ڈاکٹر قدیر خان : جانی پہچانی شخصیت کے غیر نمایاں ، پہلو !


ان دنوں، ان کی مصروفیت ( اور اس کی حساسیت ) کا جو عالم تھا، اس میں یہ اصرار کرنا واقعتاً دخل در معقولات سا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ریکارڈنگ کے لئے وقت نکالیں، مگر سائنس لکچر سیریز میں ان کی عدم شمولیت بھی سیریز میں تشنگی چھوڑ دینے کے مترادف تھا، اس لئے ان کی غیر معمولی مصروفیات کے سبب یہ مجوزہ ریکارڈنگ مسلسل ملتوی ہوتی رہی۔ ادھر سے اصرار اور ادھر سے التوا کا سلسلہ، جاری و ساری رہا۔

یہ 1990 کی دہائی کی بات ہے جب پی ٹی وی ٹو نے سائنس دانوں کے لیکچرز پر مشتمل ایک سیریز ٹریل بلیزرز کی تیاری شروع کی جس میں پاکستان بھر سے مختلف سائنس دانوں نے حصہ لیا۔ یہاں معاملہ یہ تھا کہ پی ٹی وی کی مینجمنٹ کے ساتھ اس سیریز کی تجویز پر انھوں نے خود بھی دلچسپی کا اظہار کیا اور ممکنہ تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی لیکن ان کی اپنی مصروفیات ان ہی کے لیکچر کو عملی شکل دینے میں مانع تھی۔ اس تمام عرصے میں دوسرے سائنس دانوں کے لیکچرز ریکارڈ ہوتے رہے مگر مینجمنٹ کی خواہش تھی کہ حفظ مراتب اور سیریز میں ان کی خصوصی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے سیریز کا پہلا لیکچر ان ہی کا ٹیلی کاسٹ ہو۔

یہ انتظار، بالآخر اس دن تمام ہوا جب ان کے دفتر سے ریکارڈنگ کے لئے کسی تاریخ پر منظوری کا سگنل دیا گیا۔ لیکچر کی ریکارڈنگ کے بعد کانفرنس روم جب انھیں ادارے کی طرف سے پی ٹی وی کی روایت کے مطابق ریکارڈنگ کے حوالے سے چیک پیش کیا گیا تو انھوں نے خوش گوار حیرت سے پوچھا ”یہ کیا ہے؟“

وضاحت سن لینے کے بعد انھوں نے مذاق میں کہا ”کئی مہینے پہلے، میں، پی ٹی وی ( ون ) گیا تھا وہاں سے تو ابھی تک ایسی کوئی آفر نہیں آئی۔“ پھر انھوں نے بلا توقف چیک کے حوالے سے یہ تاکید کی کہ اسے پی ٹی وی ملازمین کے بہبود فنڈ میں ڈال دیا جائے۔

بات یہیں ختم نہ ہوئی، اس کے بعد انھوں نے اپنے ہمراہ آنے والے ڈاکٹر فاروق سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ”بھئی ہمیں یاد دلانا، ہم نے پی ٹی وی ٹو کے لئے کچھ کرنا ہے۔“

یہ مکالمہ، ( اور یہ خوش کن اعلان ) عمومی تاثر یہ تھا کہ اتنے مصروف آدمی کو، اپنی دنیا میں لوٹ کر، شاید یاد بھی نہ رہے، مگر سب کے لئے وہ لمحہ مسرت آمیز حیرت کا باعث تھا جب (غالباً ) ایک یا دو ہفتے کے وقفے سے، ان کی طرف سے ایک چیک وصول پایا جو ملازمین کے بہبود فنڈ کے لئے تھا اور اس چیک پر پچاس ہزار کی رقم درج تھی۔

یہ ان سے پہلا رابطہ تھا۔ سیریز کے اختتام پر سوچا گیا کہ اس سیریز میں ان کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے، آخری قسط ان کے اختتامی ریمارکس کے ساتھ انجام پذیر ہو۔ اس ریکارڈنگ کے لئے، ان کے دفتر کی مشاورت سے، سٹوڈیو کی بہ جائے ان کے دفتر کا انتخاب کیا گیا۔ دفتر پہنچ کر ان کی عدم دستیابی ٹیم کے کسی بھی ممبر کے لئے قطعاً حیرانی کی وجہ نہ بنی، کہ ان دنوں ان کی شبانہ روز مصروفیت زبان زد خاص و عام تھی۔

ان کے دفتر میں انتظار کی یہ گھڑیاں، کتنی تیزی سے گزریں، یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا، اور وہ اسی دوران تشریف بھی لا چکے تھے۔ ریکارڈنگ کے لئے، کیمرہ رکھنے کی جگہ منتخب کرنے اور لائٹنگ کے مراحل کے دوران، ان کی شخصیت کے مزید پرت کھلتے جا رہے تھے۔ وہ بار بار اس بات کی وضاحت ( اور اظہار افسوس ) کر رہے تھے کہ وہ مقررہ وقت پر اپنے دفتر میں، کیوں نہ موجود تھے۔ یہ وضاحت نہ ہی کسی کو مطلوب تھی اور نہ کسی کو توقع تھی کہ اتنی مصروف اور معتبر شخصیت کی طرف سے شائستگی کا، اس سطح کا مظاہرہ بھی ہو سکتا ہے۔

دوران گفتگو، کچھ جملوں کے بعد وہ پھر تاخیر کی وضاحت کرتے اور بتاتے کہ وہ جس تقریب سے لوٹے ہیں، وہاں کھانے کا مرحلہ، فل کورس لنچ کی صورت میں تھا اور اس میں غیر ملکی مہمان بھی تھے، اس لئے بیچ میں اٹھ آنا، آداب کے منافی تھا۔ انھیں خود بھی شاید اندازہ نہ ہو کہ ان کی ہر وضاحت، وی آئی پی کلچر کی عادی ( اور زخم خوردہ ) ریکارڈنگ ٹیم کے دل میں غیر محسوس طریقے سے ان کے احترام ( اور وقار ) میں کس قدر اضافہ کرتی جا رہی تھی۔

ایک اور ملاقات کا سبب تب ہوا جب ازبکستان کے نامور ادیب دادا خان نوری، پاکستان کے بارے میں اپنے تحریر کردہ سفر نامے کے سلسلے میں اسلام آباد تشریف لائے۔ اس سفر نامے کا دیباچہ آپ ہی کا تحریر کردہ تھا اس لئے وہ اپنے تعلق کے اظہار کے طور پر آپ کے لئے روایتی ازبک لباس اور ٹوپی کا تحفہ لائے تھے۔ یہ لباس زیب تن کرنے کے بعد ، اس غیر رسمی تقریب میں دونوں شخصیات کی طرف سے دونوں ملکوں کے لئے خیر سگالی کے جذبات کے تبادلے کے دوران، ادب کے بارے میں بات چیت شروع ہوئی تو یہ جاننے کی خواہش ہوئی کہ کیا وہ بھی اپنی مصروفیات میں سے کتاب کے مطالعے کے لئے وقت نکال پاتے ہیں۔

اس پر، کتاب سے ان کے لگاؤ اور گہری دلچسپی کا اندازہ بھی ہوسکا۔ انھوں نے بتایا کہ ان دنوں وہ چین کے مشہور سائنس دان چھئن سان چھیانگ ( Qain Sanqiang) کی خود نوشت کا مطالعہ کر رہے ہیں جن کے سر، چین کا ایٹم بم بنانے کا سہرا ہے۔ انھوں نے چینی سائنس دان کی قابلیت اور اپنے وطن کے لئے انجام دی گئی خدمات کو خوب سراہا۔ انھوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ اس کتاب کو پڑھ کر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ چھئن سان چھیانگ نے کم وسائل اور تمام تر مشکلات کے باوجود جس طرح یہ کارنامہ انجام دیا، یوں لگتا ہے، جیسے قدرت کچھ لوگوں سے بڑا کام لینا چاہتی ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان کے دفتر کی وہ ریکارڈنگ جس میں ان کی مصروفیت کے باعث کسی قدر تاخیر ہوئی تھی، ریکارڈنگ ٹیم کے لئے تب اور یادگار شکل اختیار کر گئی اور ٹیم کا ہر رکن، اس دن خوشگوار حیرت سے دوچار ہوا جب اسے ڈاکٹر قدیر خان طرف سے، کچھ دنوں بعد ، اس ریکارڈنگ کے دوران کھینچی گئی تصاویر کا تحفہ اس کے دفتر تک پہنچایا گیا۔

Facebook Comments HS