مر تو میرا گھوڑا بھی گیا تھا

کسی علاقے کے رہنے والے دو زمیندار گہرے دوست تھے۔ دونوں گھوڑوں سے بہت شغف رکھتے تھے۔ ایک صاحب کا گھوڑا بیمار ہوا تو ان کو یاد آیا کہ کچھ عرصہ پہلے ان کے دوست کا گھوڑا بھی بیمار ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے حبیب سے گزارش کی کہ وہ طبیب کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے گھوڑے کے لئے وہ دوائی تجویز کریں جو ان کے گھوڑے کو دی گئی تھی۔ زمیندار صاحب نے دوائی بتا دی۔ دوائی گھوڑے کو دی گئی۔ گھوڑا بہتر ہونے کی بجائے کچھ عرصے میں وفات پا گیا۔ متوفی کے مالک نے دوست کو بتایا ان کا گھوڑا تو دوائی کھانے کے بعد مر گیا۔ جواب ملا ”مر تو میرا گھوڑا بھی گیا تھا“ شدید حیرت سے پوچھا گیا کہ آپ نے یہ پہلے تو نہیں بتایا تھا۔ جواب ملا پہلے آپ نے پوچھا ہی نہیں تھا آپ نے دوائی کا پوچھا جو آپ کو بتا دی گئی۔

پرانے دور کے بزرگ بہت زیرک ہوتے تھے۔ بہت اچھے مشورے دیتے تھے۔ بچوں کو کسی تعلیمی ادارے میں داخل کرواتے ہوئے یہ نصیحت کرنا کبھی بھی نہیں بھولتے تھے کہ تھوڑا پڑھنا۔ پڑھائی کی تاثیر گرم ہوتی ہے۔ بندہ زیادہ پڑھنے لگ جائے تو پڑھائی سر کو چڑھ جاتی ہے اور بندہ پاگل ہو جاتا ہے ۔ پڑھائی کی تاثیر بھلے گرم ہوتی ہو، لیکن پڑھائی نہ کرنے کی وجہ سے ہونے والی رسوائی بندے کو ساری زندگی گرم ضرور رکھتی ہے۔ دور طالب علمی میں بندہ اگر حصول تعلیم میں سرگرم نہ ہوتو پھر ساری زندگی معاشرے کا رویہ اس کے سر کو گرم رکھتا ہے۔

مشورہ تو ایک دوست نے دوسرے کو بھی بہت خیرخواہی کا دیا۔ جب نیا نیا سی این جی (CNG) کا زمانہ آیا تو میرے ایک دوست اپنی گاڑی میں سی این جی سیلنڈر لگوانے کے معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔ ایک خیر خواہ نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ فلاں کمپنی کا سلینڈر لگوا لیں۔ کمپنی والے عمر بھر کی وارنٹی دیتے ہیں۔ ہمارے دوست ان کی بات سن کر بڑے حیران ہوئے کہ کسی چیز کی عمر بھر کی وارنٹی کیسے ہو سکتی ہے؟ اس بابت اپنی حیرت کا اظہار انہوں نے سوالیہ انداز میں کیا۔ جواب ملا سیلنڈر پھٹے گا، آپ دنیا میں رہیں گے ہی نہیں۔ آپ کی عمر اور سلینڈر کا خاتمہ ایک ساتھ ہوگا تو وارنٹی عمر بھر کی ہوئی نا۔

جب کہیں مشورہ دینے کا ذکر آئے تو گیدڑ کی کہانی یاد آنا لازمی ہے۔ کہتے ہیں کسی جنگل میں ایک گیدڑ کو بڑی تشویش لاحق رہتی تھی کہ اس کا حلیہ تو شیر اور چیتے جیسا ہے مگر لڑائی کے میدان میں اس کی کارکردگی اتنی تسلی بخش نہیں رہتی۔ چند سمجھدار دوستوں نے مشورہ دیا کہ شیر اور چیتا جب لڑتے ہیں تو ان کی دم لڑائی کے وقت کھڑی اور سخت ہوتی ہے اور یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔ ایک دن گیدڑ صاحب اپنے زعم میں چیتے سے الجھ پڑے۔ خیرخواہوں نے اشارہ کیا کہ آج آپ کی فتح کا دن ہے۔ چیتے کی پہلی ضرب نے دھول چٹا دی اور گیدڑ صاحب دم دبا کر بھاگے۔ بعد میں سب کو بتاتے پھرے کہ انہیں مشورہ دینے والوں نے مروایا ابھی ان کی دم کھڑی نہیں ہوئی تھی۔

مشورہ تو ہمارے دوست ضیا ذوالفقار تراش نے بھی اپنے ایک گاہک کو دیا تھا جو عرصہ دراز سے اس سے بال کٹوائے جا رہا تھا اور ادھار پہ ادھار کیے جا رہا تھا۔ وہ نہ صرف بال کٹواتا تھا بلکہ بالوں کو رنگ بھی کرواتا تھا۔ ایک دن ان صاحب نے بڑے متفکرانہ لہجے میں ضیا سے کہا کہ یار جو رنگ آپ میرے بالوں کو لگاتے ہو وہ جلد ہی اتر جاتا ہے۔ اس دفعہ کوئی ایسا رنگ لگاؤ جو ذرا لمبا چلے۔ ضیا نے جل کر مشورہ دیا کہ آپ تھوڑی اپنے دل کی سیاہی بالوں میں لگانے کے لئے مجھے دے دیجئے۔ امید ہے ساری زندگی آپ کو دوبارہ بالوں کو رنگ کروانے کی حاجت پیش نہیں آئے گی۔

ہمارے ایک دوست ولایت سے کافی پیسے کما کر وطن واپس آئے تو ان کو الیکشن لڑنے کا شوق ہوا۔ آدمی نہایت سمجھدار تھے۔ الیکشن لڑا اور اپنے خیر خواہوں کے مشوروں کی بدولت ضمانت ضبط کروا بیٹھے۔ مشورے دینے والے بہت پریشان تھے کہ اب ان کو دلاسا کن الفاظ میں دیں۔ وہ ان کو ملتے ہوئے ہچکچا رہے تھے کہ پتہ نہیں ان کی طبیعت کیسی ہو۔ جب ان سے ملاقات ہوئی تووہ ہشاش بشاش بیٹھے اپنے روزانہ کے معمولات سرانجام دے رہے تھے اور ان کے چہرے پر غم کا نشان تک نہ تھا۔

دوستوں نے بڑی حیرت سے پوچھا کہ آپ الیکشن ہار گئے ہیں مگر آپ کے چہرے سے لگتا ہے آپ کو الیکشن ہارنے کا کوئی صدمہ نہیں ہے۔ انہوں نے تاریخی جواب دیا کہ مجھے تو پہلے ہی پتہ تھا کہ میں نے الیکشن ہار جانا ہے۔ خیر خواہوں نے بڑی حیرت سے پوچھا وہ کیسے؟ جواب ملا کہ جن کو مشورہ دینے والے آپ جیسے ہوں، وہ بھی کبھی الیکشن جیت سکتے تھے؟

میرے ایک دوست صوفی ہو چکے ہیں۔ تصوف ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں رہنے والوں کی صرف دو اقسام ہیں، پرندہ اور درندہ۔ جو دوسروں کی خیرخواہی چاہے اور صحیح مشورہ دے، وہ پرندہ ہے۔ جو اپنے ہم جنسوں اور اللہ کے دیگر مخلوقات کا دشمن ہو اور مانگنے پر صحیح مشورہ تک نہ دے سکے، وہ درندہ ہے۔

اللہ تعالی کے نبی کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ صحیح مشورہ نہ دینا امانت میں خیانت ہے اور کسی بھی شریف انسان سے خیانت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ دعا ہے کہ کرہ ارض سے درندے ختم ہوجائیں اور ہرطرف پرندوں کی چہکار ہو۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words