ایشین ویراتھو کون ہے

کسی بھی معاشرے میں انتہا پسندانہ نظریات و افکار کو پسند نہیں کیا جاتا ہے اور اگر دنیا میں کسی جگہ کسی نے ایسی سوچ کا برملا اظہار کیا تو ہر طبقے کی طرف اس سوچ کو ناپسند کیا گیا اور اکثر ایسے نظریات کی ترویج و اشاعت کے نام لیوا یا تو اپنی بات سے پیچھے ہٹ گئے یا پھر خاموشی اختیار کرلی، یہ کبھی نہ ہوا کہ کسی نے ڈٹ کر انتہا پسندانہ سوچ کو ببانگ دہل اپنے آپ سے جوڑے رکھنے کا اعلان کیا ہو لیکن میانمار کی زمین سے بدھ مت سے پرامن اور شریف مذہب کے رہنما ایشین ویراتھو کو یہ ”اعزاز“ حاصل ہے کہ اس نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا

i accept the term extremist with pride

یہ عجیب بات تھی کہ ایک شخص بری بات کا کریڈٹ دھڑلے سے لینے کے لیے سامنے آیا تھا اور افسوس کی بات یہ تھی کہ ویراتھو کے کھلے ڈھلے نامناسب اور شر پسندانہ اظہاریوں کے باوجود بھی میانمار کی سرکار اسے کچھ نہ کہہ رہی تھی، وہ آگ لگا رہا تھا اور مسلم کیمونٹی کے گھروں کو جلوا رہا تھا، ان پر حملے کروا رہا تھا اور اسے ”سزا“ کا نام دے رہا تھا کہ مسلمانوں نے بھی تو ایسے ہی کیا تھا لیکن کہاں کیا تھا؟

اس بات کا جواب ویراتھو کبھی نہ دے سکا ہے، کہا جاتا ہے ویراتھو بھی دیگر مسلم دشمن لیڈروں کی مانند مسلمانوں کی بڑھتی آبادی کو بدھ مت کے لیے زہر قاتل سمجھتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ جس تیزی سے مسلمان پیدا ہو رہے ہیں اس سے بدھ مذہب کے لوگ اپنے ہی ملک میں کم ہوجائیں گے، ویراتھو بدھ مت کو ہندؤ مت کو ”ایک“ گردانتا ہے اور ایسا وہ صرف ہندؤ مذہب کے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے ورنہ سب جانتے ہیں کہ ہندوستان کا رویہ بدھ مذہب کے ملک نیپال کے ساتھ ہمیشہ ہی سے نامناسب رہا ہے اور نیپال کے شاہی خاندان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، اس میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را کا نام بھی دبے لفظوں لیا جاتا ہے، ویراتھو کا کہنا ہے کہ مسلم بدھ مت کی ثقافت کو تباہ کر رہے ہیں اس لیے ان کے خلاف لڑنا چاہیے، ویراتھو کا کہنا ہے کہ

”یہ دنیا صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بنائی گئی یہ اور دوسرے مذاہب کے لوگ مسلمانوں کی اتنی زیادہ آبادی کے ساتھ آزادی سے کیسے رہ سکتے ہیں، اس لیے ہمیں ان کے خلاف لڑنا ہو گا“

ویراتھو ایک اور جگہ کہتا ہے کہ
”اگر ہم کمزور ہوئے تو ہمارے علاقہ پر مسلمان قابض ہو جائیں گے“

ویراتھو کے نظریات اتنے سفاکیت پر مبنی ہیں کہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ اس شخص کا مہاتما بدھ سے کوئی تعلق کیسے ہو سکتا ہے؟ اس شخص کو میانمار کی مسلم کیمونٹی سے بے انتہا نفرت ہے اور روہنگیا مسلمانوں کے خلاف اس کے منفی ریمارکس ایسے ہیں کہ جس کی وجہ سے اچھے بھلے پرامن لوگ بھی متشدد رویہ اختیار کر سکتے ہیں، اور اس مکروہ عزائم والے انسان نے یہی چال چلی اور باقاعدہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلم آبادی کو ٹارگٹ کیا اور وہ بھی ایسے کہ میانمار کی پولیس اور فوج بھی اس کے بہکاوے میں آ گئی اور روہنگیا مسلمانوں پر ایسے ایسے وحشیانہ تشدد کیے کہ دیکھنے والے بھی لرز اٹھے لیکن افسوس کہ امن کا نوبل انعام لینے والی آنگ سان سوچی کو ہوش نہ آیا اور اس نے ویراتھو کی مذمت تک نہ کی اور یہ اور اس جیسے دوسرے انتہاپسند بدھ لیڈر شیر ہوتے گئے اور مسلمانوں پر میانمار کی زمین تنگ کردی گئی اور وہ بے چارے بنگلہ دیش کی طرف بھاگتے تو وہاں پناہ نہ ملتی اور کسی دوسرے کی اور لپکتے تو وہ بھی ہاتھ کھینچ لیتے تھے، یوں لاشوں کے ڈھیر لگے اور خون کی ندیاں بہیں مگر مارنے والے ہاتھ پکڑنے والے نہ گئے کہ محافظ بھی قاتلوں کے ساتھ مل چکے تھے۔

ویراتھو کی ہمت اتنی بڑھی کہ اس نے تبت سے فرار ہو کر ہندوستان میں پناہ لینے والے اپنے سب سے بڑے مذہبی رہنما دلائی لامہ کو بھی یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ

”میں دلائی لامہ کی بالکل بھی عزت نہیں کرتا ہوں کیونکہ وہ بس ایک سیاسی پاور بروکر ہے اور میں ایسے شخص کو احترام کے قابل نہیں سمجھ سکتا“

عین اس وقت جب یہ ویراتھو نام کا انتہا پسند روہنگیا مسلمانوں کو میانمار کا شہری تسلیم کرنے سے انکار کر کے وہاں سے نکالنے کی باتیں اور عملی اقدامات کر رہا تھا تو باراک اوبامہ کی بات میڈیا کچھ یوں سنا رہا تھا کہ

america is a nation of immigrants,And so the questin is,how we make legal immigration faster,less bureaucratic,cut the red tape?

اور سابق صدر بل کلنٹن بھی کہہ رہا تھا
”we are a nation of immigrants,

یاد رہے کہ پوری دنیا میں ایشین ویراتھو کی مذمت کی جا رہی تھی اور عالمی میڈیا اس کے بارے کچھ یوں لکھ رہا تھا کہ

”ہٹلر کی واپسی ہو چکی ہے، وہ بدھ ہے اور اس کا نام ویراتھو ہے لیکن اس کا نشانہ یہودی نہیں ہیں بلکہ روہنگیا مسلمان ہیں“

اور افسوس کی بات ہے کہ اس سفاک ایشین ویراتھو جسے ”ٹائم میگزین نے 2013 میں“ بدھسٹ دہشت کا چہرہ ”قرار دیا تھا اور جسے میانمار کی جیل میں ہونا چاہیے تھا کہ اس کی وجہ سے سینکڑوں مسلمانوں کی جانیں ضائع ہوئی تھیں اور ان کا مالی نقصان بھی بے حساب ہوا تھا، کو میانمار کی فوجی حکومت نے رہا کر دیا ہے اور اس کی رہائی سے روہنگیا مسلمانوں میں خطرے کی گھنٹی ایک بار پھر بج اٹھی ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ سوئی ہوئی اور بے حس عالمی برادری اٹھے اور آگے بڑھ کر اس درندے کو رہا کرنے والوں سے باز پرس کرے تاکہ میانمار کے روہنگیا مسلمان امن و سکون سے رہ سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words