صدیق اعوان صاحب: شخص ہفت رنگ

گرمیوں کی ایک چلچلاتی دوپہر، مین بلڈنگ کے وکٹورین طرز کے برآمدوں میں سے گزرتے ہوئے، کچھ ہی لمحوں بعد اک قد آدم دروازے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ دروازے پہ ہاتھ رکھتے ہی اس میں جنبش ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا ایک پٹ، چڑچڑاہٹ کی آواز پیدا کرتے ہوئے جا کھلا۔ وہ ایک پرانی طرز کا دفتر تھا۔ جس کی دیواروں تک سے کہنگی ترشح تھی۔ سامنے کرسی پہ بیٹھے اقبال شاہد صاحب اپنی ساتھی اساتذہ سے

Read more

گورنمنٹ کالج، لاہور میں اک عشائیے پہ کی گئی تقریر

سب سے پہلے اپنے ہم جماعت و ہم سبق طلباء، جن کا شیرازہ اب بکھرا چاہتا ہے، کا شکریہ ادا کرنا چاہوں جنہوں نے اس خاک بسر کو شعبۂ معاشیات کے سالانہ عشائیے پر شہنشاہ ہند، اکبر اعظم کے علم کدے سے بڑھ کر سماعت گاہ میں آپ سب سے گویا ہونے کا موقعہ دیا۔ بالخصوص رضوان، افضال، عبدالقدیر اور انوشہ جنہوں نے لب کشائی کے لیے ہمت بندھائی ورنہ من آنم کے من دانم۔ آپ سب فاضل حضرات کی

Read more

نیو ہاسٹل الوداع

نیو ہاسٹل واجد علی شاہ کے پری خانے سے کسی طور کم نہیں۔ اس میں مردان خوش خصال، مردان خوش خیال، مردان خوش ادا، مردان خوش نوا، مردان خوش رو، مردان خوش گلو اور مردان خوش ذہن پائے جاتے ہیں۔ اس پری خانے میں چار برس اس قدر جلدی سے بیت گئے کہ دیوانوں کو کچھ خبر ہی نہ ہوئی۔ چار برس قبل یہاں وارد ہوئے اور اب حالت پا تراب میں ہیں۔ یہاں گزرا ہوا وقت صرف سنہری یادیں

Read more

ہیلتھ ورکرز کے ہاتھوں ویکسین کا قتل

سب سے زیادہ گندگی نچلے طبقے میں پائی جاتی ہے۔ اس ذہنی گندگی سے خلاصی کسی طرح ممکن نہیں۔ ان تہتر سالوں میں عوام کا شعور بلیغ ہو نہیں سکا۔ یہ تو ابھی تک کلکاریاں مار رہا ہے۔ نا اہل اول ہمارے عوام ہیں اور پھر حکمران۔ کورونا نے جس شدت سے دنیا اور نظام دنیا کو تلپٹ کیا ہے اہل ہوش اس سے بخوبی واقف ہیں۔ کورونا نے دوبارہ سے پھنکارنا شروع کر دیا ہے مگر ہمارے عوام ہیں

Read more

پطرس بخاری کا خط

پیارے اور عزیز از جان، عدیل! سلام مسنون، ویسے تو تم جانتے ہو کہ میں رسوم و قیود کا بالکل بھی پابند نہیں، کیونکہ میرا خیال ہے جو دماغ رسوم و قیود کا پابند ہو اس کی آزادی بلکہ دماغی آزادی سلب ہو جاتی ہے۔ قیود دماغ کبھی بھی ادب میں طرائے امتیاز کے علمبردار نہیں ہو سکتے، طرۂ امتیاز کے حامل نہیں ہو سکتے اور نہ ہی بڑا ادب پیدا کر سکتے ہیں۔ خیر تفنن بر طرف، سنا ہے

Read more

مٹتے ہوئے نقوش

بابو دینا ناتھ، جو کہ آزادی سے پہلے نکلنے والے اخبار ہندوستان کے اڈیٹر و مالک تھے، کا تعلق حافظ آباد سے دس میل دور گاؤں چبہ سندھواں سے تھا۔ حافظ آباد کی زرخیز زمین نے دو نامور اور دبنگ صحافی پیدا کیے ہیں، بابو دینا ناتھ اور دیوان سنگھ مفتون۔ دینا ناتھ جی اور مفتون جی اپنے وقت کے نہایت روشن خیال اور انسان دوست صحافی تھے۔ اخبار ہندوستان کی اشاعت اس وقت اردو اخبارات میں سب سے زیادہ

Read more

خالد ہمایوں : علم و ادب کا کوزہ گر

اک روز ڈاکٹر تبسم کاشمیری کی معیت میں علم کی وادیوں، سبزہ زاروں اور منطقوں میں گھوم رہا تھا کہ ان کے منہ سے مولانا فیض الحسن سہارنپوری کا نام سنا۔ یہ نام کچھ نیا تھا۔ پہلے کبھی سننے میں نہ آیا مگر تبسم صاحب، مولانا کا ذکر جس عقیدت و مودت سے کر رہے تھے یوں محسوس ہوتا گویا آپ ان کے سامنے زنوائے تلمذ تہہ کر چکے ہوں۔ حسن اور عشق اک دوسرے سے ملتے نظر آ رہے

Read more

نیو ہاسٹل اداس ہے

اب کے بار بھی بہار چپکے چپکے، دبے پاؤں، خاموشی سے گزر رہی ہے۔ پھول کھل رہے ہیں۔ کھل کھل کر فضاؤں کو عطر بیز کر رہے ہیں۔ خوشبوئیں، ہواؤں کے سنگ رامش و رنگ کے محفلیں برپا کر رہی ہیں۔ مگر بہار آشنا کوئی بھی نہیں۔ وباء، خدرین (vaccine) آنے کے باوجود چرکے لگانے سے باز نہیں آ رہی۔ لوگوں کو چاٹتی چلی جا رہی ہے۔ خدرین، اس قہرناک، الم ناک، درد ناک، اندوہ ناک وبا کے سامنے سد سکندری قائم کرنے سے لڑکھڑا رہی ہے۔ تعلیمی ادارے حالت گومگو میں سفر کر رہے ہیں۔ کبھی کھل جاتے ہیں اور کبھی بند۔ آج سے چند ماہ قبل جب تعلیمی ادارے کھلے، تو یوں محسوس ہوتا کہ رونق لوٹ آئی ہے۔ مسرتیں زقند بھرنے کو ہیں۔ خوشیاں سب کی خواب گاہوں، کمین گاہوں میں نقب لگا رہی ہیں۔

Read more

کچھ گورنمنٹ کالج اور کچھ نیو ہاسٹل کے بارے میں

گورنمنٹ کالج، لاہور بے پناہ خوبیوں کا مرقع ہے۔ اس میں آپ کو دیکھنے کو بہت کچھ مل سکتا اگر آپ دیدۂ بینا رکھتے ہیں۔ ہر ادارہ اپنے لوگوں سے پہچانا جاتا ہے، اس لیے ذکر ان لوگوں کا جو گورنمنٹ کالج لاہور آئے، ان لوگوں کے لیے، جو اس درگاہ میں آنا چاہتے ہیں اور وہ جو اس ہنگامے کو چاہتے نہ چاہتے ہوئے، آنکھیں بند کیے ہوئے یا چشم وا کیے ہوئے برداشت کر رہے ہیں۔ آپ گاڑیوں

Read more

شورش کاشمیری کی کتاب: اس بازار میں

شورش کاشمیری صاحب کا آہنی قلم بھی اک تند و تیز طوفان کی مانند تھا۔ جس بھی چٹان سے، جس بھی کوہ سے ٹکرایا اس کو پاش پاش کیا۔ آپ کا قلم بذات شورش تھا مگر باطل کے خلاف۔ تقریر اتنی جادو اثر کہ چلتی ہوائیں رک سی جاتی تھیں۔ راہوں سے بہک بہک سی جاتیں تھیں۔ صرصر، صبا ہو جاتی تھی۔ اذہان میں بسی کائنات اتھل پتھل ہو جاتی تھی۔ آپ کا قلم لؤلؤ، مرجان، شب چراغ اور زمرد

Read more

اک شخص مجھی سا تھا

سنتوش آنند کا معاملہ کچھ الگ ہے۔ بکھرا بکھرا سا۔ درد کی ردا میں لپٹا ہوا۔ ان کے الفاظ، احساسات، کلیجے میں پیوست سے ہو کر رہ گئے، ”میں نے سوچا اپنی کویتا کے ذریعے دنیا کو رام کروں گا، دنیا کی رگوں میں خون کی طرح دوڑوں گا مگر، میں غلط نکلا۔“ کتنا درد ہے جو ان محولہ بالہ فقرات کی تہہ میں بہہ رہا ہے۔ تراٹیں مار رہا ہے۔ نصر اللہ خاں صاحب کو کون نہیں جانتا۔ صحافتی

Read more

گورنمنٹ کالج لاہور کی اک مستانی: زارا شاہ

کاسۂ سر میں نرگسی و مخموری چشم ایسے نظر آتے جیسے شراب میں گل نرگس تیر رہے ہوں۔ دلوں میں ترازو ہو جانے والی سرمئی نظریں۔ کجلے نین ایسے محسوس ہوتے جیسے کاجل گرا ہو۔ صندلی و کستوری رنگ۔ زیرہ سی ناک، سیاہ ریشمی گھنے مگر کترواں بال۔ کمان کی مانند کھنچے ہوئے گیسو۔ انتہائی خوش پوش۔ چھبیلی و البیلی چال۔ لیلیٰ سے عارض۔ موزوں قدوقامت۔ ناک پہ چشمہ سجائے ہوئے۔ جب دیکھو کتاب میں ڈوبی ہوئیں۔ دلکش و دامن

Read more

حامد ڈار: گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا نیرِ تاباں

اگر اس آفرینش میں محبت، عشق، جنوں اور وفاداری کا کوئی روپ ہوتا تو وہ آپ ہوتے، اگر وفاداری کا کوئی بحر، جنوں کی کوئی حکایت اور عشق کا کوئی حسن ہوتا تو وہ آپ ہوتے، اگر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا کوئی نیر، نیر تاباں ہوتا تو بے شک و شبہ وہ حامد ڈار صاحب ہوتے۔ چھریرا بدن، درمیانہ قد، روشن آنکھیں، ڈھلکی ہوئی پلکیں، بید مجنوں کی مانند لرزاں بدن، جھری دار چہرہ، چوڑی پیشانی، انتہائی پاٹ دار آواز،

Read more

گورنمنٹ کالج لاہور کی آواز خاموش ہو گئی

دن۔ دن۔ ٹاتا۔ ٹاتا کی آوازیں طبلے کی تھاپ سے اچھل اچھل کر کمرے کو موسیقی سے معطر کر رہی ہیں۔ پاس ہی بیٹھا کوئی ہارمونیم بجا رہا ہے۔ طبلہ دو ماترے سے چار ماترے، آٹھ ماترے اور پھر سولہ ماترے پر خروشاں ہے۔ اتنے میں کسی نے سر اٹھایا، سرگم الاپی اور سر یہ کومل سے رکھب ہوا۔ سرگم، تان اور الاپ بلند ہوا ، ساتھ ہی طبلہ بجنا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے بنسری بھی چہکی۔ اتنے

Read more