آج بازار میں پا بجولاں چلو

حالات کا کیسا جبر ہے کہ اس دور میں ڈیم فنڈ کے نام پر پیسے لینے والا جج ثاقب نثار، حسین نقی سے پوچھتا ہے کہ تم کون ہو اور گرگٹ کے رنگ کی طرح پارٹیاں بدلنے والا وزیر، مینار صحافت سے پوچھتا ہے، ناصر زیدی سے پوچھتا ہے کہ تم کون ہو؟

اس دور کے صحافتی جبر کی مثالیں آنے والے زمانوں میں دی جائیں گی، اس دور کی بدترین سنسر شپ کی کہانیاں اگلے زمانوں کے نصاب میں پڑھائی جائیں گی، اس دور کی فیک نیوز پر زمانے ٹھٹھے لگائیں گے اور اس دور میں خبر دینے والوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر کتابیں لکھی جائیں گی۔

یہ کہنا درست نہیں کہ یہ دور مارشل لاء سے بھی بدتر ہے۔ درست بات تو یہ ہے یہ دور بھی مارشل لاء کا ہی دور ہے، انہی مظالم کا عہد ہے، اسی لوٹ مار کا زمانہ ہے، اسی جبر و ستم کا وقت ہے۔ مارشل کے پہلے ادوار میں صحافیوں کو کوڑے مارے جاتے تھے، اب ہم اتنے ترقی کر گئے ہیں کہ کوڑے نہیں گولیاں ماری جاتی ہیں، نوکریوں سے نکلوایا جاتا ہے، معاشی قتل کیا جاتا ہے، خبر دینے کے جرم میں ’شمالی علاقہ جات کی سیر‘ تجویز کی جاتی ہے، گھروں میں گھس کر وطن پرستوں کو مارا جاتا ہے، دن دیہاڑے اغوا کیے جاتے ہیں، بچوں کی تصویر دکھا کر صحافت چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے لیکن آفرین ہے اس دور کے صحافیوں پر۔ نوکریوں سے جاتے ہیں، ظلم و تشدد برداشت کرتے ہیں، خوف میں زندگی گزارتے ہیں مگر خبر دینے سے باز نہیں آتے۔ یہ خبر پھر ایوانوں کو لرزا دیتی ہے، جھوٹ کے قصر مسمار ہونے لگتے ہیں اور گولی کی آواز پھر فضا میں گونجنے لگتی ہے، نامعلوم افراد پھر سرگرم عمل ہو جاتے ہیں، دھمکیاں پھر موبائل فونز پر جگمگانے لگتی ہیں۔

اس دور میں صحافیوں نے بہت برداشت کیا لیکن اب یوں لگتا ہے برداشت کی حد ہو گئی ہے، اب صحافیوں نے میدان عمل میں آنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ صدر پاکستان کے جوائنٹ سیشن سے خطاب کے موقع پر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ نے اس خطاب پر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک بھر سے صحافی بارہ ستمبر کو پریس فریڈم کمیٹی کے چیئر مین افضل بٹ کی قیادت میں شام چار بجے پارلیمنٹ کی جانب رواں دواں ہوں گے۔ ارادہ یہی ہے کہ اس دن پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ یہ دھرنا صدر مملکت کے خطاب تک جاری رہے گا، ساری رات پارلیمنٹ کے سامنے گزارنے کے بعد اگلے دن شہزادہ ذوالفقار پریزیڈنٹ پی ایف یو جے کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان ہو گا، اس کے بعد حکومت کی غیر منصفانہ اور ظالمانہ میڈیا پالیسیوں پر ملک بھر میں احتجاج کی کال دی جائے گی۔ کہا یہ جا رہے ہے کہ صحافیوں کے مطالبات تسلیم ہونے تک یہ ملک گیر احتجاج جاری رہے گا۔ جو مطالبات اس دھرنے میں پیش کیے جا رہے ہیں وہ صحافیوں کا اصولی موقف ہیں :

پہلا مطالبہ تو یہ ہے کہ جس طرح چن چن کر جمہوریت پسند صحافیوں کو چینلوں اور اخبارات سے جبری طور پر نکالا گیا ہے، ان کو بحال کیا جائے۔

دوسرا مطالبہ یہ ہے 2017 ء میں جن صحافیوں کی تنخواہوں میں چالیس فیصد سے زیادہ کمی گئی تھی، وہ ختم کی جائے اور ان صحافیوں اور اینکروں کو ان کی تنخواہیں ادا کی جائیں۔

تیسرا مطالبہ یہ ہے، جو صحافی کسی نہ کسی طرح ریاستی تشدد کا شکار ہوئے ہیں، ان کے مجرم پکڑے جائیں اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ وہ نام ور اینکر جنھوں نے اس ملک میں سچ بولنے کی کوشش کی اور ان کو زبردستی چینلوں سے نکلوا دیا گیا، ان کے پروگرام بحال کیے جائیں۔

پانچواں مطالبہ یہ ہے کہ پی ایم ڈی اے جیسے کالے قانون کو مکمل طور پر مسترد کیا جائے اور آزادی صحافت کے خلاف ہونے والی اس سازش کا قلع قمع کیا جائے۔

چھٹا اور آخری مطالبہ یہ ہے کہ ٹی وی چینلوں اور اخبارات سے سنسر شپ ختم کی جائے، وٹس ایپ صحافت کا خاتمہ کیا جائے۔

میری دانست میں اس میں یہ مطالبہ بھی شامل ہونا چاہیے تھا کہ ہر ٹاک شو میں بیٹھے دفاعی تجزیہ کاروں کی پروگراموں میں شرکت پر پابندی بھی لگائی جائے کیوں کہ یہ ان کے حلف کے بھی خلاف ہے اور آئین پاکستان کی روح کے منافی بھی ہے۔ سیاسی پروگراموں میں ریٹائرڈ جرنیلوں کا بیٹھنا توہین صحافت بھی ہے اور تضحیک آئین بھی ہے۔

بارہ ستمبر کو ہونے والے اس مارچ / دھرنے میں ملک بھر سے صحافیوں کی تنظیمیں شریک ہوں گی۔ نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم، پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل ناصر زیدی، آر آئی یو جے کے صدر عامر سجاد اور سیکرٹری طارق ورک کے علاوہ ملک بھر میں انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیمیں، وکلا، سیاسی جماعتیں اور سماجی کارکن بھی حصہ لیں گے۔

صحافیوں کے اس جلوس میں پی ایف یو جے کے سیکٹری جنرل ناصر زیدی بھی ہوں گے جن سے وزیر اطلاعات نے ان کا تعارف پوچھا تھا اور بڑی بدتمیزی سے کہا تھا کہ تم کون ہو؟ ناصر زیدی صاحب بھی اس دھرنے میں یہ سوچتے موجود ہوں گے کہ جب پہلی دفعہ معاہدہ تاشقند کے خلاف احتجاج میں ان کو قید ہوئی تھی تو وہ ساتویں جماعت میں تھے تب بھی ان سے یہی پوچھا گیا تھا، 1968 ء میں جب اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی بنی اور ان کو گرفتار کیا گیا، تب بھی ان سے حوالات میں یہی سوال کیا گیا تھا، جب بھٹو نے ان کو پہلا پیپلز پارٹی کا ممبر شپ کارڈ دیا جس کی ممبر شپ فیس اس وقت پچیس پیسے تھی اور اس کے بعد بھٹو کے حق میں مظاہرے کے وقت گرفتاری کے بعد بھی ان سے یہی سوال کیا گیا تھا، 1984 ء میں جب ایک میجر نے انھیں سچ بولنے کی پاداش میں کھڑے کھڑے کوڑوں کی سزا سنائی اور آدھے گھنٹے میں ہی اپنی نگرانی میں اس سزا پر عمل بھی کروایا تب بھی یہی سوال پوچھا گیا تھا، مشرف کے خلاف لکھنے، بولنے اور احتجاج کرنے پر بھی ان سے یہی سوال پو چھا گیا تھا لیکن صحافت میں جرات اسی کو کہتے ہیں۔ ناصر زیدی آج بھی صحافیوں کے حقوق کے لیے سینہ سپر ہو گئے، بالوں میں چاندی آ گئی، نظر کی عینک دبیز ہو گئی لیکن آزادی صحافت کے مطالبے پر اسی ثابت قدمی سے ڈٹے ہوئے ہیں جیسے ان کی پہلی گرفتاری سے پہلے کی حالت تھی۔ ناصر زیدی صحافیوں کے ہیرو ہیں، صحافت کے والی وارث ہیں۔ کل جب یہ حکومت چلی جائے گی اور اس کے وزیروں کو چھپنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی اس وقت بھی ناصر زیدی اسی طرح جمہوریت اور آئین کی حرمت کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں گے۔ ایسے لوگ نہ بوڑھے ہوتے ہیں، نہ وقت انھیں زوال کی طرف لے کر جاتا ہے، یہ زندہ لوگ ہیں اور ہر دور میں زندہ ہی رہتے ہیں۔

فیض کی نظم کا مقام ہے، یہی احتجاج کرنے والے صحافیوں کے لیے پیغام بھی ہے :

آج بازار میں پا بجولاں چلو
چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں
تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بجولاں چلو
دست افشاں چلو مست و رقصاں چلو
خاک بر سر چلو خوں بداماں چلو
راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو
حاکم شہر بھی مجمع عام بھی
تیر الزام بھی سنگ دشنام بھی
صبح ناشاد بھی روز ناکام بھی
ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے
شہر جاناں میں اب با صفا کون ہے
دست قاتل کے شایاں رہا کون ہے
رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمی قتل ہو آئیں یارو چلو
فیض احمد فیض

Comments - User is solely responsible for his/her words