شکریہ عمران خان!

عاصمہ شیرازی - صحافی

تین نومبر 2007 سے قبل یہ اطلاعات آنا شروع ہو گئیں تھیں کہ جنرل مشرف چند صحافیوں سے بے حد نالاں ہیں اور عدلیہ بحالی تحریک میں ٹی وی چینلز اور چند صحافی اینکرز سے ناخوش ہیں۔ جنرل مشرف یہ سمجھتے تھے کہ عدلیہ بحالی تحریک میں چینلز اور چند اینکرز کا کردار حکومت مخالف ہے اور وہ لوگوں کے جذبات اُبھار رہے ہیں لیکن حقیقت اس سے بالکل برعکس تھی۔

اُس وقت کے چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس طلب کیا گیا اور اُنھیں استعفے کا حکم سُنایا گیا تھا جو اُنھوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔ جسٹس چوہدری کے فیصلوں پر اعتراض ہو سکتے ہیں لیکن جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ ناقابل برداشت تھا۔

وکلا میں آئین کی پامالی کا غصہ پنپ رہا تھا جبکہ عوام میں مہنگائی، لوڈشیڈنگ، آٹے، چینی کی قلت کا اضطراب اور اُوپر سے میڈیا پر شب خون مارا جانے لگا۔ یہ تمام عوامل اور شاید کہیں پس پردہ قوتوں کے ’نئے منصوبے‘ نے جنرل مشرف سے وہ کروا دیا جس نے تاریخ میں اُنھیں ایک بار نہیں بلکہ دو بار آئین پاکستان کو معطل کرنے والا آمر بنا دیا۔

جنرل مشرف سیاہ و سفید کے مالک ہونے کے باوجود وہ غلطیاں کرنے لگے جو کبھی سوچی بھی نہ تھیں۔ ایک طرف لال مسجد کے باعث انتہا پسند مذہبی تنظیمیں مخالف ہوئیں تو دوسری جانب عدلیہ کے ساتھ سینگ اڑا لیے۔

آخر میں میڈیا کو بھی آڑے ہاتھ لیا جانے لگا تو ریاست کے دو مضبوط ستون اُن کے مخالف ہو گئے جس کا اثر اُن کے اپنے ادارے یعنی فوج پر بھی ہوا۔ نتیجتاً عدلیہ بحالی کم اور جنرل مشرف مخالف تحریک نے جنم لے لیا۔

تین نومبر 2007 کو ایمرجنسی کا نفاذ ہوا تو اُسی دن سپریم کورٹ نے ایمرجنسی کے اس حکم کو معطل کر دیا۔ جس لمحے اعلیٰ ججوں کی گاڑیاں سپریم کورٹ کے عقبی دروازے سے نکل رہی تھیں اُس لمحے شاہراہ دستور پر مقامی اور عالمی میڈیا، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں کا ہجوم تھا۔

صحافی ایک بار پھر نام نہاد جمہوریت پر شب خون مارے جانے پر آزردہ تھے کہ یہ اطلاع پہنچی کہ مجھ سمیت پانچ صحافیوں پر ٹیلی ویژن پر آنے کی پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ہمارے پروگرام بند کر دیے گئے ہیں۔

صحافی سڑکوں پر تھے اور آزادی اظہار کے لیے سراپا احتجاج۔ جوں جوں تحریک آگے بڑھ رہی تھی جنرل مشرف تنہا ہو رہے تھے مگر المیہ یہ تھا کہ وہ چوہدری شجاعت اور پرویز الہی جیسے اتحادیوں کی بات بھی سُننے کو تیار نہ تھے۔

جنرل مشرف کی وردی اور صدارت بالآخر فروری کے انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی بلکہ نون لیگ اور پی پی کی قومی حکومت کے ہاتھوں انجام کو پہنچی۔

اب موجودہ حالات کی جانب نگاہ دوڑائیں۔۔۔

منقسم میڈیا، حزب اختلاف کی تقسیم سیاسی جماعتیں، کمزور سول سوسائٹی اور بٹی ہوئی بار کونسلز۔۔۔ حکومت مکمل طور پر مضبوط، مہنگائی کے مارے عوام مایوسی کا شکار۔۔۔ ایک صفحے کی حکومت کو بظاہر کہیں سے کوئی خطرہ موجود نہیں۔

ایسے میں حکومت نے مخالفین کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اعلی عدلیہ کے بہترین شہرت والے فاضل جج قاضی فائز عیسیٰ کو متنازع بنانے کی کوشش کی جس کا نتیجہ عدلیہ میں تقسیم کی صورت نکلا اور حال ہی میں سپریم کورٹ کے جج کی تعیناتی اور میڈیا کیس میں عدلیہ کی تقسیم واضح نظر آئی۔ حکومت کے بیانیے کو نہ صرف شکست ہوئی بلکہ عدلیہ کو بھی خفت کا سامنا کرنا پڑا۔

پھر الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کے حق کے بارے میں الیکشن کمیشن کے اختیار کو چیلنج کیا گیا اور وفاقی وزیر سواتی صاحب نے نہ صرف چیف الیکشن کمشنر کی توہین کی بلکہ الیکشن کمیشن کو آگ لگانے کی دھمکی دے کر حکومت کو مزید بدنام کر دیا۔

یہی نہیں، الیکشن کمیشن اور اچھی ساکھ کے حامل چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو متنازع بنانے اور الیکشن کمیشن کے آئینی ادارے پر بے جا دباؤ بڑھانے کی کوشش کی گئی۔

متنازع نیب چیئرمین کی مدت ملازمت میں توسیع کی خبریں بھی گردش میں ہیں جو اپوزیشن کو مزید سیخ پا کر سکتی ہیں۔

ایسے میں حکومت کی پہلے سے پسے ہوئے میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے اتھارٹی کے قیام کی تجویز نے کم و بیش تمام میڈیا، صحافتی تنظیموں، سول سوسائٹی اور بار کونسلوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ بکھری، ٹوٹی پھوٹی، منقسم اپوزیشن جماعتوں کو بھی ایک صفحے پر لا کھڑا کیا ہے۔

ای وی ایم مشین ہو، نیب چئیرمین کی مدت میں توسیع، اعلی عدلیہ سے چھیڑ خانی، الیکشن کمیشن پر دباؤ کے ہتھکنڈے یا میڈیا کنٹرول کرنے کی اتھارٹی، عام انتخابات سے قبل یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ جس طرح باوردی جنرل مشرف طاقت اور اختیار میں بھول گئے کہ پسے ہوئے طبقات یا دیوار سے لگ جاتے ہیں یا گلے پر ہاتھ پڑے تو گلے پڑ جاتے ہیں، بالکل اسی طرح ایک صفحے کی حکومت بھی شاید بھول گئی ہے کہ مہنگائی کی پسی عوام کو حالات کی چنگاری کا انتظار ہے۔

شہباز شریف نے بلاول بھٹو کو صحافیوں کے کیمپ میں ایک بار پھر متحد ہو کر شرکت کی دعوت دی اور اُن کی مشترکہ انٹری نے وہاں موجود کئی ایک صحافیوں کے چہروں ہر اطمینان دوڑا دیا کہ بالآخر جمہوریت، آزادی رائے اور عوامی حقوق کے لیے اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہو رہی ہیں۔

اُس لمحے بے اختیار ایک ہی جملہ ذہن میں آیا کہ ’شکریہ عمران خان۔۔۔‘ آپ نے منقسم لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کر دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words