‘ایک’ ہی گانے سے شہرت حاصل کرنے والے گلوکار

دنیا میں کئی گلوکار ایسے بھی ہیں جنہوں نے لاتعداد فلمی گیت، غزلیں اور نغمے گا کر اپنے مداحوں کو محظوظ کیا جب کہ کچھ ایسے گلوکار بھی ہیں جنہوں نے کام تو کم کیا مگر آج بھی ان کے کام کو یاد کیا جاتا ہے۔

ان گلوکاروں کے گائے جانے والے گیت تو کم ہیں البتہ ان کے چاہنے والے آج بھی ان کے گیتوں کو پسند کرتے ہیں۔

آج ہم آپ کو ایسے ہی گلوکاروں کے بارے میں بتانے والے ہیں جن کا ایک ہی گانا، ان کی پہچان بن گیا۔

شرافت علی: ‘جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں’

سن 1957 میں ہدایت کار ڈبلیو زیڈ احمد کی ریلیز ہونے والی فلم ‘وعدہ ‘میں یہ گیت اس وقت کے خوبرو اداکار سنتوش کمار پر فلمایا گیا تھا جس میں شرافت علی نے اپنی آواز کا جادو جگایا تھا۔ مداح آج بھی اس گیت کو پسند کرتے ہیں۔

اس گانے کے بول سیف الدین سیف نے لکھے تھے جب کہ اسے موسیقار رشید عطرے نے ترتیب دیا تھا۔

شرافت علی کی گائیکی اس گیت کا سب سے اہم جز بن کر سامنے آئی اور 60 برس گزر جانے کے باوجود آج بھی یہ گیت یادگار ہے۔

جس زمانے میں گلوکار شرافت علی نے یہ گیت گایا تھا اس وقت فلم انڈسٹری میں سلیم رضا جیسے گلوکار چھائے ہوئے تھے۔

بعد ازاں احمد رشدی، مہدی حسن، مسعور رانا اور دیگر کی آمد کے بعد شرافت علی کا کریئر ختم ہوا تھا۔

ایس بی جون: ‘تو جو نہیں ہے’

سن 1959 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘سویرا ‘تو شاید ہی کسی کو یاد ہو البتہ اس فلم کا یہ گیت آج بھی زبانِ زدِ عام ہے۔ سنی بنجمن جون، جنہیں لوگ ایس بی جون کے نام سے جانتے ہیں، انہوں نے ماسٹر منظور حسین کا ترتیب دیا ہوا اور فیاض ہاشمی کا لکھا ہوا یہ گیت گا کر امر کر دیا۔

ایس بی جون، جو اس وقت ایک بینک میں کام کرتے تھے اور شوقیہ گلوکاری کرتے تھے، ان کی آواز میں وہ درد تھا جو اس گانے کی ضرورت تھی۔ اس گانے کے بعد نہ صرف انہوں نے کئی اور گیت گائے بلکہ اپنی اولاد کو بھی موسیقی کی تعلیم دی۔​

ان کا یہ گانا بھارتی فلم ڈائریکٹر مہیش بھٹ کی ماں کو بہت پسند تھا۔ اسی لیے مہیش بھٹ نے اپنی فلم ‘وہ لمحے’ میں ایس بی جون کے بیٹے گلین جون سے یہ گانا گنوایا جس نے اسے اور مقبول بنا دیا۔

رواں سال ایس بی جون کے انتقال تک ’تو جو نہیں ہے‘ ہی ان کی وجہ شہرت بنا رہا۔

محمد افراہیم: ‘زمین کی گود رنگ سے’

ویسے تو محمد افراہیم 1960 کی دہائی سے موسیقی کے شعبے سے وابستہ ہیں لیکن جو شہرت انہیں اس ملی نغمے سے ملی، اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔

سہیل رعنا کا کمپوز کیا ہوا یہ گیت اسد محمد خان نے لکھا جسے افراہیم نے اپنے استاد محمد رفیع کی طرز پر گاکر وہ مقام حاصل کرلیا جو کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔

انہوں نے فلموں میں بھی گانے گائے اور ٹی وی پر بھی تاہم پہلے احمد رشدی کے دور میں انہیں کم مواقع ملے اور بعد میں نوجوان گلوکار اخلاق احمد کی آمد کے بعد وہ ٹی وی تک ہی محدود ہوگئے۔

‘زمین کی گود رنگ سے’ میں جس طرح انہوں نے آواز کو اتار چڑھاؤ دیا، وہ ان کے بعد اس گیت کو گانے والے بھی نہ دے سکے۔

وسیم بیگ: ‘یہ دیس ہمارا ہے’

ستر اور اسی کی دہائی میں موسیقار سہیل رعنا نے کئی ایسے گیت تخلیق کیے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید مشہور ہوتے گئے۔ ‘یہ دیس ہمارا ہے’ بھی انہیں ملی نغموں میں سے ایک ہے جسے انہوں نے کمپوز کیا اور ان کے والد رعنا اکبر آبادی نے تحریر کیا۔

پہلے تو یہ گانا سہیل رعنا نے خود اپنی ٹیم کے ساتھ گایا لیکن بعد میں وسیم بیگ کے حوالے کر دیا۔ جو ان کی ٹیم کے ساتھ گانے گایا کرتے تھے۔ اس ملی نغمے کا شمار آج بھی پاکستان کے مقبول ترین ملی نغمات میں ہوتا ہے لیکن اس سے اس کے گانے والے کو اس کی کامیابی سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔

فاطمہ جعفری: ‘ہم زندہ قوم ہیں’

فاطمہ جعفری کا شمار 1980 کی دہائی کے ابھرتے ہوئے گلوکاروں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن پر کئی ملی نغمے، نعتیہ کلام اور گیت گائے۔ جنہیں لوگوں نے بہت پسند کیا۔

موسیقار نثار بزمی کا ترتیب دیا ہوا یہ گیت انہوں نے تحسین جاوید، امجد حسین اور بینجمن سسٹرز کے ساتھ گایا جوبے حد مقبول بھی ہوا۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مقبولیت میں کمی آئی اور انہوں نے دیار غیر منتقل ہوکر اپنے فنی کیرئیر کو بریک لگا دیا۔

آج بھی ان کا گایا ہوا گیت لوگوں میں مقبول ہے لیکن اس سے زیادہ ان کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔

حسن جہانگیر: ‘ہوا ہوا’

ایران میں پاپ موسیقی پاکستان سے کافی پہلے مقبول ہوگئی تھی. اسی لیے اسی کی دہائی میں جب حسن جہانگیر نے موسیقی میں قدم رکھا تو سب سے پہلے ان کی نظر کو روش یغ مایی کے ‘هوار هوار ‘پر گئی، جسے انہوں نے ‘ہوا ہوا ‘بناکر، اپنا بنالیا۔

یہ گانا اتنا مقبول ہوا کہ اسے بھارت نے ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تین مرتبہ فلم میں کاپی کیا، جب کہ پاکستان میں بھی اس نے حسن جہانگیر کو شہرت کی بلندیوں پرپہنچا دیا۔ لیکن اس گانے کے بعد حسن جہانگیر نے جتنے بھی گانے گائے وہ ‘ہوا ہوا’ کے قریب بھی نہ آسکے۔

مسعود ملک: ‘ہم تم ہوں گے، بادل ہوگا’

اسی اور نوے کی دہائی میں ‘ہم تم ہوں گے بادل ہوگا’ کافی مقبول ہوا تھا لیکن بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ اسے کس نے گایا۔

اس گانے کی بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے اس کے گلوکار مسعود ملک اس کے بات کوئی دوسرا مقبول گیت نہ بناسکے۔

فاروق روکھڑی کے لکھے اس گیت کے بول نہایت آسان اور کمپوزشن بھی نہ بھولنے والی تھی۔ اسی لیے یہ گانا ہٹ بھی ہوگیا اور امر بھی۔ مسعود ملک نے اس گانے سے حاصل ہونے والی شہرت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔

خلیل حیدر: ‘نئے کپڑے پہن کر جاؤں کہاں’

معروف شاعر ناصر کاظمی کا کلام جس نے بھی گایا، اس نے شہرت ہی پائی لیکن یہ شہرت خلیل حیدر کے زیادہ دن کام نہ آسکی۔ سن 1990 میں ان کا گایا ہوا ‘نئے کپڑے پہن کر جاؤں کہاں ‘بے حد مقبول ہوا لیکن اس مقبولیت نے گلوکار کے نام کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

یہ گیت اپنے زمانے میں پاپ موسیقی اور کلاسیکل سب کے سننے والوں کو اپنے اشعار کی وجہ سے بہت پسند آیا۔ خلیل حیدر نے جہاں جہاں بھی کنسرٹ کیا، اسی گانے کی فرمائش ہوئی۔

بعد میں انہوں نے فلم میں بھی پلے بیک سنگر بننے کی کوشش کی اور یہ گانا فلم ‘ماروی’ میں استعمال بھی کیا گیا لیکن اس میں وہ ناکام رہے اور شہرت کی وہ بلندی جو انہوں نے کپڑے نہ بدل کر حاصل کی اس پر دوبارہ نہ پہنچ سکے۔

سلیم دانش: ‘اماں دیکھ’

پاکستان میں فلموں سے باہر بہت کم ایسے گیت بنے ہیں جن کو ان ان کی مقبولیت کے بعد فلم میں بھی شامل کیا گیا ہو اور فلم کا نام بھی اسی گانےسے لیا گیا ہو۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے گلوکار سلیم دانش کا گایا ہوا ‘اماں دیکھ’ انہی چند گانوں میں سے ایک ہےْ۔ جس کو ہدایت کارہ شمیم آرا نے اپنی فلم میں بھی لیا اور فلم کا نام ‘منڈا بگڑا جائے’ گانے سے لیا۔

یہ گانا بیک وقت بالی وڈ اور لالی وڈ میں فلموں کی زینت بنا لیکن بھارتی موسیقاروں ندیم شرون کا ٹریک ریکارڈ دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ گانا پاکستان نے بنایا، کیونکہ ندیم شرون کے زیادہ تر گانے پہلے پاکستانی اور پھر بھارتی ہوتے تھے۔

اس گانے کے تخلیق کار سلیم دانش نوے کی دہائی میں مقبول تو ہوگئے لیکن ‘اماں دیکھ’ کے ہٹ ہونے کے باوجود کوئی دوسرا ہٹ گانا نہ دے سکے۔ آج بھی 25 سال گزرنے کے بعد بھی جب بھی کوئی اس گانے کا ذکر کرتا ہے، تو سلیم دانش ہی کا نام دماغ میں آتا ہے۔

کومل رضوی: ‘باؤ جی باؤ جی’

کومل رضوی نے نوے کی دہائی میں جہاں ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کے ذریعے ناظرین کے دلوں میں گھر کیا، وہیں ان کے گانے ‘باؤ جی باؤ جی’ نے بھی خوب تہلکہ مچایا۔ انہیں نہ صرف نازیہ حسن کا جانشین کہا جانے لگا تھا بلکہ بھارت میں بھی انہیں کافی پذیرائی ملی تھی۔

اس سپر ہٹ گانے کے بعد بھی انہوں نے گلوکاری کے سلسلے کو جاری رکھا لیکن بعد میں صرف اداکاری تک ہی خود کو محدود کر لیا۔

اس وقت وہ ایک اداکارہ کے طور پر زیادہ جانی جاتی ہیں جنہوں نے ہوائیں، لہریں، سمندر ہے درمیاں اور تانا بانا جیسے ہٹ ڈراموں میں کام کیا۔

عینی خالد: ‘ماہیا’

نئی صدی میں جہاں پاکستان نے کئی نئے اسٹارز بنائے وہیں موسیقی میں بھی کئی نئے سنگرز آئے اور مقبول ہوئے۔ ایسے ہی گلوکاروں میں سے ایک تھیں عینی خالد جنہوں نے صرف چند سال ہی گلوکاری کی لیکن اپنے پہلے گانے کے بل بوتے پر کئی سال مقبول رہیں۔

ان کا پہلا گانا ‘ماہیا ‘ ان کا سب سے مقبول گانا بھی رہا جسے میوزک چارٹس میں تو جگہ ملی ہی، بالی وڈ فلم ‘آوارہ پن ‘میں بھی اس کو شامل کیا گیا۔

اس گانے کی مقبولیت نے جہاں عینی خالد کو راتوں رات اسٹار بنادیا وہیں ان کے مداحوں نے ان سے امیدیں بھی باندھ لیں جس پر وہ پورا نہ اترسکیں اور جلد ہی منظر سے غائب ہوگئیں۔

ہما خواجہ: ‘دل کی لگی’

اور آخر میں بات ایک ایسی گلو کارہ کی جن کا سب سے مشہور گیت ان کا نہیں تھا۔

نوے کے آغاز میں نازیہ حسن نے بپی لہری کا کمپوز کیا گیت ‘دل کی لگی’ گایا تو اسے سننے والوں نے بے حد پسند کیا لیکن جس البم میں یہ گانا تھا، اس کے ریلیز ہوتے ہی نازیہ حسن نے موسیقی کو خیرباد کہا اور یہ گانا ایک طرح سے بہت لوگوں کے ذہنوں میں رہ گیا۔

لیکن پھر کچھ برس بعد سمفنی نامی بینڈ کی لیڈ سنگر ہما خواجہ نے یہی گانا ایک ٹی وی شو میں گایا جو سننے والوں میں کافی مقبول ہوا۔

وہ نسل جس نے نازیہ حسن کے گانے کم سنے انہوں نے یہی سمجھا کہ یہ گانا ہما خواجہ نے گایا ہے اور انہی سے اسے منسوب کردیا۔ البتہ نازیہ حسن کے انتقال کے بعد جب لوگوں کو پتہ چلا کہ دراصل یہ گانا ’آپ جیسا کوئی‘ گانے والی سنگر کا تھا تو تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words