آسودگی، بے ہودگی، آلودگی اور ہماری موجودگی

آج کا انسان مادی لحاظ سے انتہائی آسودہ حال ہے۔ جدید آلات کی بدولت بڑے شہروں اور بڑے گھروں میں آسودگی ہی آسودگی نظر آتی ہے۔ آسودہ حال لوگوں کو ماضی فرسودہ لگتا ہے تو بعض شخصیات کو حال بے ہودہ لگتا ہے اور بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا مستقبل آلودہ ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی سوچ رکھنے کا مکمل حق رکھتا ہے مگراس بات پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ زمین پر حضرت انسان کی

Read more

جغرافیہ، قافیہ، اشرافیہ اور مافیا

جغرافیہ کے لحاظ سے ہمارا ملک انتہائی زرخیز اور اہم خطے میں واقع ہے۔ ہماری جغرافیائی اہمیت پر ماضی قریب میں بہت کتابیں لکھی گئی ہیں۔ گئے وقتوں میں لوگوں کو یہ گلہ رہتا تھا کہ قافیے کا صحیح استعمال نہیں ہو رہا اور اب بہت سے لوگ یہ گلہ کرتے پائے جاتے ہیں کہ ہم اپنے جغرافیہ کا صحیح استعمال نہیں کر رہے۔ برصغیر میں بسنے والے تمام افراد بالعموم اور مومن حضرات بالخصوص عمر کے کسی نہ کسی

Read more

محرومی، نجومی، محکومی اور رومی

کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے ہاں علم نجوم کے نام نہاد ماہرین کا ہجوم تھا۔ جگہ جگہ پر محرومیوں کے اشتہار لگے تھے اور نجومیوں کے کاروبار چمک رہے تھے۔ ہر شخص کی زندگی میں کوئی نہ کوئی محرومی ایسی ہوتی ہے جو اسے نجومی کے پاس جانے کے لئے مجبور کر سکتی ہے۔ جھنگ کے ایک نجومی کی نظر میں ہر محرومی کا حل مرغیوں کے انڈے دریا برد کرنا تھا۔ میرا ایک دوست بھی کچی عمر کے عشق

Read more

لوگ، جوگ، روگ اور سموگ

پہلے کسی کو کوئی روگ لگتا تھا تو وہ جوگ لے لیتا تھا۔ کبھی کبھی حاکم وقت بھی کسی کو جوگ دے دیتا تھا تا کہ سندر ہے اور بوقت ضرورت انسانیت کے کام آئے۔ اکثر اوقات معاشرتی جبر بھی حساس انسانوں کو جوگ لینے پر مجبور کر دیتا تھا۔ کچھ لوگ شوق سے بھی جوگی بن جاتے تھے۔ ایسے جوگیوں پر فلمیں بنائی جاتی تھیں۔ گانے لکھے جاتے تھے۔ کچھ لوگ شوق سے روگی بھی بن جاتے تھے۔ اگر

Read more

گوشی، سرگوشی، خاموشی اور نموشی

چند دن پہلے ہونے والی ایک سماجی تقریب میں ایک ادارے کے تمام ملازمین موجود تھے۔ تمام لوگ خاموشی سے سربراہ ادارہ کی تقریر کا انتظار کر رہے تھے۔ ہال میں مکمل سناٹا تھا۔ ایک محترم نے گوشی سے سرگوشی کی اور اس کے بعد ہال میں موجود تمام لوگوں کی خاموشی بولنے لگی۔ غرانے لگی۔ چنگھاڑنے لگی۔ اتنا شور ہوا کہ مجھے نموشی ہونے لگی۔ جن لوگوں کی خاموشی شور کر رہی تھی وہ شدید غصے میں بھی تھے۔

Read more

میوہ، سیوا، جان لیوا اور بیوہ

ایک صاحب کی زوجہ محترمہ میوہ جات کھانے کی بہت شوقین تھیں۔ تھوڑی دیر، اگر ان کو کوئی میوہ نظر نہ آتا تو بہت زیادہ پریشان ہوجاتی تھیں۔ شوہر بھلے کئی کئی دن دکھائی نہ دیتے، ان کو قطعاً کسی طرح کا مسئلہ نہ ہوتا تھا۔ شاید ان دنوں شوہر کو بھی کوئی مسئلہ نہ ہوتا تھا۔ تقدیر کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ چھٹی کا دن تھا۔ میاں صاحب سکون سے بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ خاتون تشریف لائیں اور

Read more

میں بھی کبھی سکول کے اندر داخل ہوا ہوں؟

ایک صاحب ساری زندگی ایک بڑے شہر میں اعلیٰ درجہ کی ملازمت کرتے رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے آبائی گاؤں لوٹ آئے۔ اپنی آبائی زمین پر ایک سکول بنایا۔ متعلقہ سٹاف کو ذاتی گرہ سے ملازم رکھا۔ ارد گرد کے لوگوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ صبح کے وقت بچوں کو پڑھاتے تھے۔ شام کو تعلیم بالغاں کا اہتمام کرتے تھے۔ سکول سے ملحقہ گھر میں ایک صاحب رہتے تھے۔ کاشتکار تھے۔

Read more

”ابھی بھی میں چور ہوں؟“

پرانے دور کی ایک خوبصورتی یہ بھی تھی کہ تب چور ہوتے تھے، ڈاکو نہیں ہوتے تھے۔ ڈکیتیاں نہیں ہوتیں تھیں۔ کبھی کبھی کہیں چوری ہوجاتی تھی۔ چوری کرنا بھی آسان نہیں تھا۔ کئی چور مشکلات سے تنگ آ کر چوری کرنے سے توبہ کرلیتے تھے۔ بس تھوڑی بہت ہیرا پھیری کرتے رہتے تھے۔ کبھی کبھی ان کے اپنے ساتھ بھی ہیرا پھیری ہوجاتی تھی۔ ایک چور کہیں چوری کرنے کے لیے گیا۔ کافی دیر انتظار کرتا رہا۔ جب رات گہری ہو گئی تو دیوار پھلانگی۔

Read more

نشتر میں بلی بھی سموسہ کھاتا ہے

کچھ عرصہ پہلے تک نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ سیر کرنے کے لئے ملتان کینٹ پیدل ہی چلے جاتے تھے۔ بیس طلبہ کا ایک گروپ سیر کر کے ہوسٹل واپس آیا۔ مرکزی کینٹین پر خوش گپیاں کرنے بیٹھ گیا۔ گروپ میں ملک کے ہر خطے کی نمائندگی تھی۔ طلبہ کا آپس میں گہرا یارانہ تھا۔ ہر شخص خود کو ارسطو اور افلاطون کا سچا جانشین سمجھتا تھا۔ ایک صاحب کا داخلہ مخصوص سیٹ پر ہوا تھا۔ مگر وہ دنیا میں

Read more

سالم، بالم اور ظالم

ہمارے ایک دوست کو لوگ فارغ سمجھتے تھے حالانکہ وہ بعض اوقات کام بھی کر رہے ہوتے تھے۔ لوگ ان کو نالائق سمجھتے تھے جبکہ وہ ایف۔ اے۔ میں صرف چند سالوں کی پڑھائی کے بعد انٹرمیڈیٹ کا اعلیٰ امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ پڑھنا لکھنا ان کے لئے مشکل نہیں تھا۔ دیواروں پر اپنا نام لکھ کر آسانی سے پڑھ لیتے تھے۔ مطالعہ کے بھی شوقین تھے۔ ڈائجسٹ اور جاسوسی ناول باقاعدگی سے پڑھتے تھے۔ مزید

Read more

اب بندہ گھر بیٹھے بات بھی نہیں کر سکتا

پچھلے دنوں ایک سماجی تقریب میں ایک صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بیوی لیکچرر ہے۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ یہ مرد حضرات کا مشترکہ دکھ ہے۔ ہر بیوی لیکچرر ہوتی ہے۔ چند خوش قسمت بیویاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کو سرکار بھی تنخواہ دے رہی ہوتی ہے۔ باقی مظلوم خواتین کو تو صرف شوہر کی آمدن پر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ لیکچر تو سب کو دینا پڑتا ہے۔ المیہ مگر یہ ہے کہ اثر کسی پربھی نہیں ہوتا۔ خواتین مگر یہ بھی نہیں کہہ سکتیں کہ وہ بھینس کے آگے بین بجا رہی ہیں، کیوں کہ بھینس تو مونث ہوتی ہے۔

Read more

ہمیں تو لوگوں کی عجلت مار گئی

جھنگ کے ایک زمیندار نے اپنے ملازم کو کسی ضروری کام سے بھیجا اور جلد واپس آنے کا کہا۔ ملازم بھائی اپنے گاؤں چلا گیا۔ گاؤں میں میلہ لگا ہوا تھا۔ اطمینان سے میلہ دیکھنے کے بعد بھائی کو یاد آیا کہ قریبی گاؤں میں کسی عزیز کی شادی ہے۔ اس میں ابھی دو دن رہتے تھے۔ ہمارے دوست نے وہ دو دن ادھر ادھر ملنے میں گزارے۔ ہفتہ بھر شادی کی تمام تقریبات میں شرکت کی اور اس کے

Read more

”نلکا اور ہلکا“

حیدر آباد تھل کے ایک شریف انسان کا واحد ذریعہ معاش ورثے میں ملنے والی تھوڑی سی زرعی زمین تھی۔ وہ دن رات محنت کر کے کاشتکاری کرتے تھے۔ نہری پانی میسر نہیں تھا۔ زمین بارانی تھی۔ صرف چنے کی فصل ہوتی تھی۔ زندگی مشکل تھی مگر آنے والے اچھے دنوں کی امید میں ہنسی خوشی گزر رہی تھی۔ جب بچے بڑے ہو گئے تو وہ صاحب بچوں کی تعلیم کے لئے جھنگ منتقل ہو گئے۔ ان کا بڑا بیٹا کالج جا کر غلط صحبت کا شکار ہو گیا۔ وہ امتحان میں بھی فیل ہو گیا اور اس کے برے رویے کی وجہ سے گھر میں آئے دن کوئی نہ کوئی شکایت لے کر آ جاتا۔

Read more

کیکر، ٹکر، ذکر اور فکر

چین کی ایک کہاوت کے مطابق ہم زمانے کے ہنگامہ خیز دور میں زندہ ہیں۔ ہر لحظہ کچھ نہ کچھ نیا وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں جدید دور کی زندگی بہت عجیب ہے۔ ہرطرف ایک ہجوم سا ہجوم ہے۔ پہلے بندہ دیہات جاتا تھا تو سبزہ اور دیگر اجناس دیکھ کر روح کو سکون ملتا تھا۔ اب گاؤں میں اکثر مقامات پر جنگلی کیکر ہی نظر آتے ہیں۔ جنگلی کیکر اتنی تیزی سے پھیل رہے

Read more

فون، خون، جنون اور سکون

آج سے کچھ عرصہ پہلے تک لوگوں کی بھاری اکثریت یقین رکھتی تھی کہ خون کی اپنی تاثیر ہوتی ہے۔ خون آخر خون ہوتا ہے۔ بہتا بھی ہے کچھ کہتا بھی ہے۔ جم بھی جاتا ہے اور رنگ بھی چوکھا لاتا ہے۔ لال رنگ کے خون میں چونکہ سفید خلیے بھی ہوتے ہیں اس لیے خون کا رنگ سفید بھی ہو سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا خون ”نیلے رنگ“ کا نہ بھی ہو، انہیں شاہی خون کا حامل تصور کیا

Read more

مر تو میرا گھوڑا بھی گیا تھا

کسی علاقے کے رہنے والے دو زمیندار گہرے دوست تھے۔ دونوں گھوڑوں سے بہت شغف رکھتے تھے۔ ایک صاحب کا گھوڑا بیمار ہوا تو ان کو یاد آیا کہ کچھ عرصہ پہلے ان کے دوست کا گھوڑا بھی بیمار ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے حبیب سے گزارش کی کہ وہ طبیب کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے گھوڑے کے لئے وہ دوائی تجویز کریں جو ان کے گھوڑے کو دی گئی تھی۔ زمیندار صاحب نے دوائی بتا دی۔ دوائی گھوڑے کو دی گئی۔ گھوڑا بہتر ہونے کی بجائے کچھ عرصے میں وفات پا گیا۔ متوفی کے مالک نے دوست کو بتایا ان کا گھوڑا تو دوائی کھانے کے بعد مر گیا۔ جواب ملا ”مر تو میرا گھوڑا بھی گیا تھا“ شدید حیرت سے پوچھا گیا کہ آپ نے یہ پہلے تو نہیں بتایا تھا۔ جواب ملا پہلے آپ نے پوچھا ہی نہیں تھا آپ نے دوائی کا پوچھا جو آپ کو بتا دی گئی۔

Read more

آہستہ بولیں! میرا گھوڑا ایسی باتوں کا برا مانتا ہے

چچا میرو جیسے لوگ کسی بھی محلے کی سماجی زندگی کی جان ہوتے ہیں۔ ہمارے آبائی محلے کے تمام لوگ چچا میرو کی دل سے عزت کرتے تھے۔ کہیں آنے جانے کے لیے چچا میرو کا ٹانگا پہلی ترجیح ہوتا تھا لوگ چچا میرو کو جائز کرائے سے کچھ زیادہ ہی رقم ادا کر دیا کرتے تھے۔ ایک دن صبح سویرے ہمارے ہر دل عزیز چاچا میرو کوچوان کا واسطہ ایک سوٹڈ بوٹڈ اجنبی سے پڑ گیا، جس نے کافی دور جانا تھا۔ بوہنی کو لے کر ہمارے دکان دار اور کوچوان کافی حد تک جذباتی ہوتے ہیں۔

Read more

سندری، مندری اور سمندری

بڑے شہروں میں رہنے والے لوگوں کو عموماً یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ خوبصورتی کی پہچان انہی کو ہے اور چھوٹے شہروں میں رہنے والے لوگ حسن اور محبت کے معاملات کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی کو سندرتا اچھی لگتی ہے اور اس کی کوئی نہ کوئی سندری بھی ہوتی ہے۔ اگر بندے کی رہائش سمندری میں ہوتو اپنی سندری کو مندری پہنانے کے لئے اس کی بے چینی الفاظ میں بیان

Read more

”آپ ہوسیں“

کافی عرصہ پہلے جھنگ میں ہمارے آبائی گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر مقامی دیہاتوں کو آنے جانے والی بسوں کا اڈہ تھا۔ دیہی علاقوں کو جانے والی سڑکوں کی حالت عمومی طور پر ناگفتہ بہ تھی مگر اڈے کو آنے والی ایک قریبی سڑک تو بالکل ہی ”نام نہاد“ تھی۔ کسی دوسرے شہر سے آئے ہوئے شخص نے ایک دن ایک مقامی آدمی سے پوچھا یہ سڑک کہاں جاتی ہے؟ انتہائی دکھ بھرے اور غم و غصے کی ملی جلی کیفیت میں ڈوبے ہوئے لہجے میں جواب ملا ”اس بیچاری نے کہاں جانا ہے؟“ آپ کو کیسے لگتا ہے کہ یہ بیچاری کہیں آنے جانے کے قابل ہے یہ تو یہیں پڑی بس زندگی کے دن پورے کر رہی ہے

Read more

فنا، بقا اور حسینیت کا فلسفہ

بقائے ازلی انسان کا پرانا خواب ہے۔ اس جہان فانی میں لافانی ہونے کے لئے انسان نے ان گنت کشٹ اٹھائے ہیں۔ وقت کی گردش سے ماورا ہونے کے لئے یہ خاک کا پتلا کبھی اپنی ”ممی“ بناتا ہے تو کبھی سادھو کا بہروپ بنائے ہمالیہ کی چوٹیوں پر مدتوں سانس روکے بیٹھا رہتا ہے۔ اللہ پاک کا ابدی فرمان ہے کہ ”ہر نفس کو مرنا ہے“ ۔ حیات جاودانی کی صرف ایک ہی صورت ہے۔ قرآن کہتا ہے جو

Read more

نفل اور قفل

نشتر میڈیکل کالج میں میرے دو ہم جماعت ایک کمرے میں رہتے تھے ان میں سے ایک پڑھنے پڑھانے کے بہت ہی زیادہ شوقین تھے اور دنیا کے کسی کام میں دلچسپی نہیں لیتے تھے ان کو ”خشکا“ کہا جاتا تھا جبکہ دوسرے دوست ہر وقت کھیل کود اور غیر نصابی سرگرمیوں میں مگن رہتے تھے ان کو ”چیتا“ کہا جاتا تھا۔ آخری سال میں ”چیتا“ صاحب کو سارا سال پڑھنے کا وقت نہ ملا جبکہ ”خشکا“ صاحب دن رات پڑھتے رہے۔ میڈیسن کے پرچے سے ایک دن پہلے ”چیتا“ صاحب، ”خشکا“ سے کہنے لگے کہ یار مجھے بھی کچھ بتاؤ میں کیا پڑھوں؟ خشکے نے ایک بھرپور نظر ان پر ڈالی اور بڑے گیانی لہجے میں فرمایا ”یار اب تم نفل ہی پڑھو“ ۔

Read more

”اصل گدھے تو آپ ہیں“

کہتے ہیں کہ ملا نصیر الدین کے ایک پڑوسی ملا کی ضرورت کا خیال کیے بغیر وقت بے وقت ان کا اکلوتا گدھا مانگ کر لے جاتے تھے اور کئی کئی دن واپس نہیں کرتے تھے۔ بارہا تقاضا کرنے کے بعد واپس کرتے تھے۔ ملا ان کی اس عادت سے بہت تنگ آچکے تھے ایک دن جب پڑوسی گدھا مانگنے آیا تو ملانے کہا آج گدھا یہاں نہیں ہے، کہیں گیا ہوا ہے۔ اتفاق سے اسی وقت گدھے کی ڈھینچوں

Read more

سفارش، خارش اور بارش

سفارش کی خارش بہت خطرناک ہوتی ہے۔ ساری زندگی بندے کے اندر آگ لگائے رکھتی ہے۔ کسی زمانے میں جھنگ کے ایک مشہور حکیم بسوں میں خارش ختم کرنے والی دوائی بیچا کرتے تھے بقول ان کے وہ دوائی اتنی اکسیر تھی کہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے ہونے والی خارش اور بارش کی زیادتی کی وجہ سے ہونے والی خارش، دونوں کا شافی علاج تھی لیکن سفارش کی خارش کے بارے میں وہ حکیم صاحب بھی خاموش رہتے تھے۔ اس سے میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سفارش کی خارش کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا۔

Read more

کمال اور کمالیا

ہمارے ہاں ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ جتنا اس نے ”کما“ لیا وہی اس کا کمال ہے، جو بچا لیا وہی اس کا جمال ہے، جو کچھ آج اس کے پاس ہے وہی اس کا جلال ہے۔ کسی کو فکر نہیں ”کیا حرام ہے کیا حلال ہے“ ، سب سمجھتے ہیں کہ دولت کے بغیر زندگی محال ہے حالانکہ غالب کے بقول ”یہ تمام جہان فقط حلقہ دام خیال ہے“ ٭ کمائی اور رسوائی میں بعض اوقات صرف نقطہ

Read more

سگ، پگ اور ٹھگ

ہماری قومی تاریخ بالعموم اور دیہی تاریخ بالخصوص ”ٹھگ“ ، ”سگ“ اور ”پگ“ کے ذکر کے بغیر نامکمل بھی ہے اور بے کیف بھی۔ اگرچہ ٹھگ ہمیشہ قابل صدحیف رہے ہیں مگر وہ ہماری تاریخ کو رنگین بھی بناتے ہیں اور سنگین بھی۔ سگ بھی دیہات میں ہر گھر کا حصہ ہیں اگرچہ اب شہروں میں بھی امیر لوگ ”سگ“ کے بغیر نہیں رہتے ہیں۔ ٹھگ نہایت پیشہ ور لٹیرے تھے جو اپنے مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی

Read more

جو بکرے نے مارا بکری کو سینگ

ہمارے علاقے کے ایک شاعر کا جب اپنی محبوبہ سے جھگڑا ہوا تو اس نے محبوبہ کو تڑی لگائی کہ اگر جھگڑا ہو بھی گیا ہے تو کیا۔ وہ کوئی گھاس پھوس تو ہے نہیں جس کو محبوبہ اکھاڑ کے کہیں دفن کر دے گی۔ بکرے کا اگر اپنی بکری سے جھگڑا ہو جائے تو وہ تڑی لگانے کی پوزیشن میں ہوتا ہے یا نہیں اس بارے میں سائنس تو خاموش ہے مگر گمان یہ ہے کہ وہ بالکل تڑی لگانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا زیادہ تر بکرے صلح جو ہوتے ہیں اور ظلم و زیادتی کو گاندھی جی کے ”آہنسا“ کے تمام اصولوں کے عین مطابق برداشت کرتے ہیں ٭۔

Read more

ٹاسک اور ماسک

”کورونا“ وبا کی شدت کے دوران بہت سے ایسے لوگ بھی ”ماسک“ کا مطالبہ کر رہے تھے جن میں سے ہر ایک اگر اپنے چہرے پر چڑھے ”ماسک“ اتار دیتا تو شاید پوری قوم کی ضرورت پوری ہوجاتی۔ ان دنوں ”ماسک“ کی فراہمی اتنا بڑا ”ٹاسک“ تھا کہ بہت سے لوگ ”ماسک“ لگا کر اس کی انجام دہی میں لگے ہوئے تھے۔ اس مہم کے دوران لوگوں کو یہ اندازہ بھی ہوا، نظر آئے، نہ آئے ہمارے ہاں ”ماسک“ بہرحال بہت سے لوگوں نے چڑھا رکھے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے ”ماسک“ ، ”ٹاسک“ کے دوران نمایاں ہو جاتے ہیں۔

Read more

”یہ ملک ہمیں بہت قربانیوں کے بعد حاصل کرے گا“

کہتے ہیں کہ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ایک وزیر ایک شہر میں جلسے سے خطاب کرنے آئے ہوئے تھے۔ شرکاء کی کثیر تعداد انتہائی غریب تھی۔ وزیر صاحب نے کہا یہ ملک ہم نے بہت سی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے۔ بزرگ کہہ گئے ہیں کہ بھوکے کے لئے ”دو جمع دو چار“ نہیں بلکہ چار روٹیاں ہوتی ہیں۔ ایک انتہائی غریب عورت کھڑے ہو کر کہنے لگی ”ہمارے گھر تو ایک بوٹی بھی نہیں آئی، قربانی میں تو غریبوں کا بھی حصہ ہوتا ہے“ ۔ آج ستر سال سے زائد کا عرصہ بیت جانے کے باوجود غریب لوگ اگر اپنے حصے کے ثمرات کا انتظار کر رہے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس کی وجوہات کیا ہیں؟

Read more

نرگس اور نوری

کسی زمانے میں نرگس ہزاروں سال اپنی بے نوری پہ روتی تھی اور اب ہزاروں بے نور نرگس کے لئے رو رہے ہیں۔ نوری دور کہیں اپنے گاؤں بیٹھی حیران اور پریشان ہو رہی ہے کہ یہ دنیا کیا سے کیا ہو گئی ہے۔ بڑی مشکلوں کے باوجود چمن میں ”دیدہ ور“ پیدا نہیں ہو رہے بلکہ چمن سے کراچی تک متاثرین مال و زر پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر نوری کی آنکھوں کا نور بے سرور

Read more

افسر کے ادب کے سامنے اردو ادب کیا بیچتا ہے؟

ادب اور افسر کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ پرانے زمانے میں ادب کی محبت میں لوگ شاعری اور نثر کے خارزار میں نکل جاتے تھے۔ آج کا انسان اس اعتبار سے زیادہ مشکل میں ہے کہ اگر وہ ادب سے لگاؤ رکھتا ہے تو اسے سب سے مشکل راستے کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ اس راستے کو انگریزی میں سول سروس کہتے ہیں۔ جب سے افسر ہے تب سے ادب ہے۔ یہ رشتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوا

Read more

مہنگا بستہ، سستا بچپن

جب معاشرے میں ”بستہ“ کی قیمت بڑھتی جاتی ہے تو بچپن کی چاشنی مٹتی جاتی ہے۔ مہنگا جتنا ”بستہ“ ہو گا بچپن اتنا ہی سستا ہو گا۔ جس کے ہاتھ میں قلم کتاب کی بجائے ٹائر اور پانے ہوں اور جس کا مقدر استاد کے طعنے ہوں وہ بچپن میں بھی پچپن کا ہوتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے جذبے حصول رزق کے رستے میں چھن جاتے ہیں اور خواب اس عہد کی تنہائی نگل جاتی ہے۔ شاید بچپن سے

Read more

نیت اور حیثیت

اسلام میں کسی کے ساتھ سلوک اس کی نیت کے مطابق کیا جاتا ہے جبکہ اسلامی ممالک میں کسی کے ساتھ سلوک اس کی حیثیت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ٭یورپی ممالک میں کسی کے ساتھ سلوک اس کی قابلیت کے مطابق کیا جاتا ہے تو مشرق وسطی میں کسی کے ساتھ سلوک اس کی خاندانی جاذبیت کے مطابق کیا جاتا ہے ٭۔ امت مسلمہ ایک عرصے سے نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک محقق کا کہنا ہے کہ نازک

Read more

دار اور رشتے دار

دنیا کی نظر میں اپنے ورثے اور روایات کو محفوظ کرنے کے ضمن میں ہمارا ریکارڈ کبھی بھی قابل رشک نہیں رہا مگر اپنے قریبی رشتے داروں کو سوئے دار تک پہنچانے کی جو روایت ہمارے ہاں دور قدیم سے چلی آ رہی ہے آج کے دور میں بھی اکثر لوگ اس کی مکمل پاسداری کر رہے ہیں اور اگر وہ اپنے عزیز و اقارب کو دار پرنہ چڑھا سکیں تو ساری زندگی شرمندگی سے خود ذہنی طور پر دار

Read more

اکراہ نہیں اقرا

کہتے ہیں کہ کسی گاؤں میں ایک غریب آدمی تھا جس کوایک دفعہ رقم کی اشد ضرورت تھی۔ اس کا واحد اثاثہ ایک پرائز بانڈ تھا۔ پرائز بانڈ لے کروہ اپنے مرشد کے مزار پر چلا گیا۔ صاحب مزار اللہ سے ڈرنے والے عالم باعمل تھے مگر اب عقاب کا نشیمن زاغوں کے تصرف میں تھا۔ مزار پر ہر وقت بھنگ اور چرس پی کر نشے میں دھت رہنے والے مجرم ذہنیت کے حامل افراد نے ڈیرے لگا رکھے تھے۔

Read more