عصمت چغتائی کا افسانہ ”خرید لو“
عصمت چغتائی کا افسانہ ’خرید لو‘ کنزیومر ازم کے گرد گھومتا ہے۔ ساتھ ہی ایک نوجوان لڑکی کی نفسیات کو بھی عمدگی سے سامنے لایا گیا ہے۔ کیتھی جو کہ پندرہ سالہ لڑکی ہے جیسے تیسے کر کے میک اپ پر میک اپ خریدتی رہتی ہے۔ کوالٹی سے کہیں زیادہ کوانٹٹی کو سامنے رکھتی ہے۔ اندر ہی اندر کئی بے چینیوں کی شکار ہے۔
کبھی اپنے چہرے کو لے کر، کبھی بالوں اور کبھی اپنے وزن کے حوالے سے ہر وقت پریشان رہتی ہے۔ پھر ہمارے اشتہارات جو لوگوں کی شخصیت میں موجود خلاؤں سے کھیلتے ہوئے بالکل غیر ضروری چیز کو بھی آب حیات بنا کر پیش کرنے لگتے ہیں۔ کیتھی اپنی بے چینی کا علاج میٹریل اشیاء میں ڈھونڈتی ہے۔ ماڈلز کے آئیڈیل اشتہارات اس کی فکر اور بے چینی میں اضافہ کرتے جاتے ہیں اور تو اور ہم عمروں سے فیشن میں مقابلہ بھی تو ہوتا ہے۔
میٹریل کو ہر صورت حاصل کرنے کی لت کیتھی جیسے نوجوانوں کو جرائم کی طرف لے جاتی ہے۔ کیتھی کی والدہ مسز راس ایک سنگل پیرنٹ ہیں جو مشکل سے ہی گزارا کر پاتی ہیں۔ کیتھی کی اور اور پانے کی لت اسے اشیا ء کو جائز نہیں تو ناجائز طریقوں کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ اب میک اپ اور وزن کم کرنے کے کام آنے والی چیزیں، کپڑے وغیرہ مالز میں سے چرانے لگتی ہے۔ اس کے ساتھی بھی کچھ اسی طرح کے ہیں اور ان سب کے ہاں یہ اب معیوب سمجھے جانے کی بجائے ایک عام بات بن چکا ہے۔
افسانے کے اختتام میں یہی کیتھی سیڑھیوں پر بری حالت میں پڑی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے پاس اور بھی نوجوان لڑکے لڑکیاں موجود ہوتے ہیں۔ وہ بھی کچھ اسی طرح کے حلیے میں پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ کسی مال سے کچھ چراتے وقت پکڑے جانے پر کیتھی کو چند ہفتوں کی جیل ہو جاتی ہے اور وہاں وہ نشے کی لت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ یہ لت اس کی میٹریل کی لت سے بھی خوفناک ثابت ہوتی ہے اور اسے دنیا سے بے خبر کر دیتی ہے۔ کیتھی گھر بار چھوڑ کر پبلک مقام کی کچھ سیڑھیوں پر اپنے جیسے نوجوانوں میں پناہ ڈھونڈ لیتی ہے۔
افسانے میں نوجوانوں کے جذبات اور محبت سے عاری جنسی تعلقات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ کسی طرح نفسیاتی مسائل کے شکار نوجوان فقط توجہ ہٹانے کے لئے ایسے تعلقات کی طرف بڑھتے ہیں جن سے محبت اور صحت مند جذبات کا کوئی تعلق نہیں ہوتا!


