خود مختار ریاست اور آ زادی

ہائے افسوس! ہم ہر وہ قربانی بھول کر یاد رکھ سکے تو بس اتنا ایک ہی لفظ، ”آزاد“ بس ہم آ زاد ہیں۔ لیکن اس آ زادی کے معنی کو اپنی مرضی کا لبادہ اوڑھا کر اس قدر ذہنی غلام بن چکے ہیں کہ ہمیں خود اس پر احساس ندامت تک نہیں ہوتا۔ آج سے پہلے جس غلامی سے نجات کے لیے تگ و دو کی گئی آج وہ غلامی شوق سے قبول کرنے کو تیار ہیں۔ بلکہ یہ کہنا

Read more

خاموشی (افسانہ)

اندھیرے کمرے میں خامشی اوڑھے وجود میں اچانک اک حرکت ہوئی۔ تو زندگی کا احساس جاگا۔ سانسوں کا شور اس بات کا گواہ تھا، کہ وہ زندہ وجود اس قدر خاموش تھا، جیسے اس میں زندگی کی رمک باقی نہ رہی ہو۔ مگر چلتی سانسوں نے اسے اس خوبصورت قید سے رہا کر کہ سوچوں کی کھڑکی پہ زنگ آلود کواڑ لگا کر واپس تلخ الم میں تڑپتا چھوڑ دیا۔ وہ بے ساختہ چیخ اٹھا :

”نہیں کرنی مجھے تم سے بات، نہیں چاہے مجھے ایسی زندگی جس میں محبت کے علاوہ ہر شے میسر ہو۔ اتنی محنت اور کوششوں سے ملا ہی کیا ہے سوائے اذیت کے“ مہروز اس کا نام سنتے تڑپ اٹھا۔ وہ اس آ واز سے اپنے گزرے وقت کی تلخیوں کو محسوس کرتے، سگریٹ کے لمبے لمبے کش لے رہا تھا۔ مہروز کا تعلیم سے لگاؤ اسے ہائر ایجوکیشن تک لے گیا تھا۔ پڑھنے کے علاوہ وہ دیگر تمام سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہتا تھا۔ اس کے دوسرے بھائی زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ لیکن وہ اپنے والد کے کاروبار میں شامل ہو گئے تھے۔

Read more

مائے نی میں کنوں آکھاں

شام کے وقت کچے صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کیے۔ چولہے پہ قہوہ کا پانی دم پہ رکھے دھواں ہوتا چہرہ لیے وہ آگ جلانے میں مشغول تھی۔ کہ اس کی واحد دوست کی رضیہ کی آ مد ہوتی ہے۔ رضیہ: السلام علیکم، کیا حال ہے تمہارا؟ نور گل: وعلیکم السلام، میں ٹھیک ہوں۔ تم سناؤ؟ رضیہ: میں تو ٹھیک ہوں، تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی۔ نورگل: (روتے ہوئے ) میں قسمت کی ہاری اور کہہ بھی کیا سکتی

Read more

آٹے کا چورن

بھوک میں کوئی کیا بتلائے کیسا لگتا ہے سوکھی روٹی کا ٹکڑا بھی تحفہ لگتا ہے یہ تو کھلونے والے کی مجبوری ہے ورنہ کس بچہ کا رونا اس کو اچھا لگتا ہے جب سے چھوڑ دیا ہے پیسہ دو پیسہ لینا اب تو بھکاری بھی کچھ عزت والا لگتا ہے یارو اس کی قبر میں دو روٹی بھی رکھ دینا مرنے والا جانے کب کا بھوکا لگتا ہے محلوں کے گن گاتا بھی تو کیسے اے اخلاقؔ تو تو

Read more

رشتوں کی امرتی

زندگی کا اک اہم پہلو رشتے ہیں۔ ہم رشتوں سے گھرے ہوئے ہیں۔ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ہماری زندگی رشتوں کے بغیر ادھوری ہے۔ رشتہ خون کا، احساس کا، انسانیت کا، دوستی، محبت کا، یہ ہی سرمایہ حیات ہوتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ رشتے نہایت نازک ہوتے ہیں۔ خود غرضی، لالچ، طعنہ زنی، الزام تراشی، بے ایمانی، نفرت و غصہ اور بے احتیاطی کے سبب رشتوں میں تلخی آجاتی ہے جو رشتوں کو گھن لگا دیتی

Read more

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں چالیس دن

دسمبر کی ٹھٹھرتی رات میں ہسپتال کے ٹھنڈے فرش کی ٹھنڈک وجود کو ہی نہیں روح کو بھی گھائل کر رہی تھی اور یہ درد کسی آ بلے کی طرح کسی وقت بھی بہہ جانے کو تیار تھا۔ دور کہیں ذہن کے دریچوں میں ایک فلم سی چلنے لگی۔ وہ دن تھا نو دسمبر کا جب پہلی بار ہسپتال کا رخ کیا۔ اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ خیر اس کا آغاز کیسے ہوا وہ بیان کرتی چلوں۔ والد

Read more

تبدیلی کی سوچ

ارتقا کے اصول سے انسان کو بھی کوئی استثنا حاصل نہیں ہے۔ انسان کا جسم، سوچ، معاشرہ سب ارتقا کے مستقل اور مسلسل عمل سے گزرتے ہیں۔ مزاج، عادات، سوچ اور اقدار کا ڈھانچہ تشکیل پا چکا ہوتا ہے۔ بیشتر انسان اپنی پوری زندگی اسی ڈھانچہ کے تحت گزار دیتے ہیں۔ ان کی ارتقائی سوچ کا محور اگر کوئی ہوتا ہے تو وہ مادی ترقی ہوتی ہے جس سے وہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کر سکے وہ اس چکر

Read more

جذبات، قلم اور میں

لفظوں کو جوڑنے سے لے کر لکھاری بننے تک کا سفر کن مراحل کو طے کر کے مکمل کیا جاتا ہے۔ یہی داستاں چند لفظوں کی مالا میں پرو کر ورق کی زینت بنانے کی ایک کوشش۔ یہ راہ خود سے آگاہی کی ہے۔ قلم کا رشتہ آپ کو ہر چیز سے بھی قریب کر دیتا ہے۔ آپ ہر شے کو الگ زاویے سے دیکھنے لگتے ہیں۔ اس سے نت نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ پھر آپ اس کو اپنے

Read more

دو ہزار بیس کی جھلکیاں اور نئی امیدیں

نہ کوئی غم کا لمحہ کسی کے پاس آئے خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے کیلینڈر کی تاریخ بدلنے سے لوگوں میں نئی امید کی لہر دوڑ گئی ہے جس کا اظہار ہر جگہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یوں جیسے بس تھک چکے ہیں خوف کی لہروں سے۔ جانے یہ بدلتے ہندسے وقت کی مانگ میں امن کے موتی پرو دیں اور گزرے سال کے خساروں کا مداوا ہو سکے۔ اور یہ نئے ہندسے کچھ اچھا

Read more

الفت کی ایک مثل تاریخ کے باب سے

نور الدین زنگی ایک عابد شب بیدار تھا۔ وہ ایک عظیم الشان سلطنت کا فرمارواں ہونے کے ساتھ ایک درویش صفت انسان تھا۔ جس کی راتیں رب کے حضور سجدہ ریزی میں اور دن جہاد میں گزرتا تھا۔ وہ عظمت و کردار کا پیکر تھا، جس نے اپنی نوک شمشیر سے اسلام کا سنہری باب لکھا۔ اس کا روز کا معمول نوافل پڑھ کے محبوب رب العالمین کو درودشریف کا تحفہ بھیجنا اور بستر پہ لیٹ جانا۔ اور چند ساعتوں

Read more

کیا ہم ذہنی معذور ہیں؟

قدرت کے کارخانے میں ناکارہ کچھ نہیں ہے۔ اس نے بے سبب یوں ہی نہیں کائنات میں ہر شے بنا دی۔ اس نے بڑی محبت سے ہر شے ہر زرہ خوبصورت بنایا ہے۔ ہر ایک کا اپنا کشش کا دائرہ ہے جو ایک مدار میں گردش کرتا ہے۔ حسن کا میرے نزدیک یہ معیار ہے جو آنکھوں کو بھلا لگے اور دل اس کی گواہی دے بس وہ خوبصورت ہے۔

مگر ہمارے ہاں حسن کا معیار ہی کچھ اور مانا جاتا ہے۔ بہترین برانڈ کے کپڑے پہنے برانڈ کی گھڑی پرفیوم اور میک اپ کے ڈھیروں لوازمات لو جی ہم ہو گئے حسین۔ یہ کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے شرط یہ ہے آپ کے پاس ڈھیروں پیسہ ہو جو آپ کو پر کشش بنا دے۔

Read more

نمبروں کے پھندے

نفسا نفسی کی اس دوڑ میں ہم اس قدر آگے نکل گئے ہیں۔ کہ جیسے بھی ہو بس ہم آگے بڑھتے جائیں اتنا آگے کے سب پیچھے رہ جائیں۔ اور ہر طرف ہماری واہ واہ ہو اس کی وجہ ہم خود ہوں یا اولاد بس ریس میں پہلا نمبر ہمارا ہو۔ اور اس سوچ میں اتنی شدت پسندی آ گئی ہے جس کے برے نتائج بھی ہمیں بھگتنے پڑتے ہیں۔ ایسی ایک خبر سننے کو ملی جس نے مجھے بہت

Read more

فیری لینڈ کا یادگار سفر

فیری میڈوز کا صرف خواب دیکھنا اور اس تک پہنچنے کے لیے تگ و دو کرنا دونوں الگ الگ کام ہیں۔ ایک آسان ہے جبکہ ایک مشکل۔ خواب آپ کہیں بھی اور کسی بھی شہر کے آرام دہ کمرے میں بیٹھ کے دیکھ سکتے ہیں لیکن وہاں تک جانے کے لیے سفر کرنا انتہائی صبر آزما کام ہے۔

بہرحال سننے میں آیا تھا کہ سفر جیسا بھی ہو کٹ جاتا ہے اور اگر اس سفر میں اپنوں کا ساتھ ہو تو پھر آپ اس سفر میں انگریزی والا سفر کرتے ہوئے بھی یادوں کی پٹاری میں اچھی اچھی یادیں سمیٹ لاتے ہیں۔

میرا یہ پہلا سفرنامہ بھی اسی شمال کا ہے جہاں یہ فیری میڈوز بستا ہے۔ دن تھا گرمی کا اور شہر تھا لاہور جہاں سے فیری لینڈ کے اس سفر کے لیے لاہوری فیریز یوں رخت سفر باندھ کے ساتھ نکلی کہ جیسے گویا کسی شادی کے فنکشن پر پہنچنا ہو۔ بہرحال یہ ایک کزنز ٹرپ تھا جس کا پلان کافی عرصے تشکیل دیا جا رہا تھا اور بالآخر مقررہ دن ہم قرآن کے سائے تلے روانہ ہوئے۔

Read more