تبدیلی کی سوچ
ارتقا کے اصول سے انسان کو بھی کوئی استثنا حاصل نہیں ہے۔ انسان کا جسم، سوچ، معاشرہ سب ارتقا کے مستقل اور مسلسل عمل سے گزرتے ہیں۔ مزاج، عادات، سوچ اور اقدار کا ڈھانچہ تشکیل پا چکا ہوتا ہے۔ بیشتر انسان اپنی پوری زندگی اسی ڈھانچہ کے تحت گزار دیتے ہیں۔ ان کی ارتقائی سوچ کا محور اگر کوئی ہوتا ہے تو وہ مادی ترقی ہوتی ہے جس سے وہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کر سکے وہ اس چکر سے نکلتا ہی نہیں کہ اس سے آ گے اور اپنی ذات سے روشناس ہو سکے۔
اس کالم میں ماہرین نفسیات ابراہم میسلو کی تھیوری Maslow Hierachy of need کا ذکر کروں گی۔ تاکہ آپ اس سے روشناس ہو سکیں۔ ہو سکتا ہے میری عینک سے آپ کو کچھ آ سان لگے اور آپ کے اندر مثبت اثرات مرتب ہوں۔ کیوں کہ تبدیلی فطرت کا تقاضا ہے اور مثبت تبدیلی بہتری کی طرف لاتی ہے۔ اور اس کو پڑھ کی ایک بار سوچیں ضرور کہ آج ہم کس مقام پر ہیں؟
ابراہم میسلو نے 1943 میں بے شمار سروے اور اپنے تحقیق کی روشنی اس تھیوری کو مرتب کیا۔ یہ ارتقا کا ایک عمل ہے۔ جو انسان کی بنیادی ضروریات ہیں اس کے چند پہلوؤں کو عیاں کیا ہے۔
ابراہم میسلو سب سے پہلے بنیادی ضروریات Physiological need کا ذکر کرتا ہے۔ جن میں کھانا، پینا، اور پناہ یہ انسان کی بنیادی ضروریات ہے۔ جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ پہلی ضرورت وہ صاف فضا میں سانس لے رہا ہے۔ اس کے پیٹ کی آگ بجھ رہی ہے۔ پانی مل رہا ہے۔ انسانی ضروریات پوری ہو رہی ہیں تو وہ پھر اس سے آ گے کا سوچے گا۔ ایک انسان کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہو رہنے کو جگہ نہ ہو اور اس کو کہا جائے اپنے مشن پر فوکس کرو آ گے بڑھو کچھ تخلیقی کرو۔ تو ایسا کبھی نہیں کر سکے گا اس کی سوچ اپنے ان مسائل کے گرد ہی گھومتی رہے گی۔
اس کے بعد آتی ہے اس کی حفاظت Safety need کہ وہ جس جگہ رہ رہا ہے وہ محفوظ ہے یا نہیں۔ یا وہ باہر نکلے گا تو اس کو گولی مار دی جائے گی یا اس کے ساتھ کچھ بھی برا ہو سکتا ہے۔ وہ باہر کی فضا میں آزادی سے سانس لے سکے گا کہ نہیں۔ وہ جس جگہ کام کرتا ہے وہ جگہ محفوظ ہے یا نہیں۔ اس کے وسائل، خاندان، جائیداد محفوظ ہیں یا نہیں۔ اگر اس کو ہر وقت ایسے خطرات لاحق ہو گئے گے تو وہ انسان کبھی کچھ بڑا نہیں سوچ سکے گا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں ہمارے معاشرے میں یہ سکیورٹی ہے؟ زیادہ تر لوگ اس ہی فکر میں رہتے ہیں کہ ہم محفوظ ہیں کہ نہیں۔
تعلقات Relationship need رشتے انسان کی اہم ضرورت ہیں۔ والدین، بیوی بچے، دوست جو کہ اس کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ گھر والوں سے تعلقات کیسے ہیں؟ ان کے ساتھ جذبات کا رشتہ ہے یا بس ان کی ضروریات پوری کرنے کی حد تک ہے۔ دوست کیسے ہیں؟ کہ ضرورت پڑنے پر مدد کرتے ہیں یا آ نکھ بچا کر گزر جاتے ہیں۔ یہ رشتے مل کر بس ذہنی پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔ یا اس کے لیے سکون کا باعث بنتے ہیں۔ اگر یہ سب پورا ہو رہا ہے تو پھر اس انسان میں esteem پیدا ہوتی ہے۔
خود اعتمادیSelf Esteem اس میں عزت، کامیابی، دوسروں کی عزت کرنے کا ہنر خود بخود آ جاتا ہے۔ اگر وہ پہلے تینوں مراحل میں رہے گا۔ تو خود اعتمادی تک کبھی نہیں آ سکے گا۔ جب آپ خود اعتمادی تک آ جاتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی عزت کرتے ہیں اور دوسروں کی۔ اپنے بارے میں اچھا سوچتے ہیں اور دوسروں کا بھی۔ جب خود اعتمادی کی کمی ہو گی تو آپ کے خیال اور مشوروں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اور نہ آپ کبھی اس سے آ گے کا سوچ سکتے ہیں۔
حقیقت Self Actulization اس کا تعلق انسان کی سوچ سے ہے۔ خودی یا اقبال بننا۔ حقیقت کا سفر خود آ گاہی کا سفر ہے۔ جب انسان اس لیول پر پہنچتا ہے جہاں یہ فکر نہیں ہوتی لوگ کیا کہیں گے وہ اس پھندے سے آ زاد ہو جاتا ہے۔ بس اپنے کام میں جت جانا اور کسی کی فکر نہ کرنا۔ کہ کوئی گولی مارتا ہے تو مار دے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے مشن کے لیے مرنا جانتے ہیں۔ اور بڑا حقیقت میں رہتے ہیں۔ جھوٹ خود بخود ختم ہونے لگتا ہے۔ اس کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ سب خود بخود نہیں ہوتا بار بار کوشش کرنی پڑتی ہے۔ کوشش نہیں کریں گے تو اچھے کیسے ہوں گے۔
کام دل سے کریں۔ جب دل کرے کام کریں۔ نہیں تو کوئی فرق نہ پڑے۔ مسئلے خود حل ہو جائیں گے۔ بس حقیقت میں رہنا سیکھ لیں۔ اپنے دل کو کھولیں۔ دل پہ جمی کالک کو اتاریں۔ حقیقت کو تسلیم کریں۔ ماضی میں نہیں حال میں جینا سیکھیں۔ ہمیں معاشرے کو آ گے لے کر جانا ہے۔ اپنی سوچ کا دائرہ وسیع کرنا ہو گا۔
اب آپ نے بتانا ہے ہم کہاں ہیں؟ اور کیا کرنا چاہیے؟ ہم ابھی بھوک، پیاس کی جنگ لڑ رہے ہیں یا پھر حفاظت کو لے کر جان لالے پڑے ہیں؟ یا اپنے گھروں کے مسائل کی وجہ سے ہلکان ہو رہے ہیں؟ یا ہم خود اعتمادی کا سفر کر کے حقیقت کی منازل پار کر رہے ہیں؟
