فالج کے نئے ایمرجنسی معالجے کے ذمہ دار پروفیسر عرفان لطفی سے گفتگو

حال ہی میں کورونا وائرس کی وبا نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تاہم اگر ہم ان امراض کی طرف دیکھیں جو برسہا برس سے سب سے زیادہ اموات کا باعث بنتے رہے ہیں تو اول نمبر پر دل کو آکسیجن کی روانی میں کمی یعنی کورونری آرٹری ڈیزیز اور دوسرے نمبر پر فالج آتا ہے۔

فالج کیا پے؟

ہمارے جسم کا ہر حصہ آکسیجن کی متواتر اور موثر فراہمی کا محتاج پے۔ خون کی سپلائی میں تعطل کے نتیجے میں جب دماغ آکسیجن کو ترس جائے تو اسے شدید نقصان پہنچتا ہے اور وہ اپنا نارمل کام کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے اس کیفیت کو فالج کہتے ہیں۔

فالج کی دو سب سے بڑی وجوہات میں دماغ کی شریان کا پھٹ جانا اور شریان میں خون کا لوتھڑا پھنس کر بہاؤ کا مسدود ہوجانا شامل ہیں۔

فالج کا فوری علاج نہ کیا جائے تو دماغ کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ممکن نہیں۔ متاثرہ شخص کے سارے جسم یا جسم کے کسی حصے کا شل ہوجانا، نابینا پن، بولنے، سننے کی صلاحیت سے محرومی، کنفیوژن حتی کہ موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق سالانہ ڈیڑھ کروڑ افراد فالج کے دورے کی زد میں آتے ہیں ان میں ایک تہائی مر جاتے ہیں جبکہ ایک تہائی تاعمر محتاجی کا شکار ہو کر گھر والوں اور معاشرے کے لئے ایک بوجھ بن جاتے ہیں صرف ایک تہائی خوش قسمت ایسے ہوتے ہیں جو معمول یا معمول کے نزدیک تر زندگی کی طرف لوٹ پاتے ہیں۔ اگر ہم مختلف ممالک کے اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ فالج کے بعد بچ جانے والے افراد خوش قسمت نہیں بلکہ ان بڑی اکثریت کا تعلق ترقی یافتہ ممالک سے ہوتا پے جہاں تعلیم، صحت مند طرز زندگی، فالج کے دورے کے حوالے سے عوامی آگہی، فوری اور بہترین علاج کی سہولیات اور معمول کی زندگی کی طرف واپسی کے لئے فزیوتھراپی، سپیچ تھراپی اور نیورو سائیکالوجی کے لئے وسائل مریضوں کی دسترس میں ہوتے ہیں۔

برطانوی دفتر برائے قومی شماریات کے مطابق 2001 میں دل کے دورے کے بعد فالج موت کا سب سے بڑا سبب تھا لیکن 2018 تک موت کے اسباب میں کافی تبدیلی رونما ہوئی چنانچہ اب دل کے دورے کے بعد ڈیمینشیا اور الزائمر کی بیماری، پھر کینسر اس کے بعد پھیپھڑوں کی دائمی عفونت اولین اسباب موت ہیں جبکہ فالج سے واقع ہونے والی اموات کی شرح میں واضح کمی ہوئی ہے۔ اس کمی کی وجہ عوامی شعور اور علاج کی بہتر اور مفت سہولیات ہیں۔

فالج سے احتیاطی تدابیر

شوگر، کولیسٹرول، موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر اور اسموکنگ سے بچتے ہوئے ایک متوازن غذا اور متحرک و فعال زندگی گزارنے سے فالج سے بچا جاسکتا ہے۔

فالج کی صورت میں وقت کی اہمیت۔

جس طرح دل کے دورے کے بعد گزرنے والا ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے اسی طرح فالج کے بعد مریض کے آس پاس موجود افراد کی بنیادی آگہی انتہائی اہم ہے اور موت سے بچا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں انگریزی کے لفظ فاسٹ FAST کو یاد رکھتے ہوئے مریض کی علامات کو پیش نظر رکھیں :

ایف۔ Face چہرے کا ایک طرف لٹک جانا اور باوجود کوشش واپس نہ آنا

اے۔ Arm weakness بازو میں اچانک کمزوری جس میں بازو اوپر اٹھانے یا کوئی چیز مضبوطی سے تھامنا ناممکن لگے۔

ایس Speech بولنے میں دشواری، تتلانا، عام سا جملہ ادا نہ کر پانا۔

ٹی Timeیعنی وقت فوراً ایمرجنسی سروس کو فون کر کے مریض کو اسپتال میں منتقل کرنا۔ ساتھ ہی علامات کے آغاز کا وقت یاد رکھنا۔

توازن کھو بیٹھنا، چکرا جانا، دھندلا یا ڈبل دکھائی دینا، پپوٹوں کی عجیب و غریب حرکتیں، متلی، الٹی، سر کا شدید درد بھی فالج کے دورے کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔

پروفیسر عرفان لطفی سے گفتگو

کراچی کے قومی ادارۂ امراض قلب نے حال ہی میں پہلی مرتبہ ایک نئی سروس کا آغاز کیا ہے۔ آئیے آپ کی ملاقات اس کے روح رواں پروفیسر عرفان لطفی سے کراتے ہیں۔

س: براہ مہربانی اپنی پیشہ وارانہ تعلیم اور تربیت کے بارے میں کچھ بتائیے؟

لطفی: سندھ میڈیکل کالج سے 1991 میں گریجویشن کے بعد سے میں مسلسل ریڈیالوجی کی تعلیم و تربیت سے وابستہ رہا ہوں۔ 2010 ء میں میں نے سنگاپور سے پیریفرل انٹروینشن Peripheral Intervention کی فیلو شپ مکمل کی۔ جبکہ 2017 ء میں امریکہ کی یونیورسٹی آف بفیلو سے نیورو انٹروینشن Neuro Intervention کی فیلوشپ بھی حاصل کی۔

س: ریڈیالوجی ایک ایسی اسپیشلٹی ہے جس میں پوری دنیا میں ماہرین کی شدید قلت ہے۔ اتنا کچھ کرنے کے بعد آپ نے پاکستان سے باہر بس جانے کی کوشش کی؟

لطفی: خرم آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ہم جماعت بہت بڑی تعداد میں امریکہ چلے گئے تھے۔ میں نے بھی امریکی لائسنس کا امتحان پاس کیا لیکن اس وقت میرے والدین کو میری زیادہ ضرورت تھی۔ والدین کے بعد سے میں ایک سینئر اور ذمہ دار پوزیشن پر کام کر رہا ہوں۔ مناسب مواقع دستیاب ہوں تو پاکستان میں بھی بہت اچھی اور کامیاب پیشہ ورانہ زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

س: مذکورہ اعلی تربیت کے بعد آپ نے کیا کار ہائے نمایاں سرانجام دیے۔

لطفی: میں کافی عرصے ضیاء الدین یونیورسٹی اسپتال کے ساتھ منسلک رہا جہاں میں نے اپنی تربیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اے وی ایم اور سیربرل اینیورزم کو کوائل کرنے کے کام کا آغاز کیا اور بہت سے کامیاب کیسز کیے ۔ میں ان دونوں کنڈیشن کی وضاحت کرتا چلوں۔ دونوں ہی دماغ کو خون لے جانے والی نالیوں سے متعلق نقائص ہیں۔ یہ اتفاقا ”ہی تشخیص ہو جاتے ہیں اور اچانک پھٹ کر انسان کو مفلوج کرنے یا فوری موت کا سبب بنتے ہیں۔

یوں سمجھئے کہ ان کی موجودگی دماغ میں نصب ایک ٹائم بم کی طرح ہوتی ہے جس کی ٹک ٹک سنائی نہیں دیتی لیکن جو بغیر وارننگ دیے پھٹ جاتا ہے۔ نیورو سرجری سے اس کا علاج بھی خطرے سے خالی نہیں مریضوں کی اکثریت جانبر نہیں ہو پاتی۔ نیورو انٹروینشن ایک نسبتاً محفوظ اور منیملی انویسو minimally invasive طریقہ علاج ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں یہ مہارت ابھی ناپید ہے اور اس طرح کے مریض بھارت سمیت دیگر ممالک جا کر علاج کراتے ہیں۔

س: آپ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرتے کرتے سرکاری شعبہ میں کیوں آ گئے؟

لطفی: مجھے فالج یعنی اسٹروک سے متعلق نظام بنانے کی شدت سے خواہش تھی۔ بہت سال نجی شعبے میں رہنے کے بعد اندازہ ہوا کہ جس نوعیت کی سہولیات، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری درکار ہے وہ نجی اسپتالوں کے بس میں نہیں۔ چنانچہ جب این آئی سی وی ڈی نے اس بارے میں دلچسپی ظاہر کی تو مجھے سوچنا نہیں پڑا۔ یاد رہے کہ یہ ادارہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں پرائمری پی سی آئی کرنے کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ آپ گوگل پر چیک بھی کر سکتے ہیں اور اس وجہ سے یہاں اسٹروک کے مریضوں کا حجم بھی سب سے زیادہ ہے۔

س: میں نے تعارف میں اسٹروک سے متعلق کچھ بنیادی معلومات فراہم کی ہیں۔ آپ کی نئی سروسز کیا ہیں؟

لطفی: جیسا آپ نے بتایا فالج کے دورے کے دو بڑے اسباب میں ایک ہیموریجک Haemorrhagic اور دوسرا اسکیمک Ischaemic ہے۔ اسکیمک اسٹروک میں دماغ کی کسی بڑی شریان میں خون کا لوتھڑا پھنس جاتا ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ اہم تو مریض کا فوری طور پر اسپتال پہنچنا ہوتا ہے۔ ایک ایسا نظام درکار ہے جس میں مریض کے اسپتال پہنچنے سے قبل اسٹروک کی تصدیق ہو چکی ہو۔ ایمرجنسی میں خون کے ضروری نمونے حاصل کرنے اور ہماری ٹیم کے آنے میں آدھ گھنٹے سے زیادہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

ایمرجنسی سے مریض کو فوراً دماغ کے سی ٹی اسکین کے لیے لے جایا جائے گا جس سے ہمیں پتہ چل سکے گا کہ سبب شریان کا پھٹنا ہے یا مسدود ہونا۔ مسدود ہونے کی صورت میں ہمارے پروٹوکول کے مطابق کچھ مریضوں کو خون کا لوتھڑا تحلیل کرنے کی ڈرپ لگائی جائے گی جبکہ کچھ مریضوں میں خون کی شریان کی انجیو گرافی سے براہ راست لوتھڑے کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے زائل کر دیا جائے گا۔

س: یہ پروسیجر کرنے کے لئے وقت کی کوئی قید ہے؟

لطفی: جی ہاں۔ قدرت ہمیں بہت ہی کم مہلت دیتی ہے۔ یہ پروسیجر اسٹروک کی علامات ظاہر ہونے سے چھ گھنٹے کے اندر اندر ہوجانا چاہیے یا زیادہ سے زیادہ 12 گھنٹے۔ شریان مسدود ہونے سے ابتدائی طور پر دماغ کا ایک ننھا سا حصہ متاثر ہوتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خون کی سپلائی اور آکسیجن کی فراہمی بحال نہ ہونے سے وہ حصہ بالکل ہی ناکارہ ہوجاتا ہے۔ بروقت طبی مداخلت سے ری کوری کا امکان 80 سے 85 فیصد ہو سکتا ہے۔ Time is Brain

س: آپ کی ٹیم میں دیگر ارکان کون شامل ہیں؟

لطفی: شعبہ کے لحاظ سے ہمارے ارکان میں ایمرجنسی اسٹروک نرس، ڈاکٹر، نیورولوجسٹ یعنی ماہر اعصابی و دماغی امراض، لیبارٹری ٹیکنیشن، سی ٹی ٹیکنیشن، کیتھ لیب ٹیکنیشن اور انٹروینشنل ریڈیاوجسٹ شامل ہیں۔

س: کیا یہ سہولت صرف قومی ادارۂ امراض قلب میں میسر ہو گی؟

لطفی: ابتدائی طور پر ہم صرف یہاں داخل شدہ مریضوں کو ہی یہ خدمت فراہم کرسکیں گے۔ پھر ان کا دائرہ کار ملحقہ جناح اسپتال تک بڑھا دیا جائے گا۔ سب سے بڑا چیلنج ان خدمات کی ہمہ وقت فراہمی کا ہے جس کے لئے ہم ہر سال پہلے سے دل کی کیتھیٹرائزیشن میں تجربہ رکھنے والے چار یا پانچ ماہرین قلب کو تربیت دیں گے۔ اس طرح ہم اس قابل ہو سکیں گے کہ پورے صوبے میں فالج کے مریضوں تک یہ خدمات پہنچا سکیں۔

س:ان مریضوں کو فوراً اسپتال پہنچانے کا کیا بندوبست ہے؟

لطفی: ویسے تو ہماری اپنی ایمبولینس سروس ہے جو دل کے دورے کی طرح اسٹروک کے مریضوں کو بھی ایمرجنسی تک لائے گی لیکن دیگر ایمبولینسوں سے بھی یہ مریض پہنچائے جا سکتے ہیں۔

س: کیا یہ آپ کا اپنا آئیڈیا تھا؟

لطفی: میری خواہش تو کئی سال سے تھی لیکن اس کا اصل کریڈٹ این آئی سی وی ڈی کے ڈائریکٹر پروفیسر ندیم قمر صاحب کو جاتا ہے ان ہی کی کوششوں سے سندھ کے چھوٹے شہروں میں دل کے امراض کے مراکز قائم ہوئے ہیں۔ میں نے اسٹروک سروس کے پروٹوکول اور پاتھ وے بنائے ہیں۔

س: کیا یہ سہولت پاکستان میں پہلی دفعہ پیش کی گئی ہے؟

لطفی: راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں یہ خدمات کچھ عرصے قبل سے فراہم کی جاتی رہی ہیں ابھی چند ہفتے قبل ہی انہوں نے اسے چوبیس گھنٹے تک بڑھا دیا ہے۔ ان کی ٹیم میں ماہرین امراض قلب شامل ہیں۔ امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ماہرین قلب کو تربیت کرنا آسان ہے کیونکہ دنیا بھر میں انٹروینشنل ریڈیاوجسٹ ناپید ہیں۔

س: کیا آپ اپنے مریضوں کے نتائج کا آڈٹ اور تجزیہ کریں گے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ یہ بین الاقوامی معیار کے کتنے قریب ہیں؟

لطفی: بالکل۔ کیوں نہیں؟ ہم اچھی سروسز نہیں دے سکیں گے جب تک ہم اپنے نتائج کا آڈٹ نہ کریں اور ان کا موازنہ شائع نہ کرائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words