انسان دوستی سے دوستی


جب کوئی اجنبی یا دوست مجھ سے پوچھتا ہے کہ آپ کا فلسفہ حیات کیا ہے تو میں کہتا ہوں ’انسان دوستی‘ ۔

وہ پوچھتے ہیں ’انسان دوست کون ہوتا ہے؟‘ تو میں ان سے کہتا ہوں کہ اس کا جواب چند جملوں میں نہیں دیا جا سکتا اس کے لیے مجھے قدرے طویل جواب دینا ہوگا۔ چنانچہ آپ میں آپ کی خدمت میں وہ قدرے طویل جواب پیش کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ بھی اپنے آپ سے پوچھ سکیں کہ کیا آپ بھی انسان دوست ہیں؟ اگر ہیں تو کیسے بنے اور اگر نہیں ہیں تو کیوں نہیں بنے؟

جب میں پاکستان کے شہر پشاور میں پل بڑھ رہا تھا تو مجھے مختلف محفلوں میں مختلف لوگ ملتے تھے جن کی مختلف شناختیں تھیں۔ یہ شناختیں رنگ ’نسل‘ قومیت ’مذہب اور زبان کی بنیادوں پر استوار کی گئی تھیں۔ لوگ کہتے تھے

میں پختون ہوں۔ میں سندھی ہوں۔ میں بلوچی ہوں۔ میں پنجابی ہوں
یا
میں مسلمان ہوں۔ میں عیسائی ہوں۔ میں ہندو ہوں
یا
میں پاکستانی ہوں۔ میں ہندوستانی ہوں۔ میں افغانی ہوں

اس ماحول میں جب میں اپنے آپ سے پوچھتا تھا کہ میں کون ہوں تو اندر سے جواب آتا تھا۔ میں ایک پنجابی پاکستانی مسلمان ہوں۔

دھیرے دھیرے مجھے احساس ہوا کہ رنگ ’نسل‘ مذہب اور زبان کی شناختیں مجھے دوسرے لوگوں سے جدا کرتی ہیں۔ یہ شناختیں مجھے موروثی طور پر ملی ہیں میں نے شعوری طور پر انہیں نہیں چنا۔

کئی برس کی سوچ بچار کے بعد میں نے اپنی شعوری شناخت چنی اور وہ شناخت۔ انسان۔ ہونے کی تھی۔

میں نے یہ محسوس کیا کہ انسان ہونا میری بنیادی شناخت ہے اور پنجابی اور پاکستانی ہونا میری ثانوی شناختیں ہیں۔

جب میری اپنی بنیادی شناخت انسان ہونے کی بن گئی تو پھر میں نے دوسرے لوگوں کو بھی اس طرح دیکھنا شروع کیا کہ ان کی بھی بنیادی شناخت انسان ہے اور رنگ نسل مذہب اور زبان کی شناختیں ثانوی ہیں۔

مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ میں جس معاشرے میں پلا بڑھا تھا میں نے اس معاشرے کے رنگ ’نسل‘ مذہب اور زبان کے تعصبات کو لاشعوری طور پر اپنا لیا تھا اور اپنی سوچ ’فکر اور شخصیت کا حصہ بنا لیا تھا۔ وہ خیالات‘ جذبات اور نظریات میری

SOCIAL, RELIGIOUS AND CULTURAL CONDITIONING

کا حصہ بن چکے تھے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اس متعصب سوچ اور فکر کو بدلنا ہے اور اپنے آپ کو سمجھانا ہے کہ

عورت پہلے انسان ہے پھر عورت
کالے پہلے انسان ہیں پھر کالے
ہندو پہلے انسان ہیں پھر ہندو

جب میں ایسا کرنے میں کامیاب ہوا تو میرے لیے کسی عورت کسی کالے اور کسی ہندو انسان سے دوستی کرنے میں کافی آسانی ہوئی۔ اسی لیے اب

میری عورتیں دوست ہیں
کالے مرد اور عورتیں میرے دوست ہیں
اور
عیسائی یہودی اور ہندو مرد اور عورتیں بھی میرے دوست ہیں

ہم ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں احترام کرتے ہیں مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ میں نے تو دوسری رنگ نسل مذہب اور زبان کے انسانوں کو قبول کرنا سیکھ لیا لیکن بعض دفعہ ان کے لیے مجھے قبول کرنا آسان نہ تھا۔

میرے لیے مسئلہ نہیں تھا کہ کوئی ہندو ہے عیسائی ہے یا مسلمان لیکن ان کے لیے مسئلہ تھا کہ میں ایک دہریہ ہوں اور ایک غیر روایتی زندگی گزارتا ہوں۔

چنانچہ میں نے کینیڈا میں غیر روایتی انسان دوستوں کو جمع کرنا شروع کیا اور ایک انسان دوستوں کا گروپ بنایا اور اس کا نام فیمیلی آف دی ہارٹ

FAMILY OF THE HEART
رکھا۔ ہم نے دوستوں کی اس تنظیم کے پرچم تلے پروگرام کرنے شروع کیا
کچھ پروگرام موسیقی کے تھے
کچھ پروگرام ادبی تھے

ہم نے متنازعہ موضوعات پر سیمینار بھی کیے اور ان سیمیناروں کی اینتھالوجی بھی چھپوائی۔ ہم نے سیمیناروں میں دائیں اور بائیں بازو کے لوگوں کو بلایا ہم نے خدا کو ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کو ایک سٹیج پر جمع کیا تا کہ لوگ دونوں اطراف کی دلیلیں سنیں ’مکالمہ کریں اور سوچ سمجھ کر اپنی زندگی اور مستقبل کے فیصلے خود کریں۔

میری کئی ایسے مذہبی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں جن کی مجھ سے پہلے کسی غیر مذہبی یا لامذہبی انسان سے ملاقات نہ ہوئی تھی۔ وہ مجھ سے مل کر اور میرے اخلاق کو دیکھ کر حیران ہوئے چونکہ ان کا موقف تھا کہ اخلاقیات کا منبع مذہب ہے اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ لامذہب لوگوں کا کوئی اخلاق ہی نہیں ہوتا۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ اخلاقیات کا تعلق انسانیت سے ہے مذہب سے نہیں۔ میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں لیکن کسی مذہب کی پیروی نہیں کرتا۔ ایک انسان دوست ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ مختلف نسلوں قوموں اور ادوار کی دانائی مشترکہ دانائی ہے جو ہماری مشترکہ میراث ہے۔ ہمیں دانائی کی بات جہاں سے بھی ملے قبول کر لینی چاہیے۔

ساری دنیا کے انسان دوست یہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا میں ایسے معاشرے قائم ہوں جہاں سب انسان رنگ ’نسل‘ مذہب اور زبان سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے سے آشتی سے رہ سکیں اور کرہ ارض پر پر امن معاشرے قائم کر سکیں۔ انسان دوستوں کا یہ نظریہ ہے کہ ہم سب انسان ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں کیونکہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

میں نے اپنے انسان دوستی کے فلسفے اور ایک انسان کا دوسرے انسان سے رشتے کے بارے میں ایک نظم لکھی تھی حاضر خدمت ہے

خصوصی رشتہ
تمہارا اور میرا
ایک رشتہ ہے
خاص رشتہ
ایک بہت ہی خاص رشتہ
یہ رشتہ جسمانی یا رومانی نہیں ہے
یہ جذباتی ’روحانی اور تخلیقی رشتہ ہے
ایسا رشتہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا
ایسا رشتہ فریقین کو بہتر انسان بناتا ہے
ہم دو انسان ہیں
اور ہمارا رشتہ
صرف ہم دو کو ہی نہیں ملاتا
یہ ہمیں پوری انسانیت سے بھی ملواتا ہے
وقت کے ساتھ ساتھ
زیادہ سے زیادہ انسان
اس حقیقت سے واقف ہو رہے ہیں
ہر انسان پوری انسانیت سے ایسا ہی جڑا ہوا ہے جیسے
ہر درخت پورے جنگل سے
ہر پھول پورے گلستان سے
ہر ستارہ پوری کہکشاں سے
اور
ہر قطرہ پورے سمندر سے
جڑا ہوتا ہے
یہ رشتہ
اپنائیت کا رشتہ ہے
محبت کا رشتہ ہے
ایک سحر انگیز رشتہ ہے
ایک مقدس رشتہ ہے
ایک انسانی رشتہ ہے
ایک دن
ہم سب جان جائیں گے
ہم ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں
اور وہ خاندان
انسانیت کا خاندان ہے
دل والوں کا خاندان ہے
کیونکہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔
۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words