نائن الیون

‏شاہ رخ خان کی ایک مووی دیکھی جس میں وہ ایک کھلاڑی کو تنبیہ کرتے کہتا ہے کہ ”ہر ٹیم میں صرف ایک غنڈہ ہوتا ہے اور اس ٹیم کا غنڈہ میں ہوں“

‏ہم اگر کچھ کہنے کی جسارت کریں تو کہیں گے کہ ہر گھر میں بھی صرف ایک غنڈہ ہوتا ہے اور ہمارے گھر کا غنڈہ اور منڈا تھیں ہماری باجی۔

چار بہنوں سے چھوٹی اوپر تلے دو بھائیوں کے بعد آئیں اور اللہ میاں معلوم نہیں کیوں لڑکوں کی ہیٹ ٹرک کرتے کرتے رک گئے تھے۔ تمام عادتیں، لباس اور پسند وہ، جن کا لڑکیوں میں ہونا بلاوجہ اچنبھا سمجھا جاتا ہے۔ بھائیوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ہر وقت ان کا آؤں گا، کھاؤں گا، جاؤں گا چلتا رہتا تھا۔ سات سال گھر میں راج کیا، سب سے چھوٹے ہونے کے مزے لوٹے اور اس کے بعد بلاوجہ ان کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کے لیے ہم چلے آئے۔

‏کافی عرصے ہمارا ان سے چھتیس کا آنکڑا رہا۔ ضد بحث اور بلاوجہ زبان کو ہلانے کی ہماری باجی بالکل قائل نہیں تھیں نتیجتاً ہماری زبان چلتی اور ان کے ہاتھ۔

ہمارا تو پھر بھی لحاظ کر جاتی تھیں مگر اپنے سے ڈیڑھ سال بڑے بھائی کو معمولی گستاخی پر نہ صرف پچھاڑ دیتی تھیں بلکہ بھائی کے اماں کو دہائی دیتے دیتے کہ دیکھیں امی میں اس کا لحاظ کر رہا ہوں، اور امی کے سنتے سنتے وہ آٹھ دس مکوں سے بھائی کو ناک آؤٹ کر چکی ہوتی تھیں۔

اللہ میاں نے نجانے کون سی بیٹری اور میموری فٹ کر کے بھیجی تھی کہ ایک طرف تو کھانا پکانا، سلائی، کڑھائی، بنائی جیسے علوم بھی گھول کر پی لیے تھے دوسری طرف محلے کے لڑکوں کے ساتھ گلی ڈنڈے اور کرکٹ کھیلنے سے جو ابتدا کی تو کالج پہنچنے پر نہ صرف کالج کی جیولن تھرو، ڈسکس تھرو اور والی بال ٹیم کی رکن بنیں ساتھ ہی انٹر کالج ٹیبل ٹینس چیمپئین شپ کے سنگلز کی رنر اپ اور ڈبلز کی چیمپئین ہونے کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔

جو کام ہمارے انجینئر بھائی سے نہ ہوتا بجلی کے تاروں کا وہ جوڑ توڑ باآسانی وہ کر لیا کرتیں۔ لڑکیوں والے آپا بوجی ٹائپ کھیلوں سے انہیں شدید چڑ تھی۔ محلے کے تمام ہم عمر لڑکوں کی سب سے اچھی ہم مزاج دوست، بہن بھی تھیں اور ان کی دادا بھی۔ دور پرے بھی کسی گلی محلے میں شادی یا میلاد ہو تو یہ ناممکن تھا کہ باجی کے حصے کی بریانی کی پلیٹ گھر پر نہ پہنچے اب چاہے اس کے لیے ان کے چیلوں کو بھیک ہی کیوں نہ مانگنی پڑے۔ شادیوں میں ہلڑ مچانے سے لے کر سیٹیاں بجانے کا ڈپارٹمنٹ بھی ان کے اور ہماری ایک کزن کے پاس تھا۔ منہ میں انگلیاں ٹھونس کر اماں کی قہر آلود نظروں کی پروا کیے بغیر کان پھاڑ سیٹیاں بجاتیں۔

انڈیا گئے تو ایمبیسی کے کمپاؤنڈ میں سائیکل دوڑاتی ریسیں لگاتی پھرتی تھیں۔ ایک دن پتہ نہیں کیا دل میں سمائی کہ ہمیں بڑے پیار سے لالچ دے کر کہا کہ تم سائیکل چلاتی نہیں ہو چلو آج تمہیں بٹھا کر سیر کراتے ہیں۔ ابا کو بالکونی میں دعوت دے کر بلایا گیا کہ دیکھیے اب میں عظمی کو بٹھا کر بھی سائیکل چلا سکتی ہوں۔ ہمیں ایک بلند چبوترے پر کھڑا کیا گیا۔ معلوم نہیں کب ہم بیٹھے اور کب سائیکل سمیت زمین پر الٹے پلٹے، بس اتنا یاد ہے کہ وہ تو گرنے سے پہلے سنبھل گئی تھیں اور ہمیں چوٹ سے زیادہ تکلیف ابا کی ہنسی نے پہنچائی تھی جو بعد کی دلجوئی سے بھی کم نہ ہوئی۔

‏ہم اسکول کالج میں جتنے گمنام باجی اتنی ہی مشہور اور ہر دلعزیز۔ ہر وقت ہنستی کھلکھلاتی!

‏شادی کے بعد سونے پہ سہاگہ موٹر سائیکل چلانا بھی سیکھ لی۔ اماں کو تو ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا کہ یہ لڑکی کسی دن اپنی ہڈی پسلی تڑوائے گی۔ اپنے بچوں کی سپورٹس کی سب سے پہلی کوچ وہ خود تھیں۔ اور آج بھی فیملی پکنک پر پٹھو گرم کھیلنا ہو، بیڈمنٹن، کرکٹ یا کھو کھو ایک ٹیم کی کپتان وہ ہی ہوتی ہیں۔ وہی باجی جن سے ہمارا ہمیشہ اینٹ کتے کا بیر رہا کرتا تھا اب ہماری سب سے قریبی دوست اور رازداں بن چکی تھیں۔

اور پھر جناب سال آیا دو ہزار ایک، مہینہ ستمبر اور تاریخ گیارہ۔ ہاں جی نائن الیون کا واقعہ۔ اس واقعے کے کچھ عرصے بعد کینیڈا سے ہماری بہن کی فیملی فوٹوز آئیں تو ہم دیکھ کر حیران رہ گئے! وہ اپنے ٹریڈ مارک کندھوں تک آتے سٹیپس میں کٹے بالوں والی بہن غائب تھیں، اور تصویر میں بڑے سلیقے سے حجاب لیے کوئی خاتون بچوں کے ساتھ کھڑی تھیں۔

سب حیران کہ یہ کیا ماجرا ہو گیا ہے۔ تھوڑی تشویش بھی لاحق ہوئی کیونکہ یہ وہ زمانہ تھا جب مذہبی اور نسلی امتیاز کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ایسے موقع پر یہ بولڈ سٹیپ! سمجھ نہیں آیا کہ اسے بہادری کا نام دیا جائے یا نہیں! مگر باجی کا فیصلہ اور نظریہ اٹل اور صاف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”حجاب کی وجہ سے یہاں کینیڈا میں سب با آسانی مجھے دیکھ کر میرے مذہب کا تعین کر سکتے ہیں۔

یہ میری مرضی بھی ہے اور بحیثیت مسلمان میری ذمہ داری بھی کہ اس وقت جتنا ممکن ہو کم از کم اپنے آس پاس کے لوگوں کے خیالات میں تبدیلی لے کر آؤں۔ جاب کے سلسلے میں روز میری ملاقات کئی لوگوں سے ہوتی ہے اور جب وہ مجھ سے ملتے ہیں تو انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہم مسلمان تمام مذاہب کے لوگوں سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں اتنے ہی خوش اخلاق اور کھلے ذہن کے ہیں جتنا کہ ایک اچھے انسان کو ہونا چاہیے۔ حجاب پہننا اب میری خوشی ہے“ ۔

‏نائن الیون کا دن دنیا میں تو ایک بھونچال لایا ہی، ہمارے گھر میں بھی باجی کے اس فیصلے کی وجہ سے ایک یادگار کے طور پر ذہنوں میں رہ گیا۔ اور ہاں جی! باجی آج بھی اتنی ہی ایکٹو اور پارہ صفت ہیں۔ جیراڈ سٹریٹ پر ہوئے دیسی میلے میں پنجابی گانے گاتے سنگر کو جب انہوں نے ہم سب کی بھرپور فرمائش پر سیٹیاں بجا بجا کر داد دی تو آس پاس کے لوگ کھلکھلا کر ہنسے بھی اور ان کا بھرپور ساتھ بھی دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words