افغانستان میں طالبان: افغانستان کے تھیلے میں بلی

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو دو دہائیاں گزر گئیں۔ یہ بیس برس ہمارے کلیجے پر پیر رکھ کے گزرے۔ امریکہ بہادر نے اپنا غصہ نکالا، گدھے کے کان اینٹھے اور جب راج ہٹ، کھسیاہٹ میں بدل گئی تو ٹہلتا ہوا واپس چلا گیا۔ جاتے جاتے بھی خطے میں صرف خوف اور بے یقینی چھوڑ گیا۔

بظاہر افغانستان میں امی جمی ہے اور طالبان کی حکومت بن رہی ہے۔ یہ طالبان، ان طالبان کی اگلی نسل ہے جن کو کسی نے ‘ہمارے لڑکے’ کہا تھا۔

آج ہم چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارے لڑکے نہیں مگر کچھ تصاویر بتاں نئی کہانیاں سناتی ہیں۔ یہ لڑکے جن کے بھی لڑکے ہیں یہ آنے والا وقت بتا دے گا اور آنے والا وقت کیسا ہو گا اس کے بارے میں شاید ابھی تو خوش فہمیاں ہوں لیکن جلد ہی حقیقت سامنے آ جائے گی۔

حقیقت زیادہ خوش کن نظر نہیں آتی۔ طالبان ایک جنگجو گروہ ہے جو پچھلے بیس برس اور اس سے بھی پچھلے کئی برس مزاحمت اور جنگ کی تربیت اور تجربے سے گزرا۔

نیا افغانستان بدلی ہوئی دنیا میں ایک ایسے بچے کی طرح کھڑا ہے جو کسی طرح سکول سے تو بھاگ آیا لیکن اب کرے کیا؟

چین، ترکی اور روس کی سرپرستی کے ساتھ ساتھ اس جنگ گزیدہ ملک کو مغربی ممالک کی امداد بھی درکار ہو گی۔ یہ امداد اور سرپرستی ملکوں کو کبھی بالغ نہیں ہونے دیتی۔ کم سے کم ہم نے اپنے ہاں تو یہ ہی دیکھا۔

افغانستان میں انفراسٹرکچر تو کافی حد تک موجود ہے لیکن میرے نزدیک کسی ملک کی ترقی کی اساس اس کا معاشرہ ہوتا ہے۔ افغانستان سے اس کا معاشرہ چھن چکا ہے۔

طالبان اس افغان معاشرے کو دوبارہ تعمیر کر پائیں گے یا نہیں، کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ خاص کر خواتین کے بارے میں طالبان کا رویہ آنے والے وقت میں کیا ہو گا؟یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

انڈیا کے لیے طالبان کی واپسی ایک دھچکا ہے۔ وہ کبھی بھی چین سے نہیں بیٹھے گا۔ انڈیا کے علاوہ بھی طالبان کے مخالف فی الحال خاموش ہیں لیکن یہ سکوت بھی وقتی ہے۔ افغانستان کے اندرونی محاذ جو بظاہر ٹھنڈے ہیں، ان میں دبی چنگاریوں کو ہوا دینے والے آس پاس ہی بیٹھے ہیں۔

پاکستان کا رویہ فی الحال خاموش تماشائی کا ہے لیکن ماضی کے تجربات یہ کہتے ہیں کہ جب جب تماشا ہوا اس خاموش تماشائی کو ایسا ‘حال’ پڑا کہ لوگ تماشا بھول کے اسے دیکھنے لگے۔

بیس برس میں ہمارے بال پک گئے اور بچے جوان ہو گئے۔ سعودی عرب کو اپنی پڑ گئی۔ قطر آکا بھائی بن گیا اور کابل سے امریکی مشن چلا گیا پیچھے روسی سفارتخانہ رہ گیا۔

نیرنگئی سیاست دوراں دیکھتے ہیں، سر دھنتے ہیں، سوچتے ہیں کہ اب افغانستان میں کس کس کی پراکسی لڑی جائے گی؟ امکانات تو انڈیا اور چین کے ہیں لیکن انڈیا اتنے داخلی محاذ کھولے بیٹھا ہے کہ منطقی طور پہ اس کا ایسا کرنا ممکن نہیں۔

افغانستان پہ کیا گزرے گی؟ کوئی نہیں بتا سکتا۔ بیس برس پہلے جب امریکہ نے افغانستان کا رخ کیا تھا تو کم سے کم میرا یہ ہی خیال تھا کہ طالبان کا نام نشان مٹ جائے گا اور چند برس کے اندر افغانستان میں ایک جدید جمہوری ریاست قائم ہو گی۔ طالبان اور مجاہدین ماضی کی کہانیاں بن جائیں گے۔

جو ہوا اسے عقل تسلیم نہیں کرتی۔ اس لیے جو ہونے والا ہے اس کے لیے بھی کوئی تجزیہ ناممکن ہے۔ یہاں مجھے اپنی اصول تحقیق کی پروفیسر یاد آجاتی ہیں جو ریسرچ کے ادق اصول پڑھانے کے بعد کہتی ہیں، ‘سماجی تحقیق سائنسی نہیں ہو سکتی کیونکہ بندہ بندہ ہوتا ہے، کھمبا کھمبا ہوتا ہے۔‘

اب ایسا ہے کہ افغانستان میں کھمبوں کی نہیں بندوں کی عبوری حکومت کا اعلان ہو چکا ہے (جس میں کوئی بھی خاتون شامل نہیں) اور اس نئی حکومت کے آنے والے برس ہمیں اچھی طرح سمجھا دیں گے کہ جب کھمبے بندے اور بندے کھمبے بن جائیں تو پڑوس میں رہنے والے تماشائیوں پہ کیا گزرتی ہے۔

طوفان سے پہلے کا سکوت طاری ہے ۔ سب دم سادھے افغانستان کے تھیلے سے بلی نکلنے کے منتظر ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words