چین عالمی اقتصادی تجارتی میلوں کا مصروف مرکز

کووڈ۔ 19 کے باعث اس وقت دنیا بھر کی معیشتیں تنزلی کا شکار ہیں۔ معاشی ماہرین وبائی صورتحال کے باعث اقتصادی بحران کو صدی کی ایک بڑی آزمائش قرار دے چکے ہیں جس سے کوئی بھی ملک تنہا نبردآزما نہیں ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کے درمیان انسداد وبا سمیت اقتصادی بحالی کے لیے اتحاد و تعاون کی ضرورت جس قدر آج محسوس کی جا رہی ہے ماضی میں شاید اس کی کوئی مثال ہمارے سامنے نہیں ہے۔ معیشت کا ذکر کیا جائے تو اس وقت انسداد وبا کے ساتھ ساتھ اقتصادی سماجی سرگرمیوں کی بحالی تمام ممالک کی یکساں خواہش ہے۔

چین نے چونکہ موثر طور پر وبا پر قابو پا لیا ہے اس لیے دیگر ممالک کی نسبت یہاں معاشی سرگرمیوں میں کافی تیزی آئی ہے اور اس کی ایک حالیہ مثال چین کے صوبہ گوانگ شی کے شہر نان نینگ میں منعقدہ 18 ویں چین۔ آسیان ایکسپو اور چین۔ آسیان تجارت و سرمایہ کاری سمٹ ہے۔ جن کا موضوع ”زمینی اور سمندری راستوں کے نئے مواقع اور چین۔ آسیان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر“ ہے۔ چار روزہ ایکسپو کے دوران 40 سے زائد ممالک اور خطوں کے کاروباری اداروں کی آن لائن اور آف لائن شرکت اس اہم سرگرمی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

حالیہ ایکسپو کے دوران سرمایہ کاری کے حوالے سے تقریباً 47 ارب ڈالرز مالیت کے 179 بین الاقوامی اور مقامی معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ ان معاہدوں میں الیکٹرانک انفارمیشن، ڈیجیٹل معیشت، توانائی اور ماحولیاتی تحفظ، لائٹ انڈسٹری اور ٹیکسٹائل، آٹو موبائل اور نئی توانائی وغیرہ شامل ہیں۔

ایکسپو کے دوران چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ چین آسیان کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی اعتماد کو مستحکم کرنے، انسداد وبا میں تعاون کو فروغ دینے، اقتصادی و تجارتی شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے، علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے کے جلد نفاذ کو فروغ دینے اور مشترکہ طور پر ”دی بیلٹ اینڈ روڈ“ کی تعمیر کے لئے تیار ہے۔ چین متعلقہ فریقوں کے ساتھ اعلیٰ معیاری اسٹریٹجک شراکت داری کو تشکیل دینے کا خواہاں ہے اور خطے میں خوشحالی اور ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے کوشش جاری رکھے گا۔

وبائی صورتحال کے تناظر میں اس اہم تجارتی سرگرمی کے بروقت انعقاد سے عالمی سطح پر تجارتی اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے ایک مربوط علاقائی مارکیٹ اور ایک ممکنہ پلیٹ فارم کے امکانات واضح ہوئے ہیں۔ چین آسیان تعلقات کے ایک اہم پہلو کے طور پر، یہ ایکسپو طویل عرصے سے دونوں فریقوں کی ترقیاتی کوششوں کو ہم آہنگ کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ رواں برس علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری اور کلیدی صنعتوں پر 26 اعلیٰ سطحی فورمز اور تقریباً 150 پروموشن پروگرام منعقد کیے گئے، یوں آسیان ممالک کو یہ مواقع میسر آئے ہیں کہ وہ ترقی کے مختلف مراحل میں چین کے ساتھ ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے صارفین کی منڈیوں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، توانائی اور پیشہ ورانہ خدمات میں مزید تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔

رواں سال بھی ایکسپو کے دوران وبائی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک نمائشی علاقہ خصوصی طور پر طبی خدمات اور رسد کے لیے قائم کیا گیا، جس میں فرنٹ لائن ورکرز کے لیے زندگی بچانے والی نمایاں مصنوعات بشمول وائرس ٹیسٹنگ آلات اور دیگر اشیاء میں شرکاء نے نمایاں دلچسپی لی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2020 میں چین اور آسیان کے مابین طبی مصنوعات کا مجموعی تجارتی حجم 18 بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے جس میں سال بہ سال اضافے کا تناسب 72 فیصد ہے، اسی طرح آسیان وبائی صورتحال کے باوجود چین کا ایک اعلیٰ زرعی تجارتی شراکت دار ہے۔

چین کی بڑی اور مضبوط مارکیٹ آسیان ممالک کے لیے بہت پرکشش ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ چین اور آسیان تعلقات میں ہر سطح پر مکالمے اور تبادلے کو فروغ دیا گیا ہے، جس سے وہ ایک دوسرے کے اچھے پڑوسی، اچھے شراکت دار اور اچھے دوست بن چکے ہیں، کثیر الجہتی اسٹریٹجک شراکت داری اور تمام محاذوں پر زبردست پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چین اور آسیان ممالک اپنی ترقیاتی حکمت عملیوں کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں، یوں دونوں فریقوں کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں جس سے نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی مشترکہ مفادات پر مبنی بین الاقوامی تعلقات کی عمدہ مثال قائم کی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words