، میں برآمدے میں بیٹھے یہ سطریں سپرد قلم کر رہے ہیں اور سامنے مسجد کے پائیں باغ میں یاروں کی اک ٹولی براجمان ہے۔ شبنم قطرہ قطرہ ٹپک کر زمین کو بھگو رہی ہے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے اور اسی ہوا کے دوش یادیں بہہ رہی ہیں اور دوسری طرف تین دوست، بانہوں میں بانہیں ڈالے، ہاتھوں میں ہاتھ پیوست کیے ٹہل رہے ہیں۔ مگر ثبات اک تغیر ہی کو ہے۔ یہاں سے چلے جانے کے بعد یہ اقامت گاہ اک خواب ہی تو بن کے رہ جائے گی جس کی خواب ناک سرد راتیں یاد آیا کریں گیں۔

مکین چلے جاتے ہیں مگر مکان ٹھہر جاتا ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words