مہنگائی: ایک سنگین اور توجہ طلب مسئلہ

محض تنخواہ پر زندہ رہنے والے لاکھوں افراد کی طرح مہنگائی مجھے بھی پریشان کیے رکھتی ہے۔ اس کی بابت واویلا مچانے سے مگر گریز کرتا ہوں۔ یہ کالم لکھتے ہوئے ہمیشہ یہ خیال ذہن پر حاوی رہتا ہے کہ جن مسائل کا ذکر ہو ان کے حقیقی اسباب بھی تھوڑی تحقیق کے بعد بیان کردیے جائیں۔ اسی تناظر میں اگر کوئی ممکنہ حل بھی نظر آئیں تو انہیں سادہ الفاظ میں پیش کر دیا جائے۔ معیشت مگر ایک گنجلک موضوع ہے۔ میں اس کی مبادیات سے بھی ناواقف ہوں۔ آج تک سمجھ نہیں پایا کہ جی ڈی پی اور جی این پی میں کیا فرق ہے۔

مہنگائی کی بابت سیاپا فروشی سے اس لئے بھی گھبراتا ہوں کیونکہ وزیر اعظم عمران خان صاحب اور ان کے چندوفادار وبلند آہنگ وزراء نہایت مان سے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وطن عزیز کی معیشت مستحکم ہونے کے بعد خوش حالی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس حوالے سے مسلسل یاد دلایا جا رہا ہے کہ نئی گاڑیوں کی خریدوفروخت میں قابل ستائش حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں جمع ہوئے اعداد و شمار صراحت سے دکھاتے ہیں کہ پاکستان کے کئی گھرانوں کے پاس اتنی رقم جمع ہو چکی ہے جو انہیں نئی گاڑی خریدنے کو اکساتی ہے۔ خوش حالی کی جانب توجہ دلاتے ہوئے تعمیراتی شعبہ میں تیزی کے رجحان کا ذکر بھی ہوتا ہے۔ اسی باعث غالباً سیمنٹ اور سریا کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

نئی گاڑی خریدنے اور اپنا مکان تعمیر کرنے کے حوالے سے جمع ہوئے اعداد و شمار کو فخر سے دہراتے ہوئے تاہم یہ حقیقت فراموش کردی جاتی ہے کہ پاکستان کی آبادی 22 کروڑ ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ اس بھاری بھر کم تعداد کا کتنے فی صد حصہ خود کو خوش حال محسوس کر رہا ہے۔ اس کی مگرنشاندہی نہیں ہوتی۔ مجھے گماں ہے کہ اگر مذکورہ اعداد و شمار کو ہماری آبادی کے تناظر میں رکھ کردیکھا جائے تو شاید حالیہ دنوں میں نئی گاڑیاں خریدنے اور اپنا مکان تعمیر کرنے والے موثر اور اطمینان بخش تعداد میں نظر نہیں آئیں گے۔ ترقی اور خوش حالی کا ذکر کرتے ہوئے جبکہ ہمیں خلق خدا کی اکثریت پر توجہ مرکوز رکھنا چاہیے۔

تحقیق کے ہنر سے محروم مجھ جیسے ڈنگ ٹپاؤ صحافی اپنی روزمرہ زندگی کے تجربات سے ملکی معیشت کے بارے میں ٹیوے لگاتے ہیں۔ اس حوالے سے مجھے اسلام آباد کی شاہراہوں پر بھکاریوں کی پریشان کن حد تک بڑھتی تعداد اداس کردیتی ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ چند مہینوں سے عزیزوں اور دوست واحباب کے ذریعے اسلام آباد ہی کے کئی گھرانوں میں ڈاکے کی خبریں بھی ملی ہیں۔ ڈاکہ میری دانست میں معاشی جرم ہے۔ اس کی بڑھتی ہوئی تعداد عندیہ دیتی ہے کہ روزگار کے امکانات معدوم ہو رہے ہیں۔ زندہ رہنے کے لئے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے نوجوانوں کے گروہ ڈاکہ زنی کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔

محض تنخواہ پر زندہ رہنے والے افراد ہی کو مہنگائی سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے۔ اس کی ماہانہ آمدنی میں اضافہ تو نہیں ہوتا مگر روزمرہ اخراجات ناقابل برداشت ہو رہے ہیں۔ اس ضمن میں روٹی اور تیل وغیرہ کی قیمت میں اضافہ دل جلادیتا ہے۔ بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے نرخ مزید تکلیف دہ ہو جاتے ہیں۔

عالمی منڈی میں کرونا کے بعد سنبھلتی ہوئی معیشت کی وجہ سے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ناگزیر تھا۔ گیس کی طلب بھی بے حد بڑھی ہے۔ ہماری سرکار اس ضمن میں لیکن بروقت فیصلے نہ کر پائی۔ گیس کے شعبہ میں خاص طور پر پیشگی خریداری سے اجتناب برتا گیا۔ اس کی وجہ سے ہمیں اپنی تاریخ کی مہنگی ترین گیس خریدنا پڑی ہے۔ گیس کی خریداری کے ضمن میں سرزد ہوئی حکومتی کوتاہیاں مگر میڈیا میں کماحقہ توجہ حاصل نہ کرپائیں۔ فی الوقت ہمیں اس سوال میں الجہادیا گیا ہے کہ آئندہ انتخاب کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ایکٹرانک مشینوں کا استعمال کتنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق عطا کرنے پر بھی شدت سے اصرار کیا جا رہا ہے۔

محض سیاسی عمل کو ذہن میں رکھا جائے تو یہ دونوں موضوعات یقیناً بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ میڈیا کی تمام تر توجہ مگر ان کی جانب موڑتے ہوئے کائیاں مہارت سے ہمیں روزمرہ زندگی کے بنیادی مسائل زیر بحث لانے سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انتخابی عمل میں لوگوں کی دلچسپی کا عالم مگر ہمیں اتوار کے روز ملک بھرمیں ہوئے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کی بدولت معلوم ہوجانا چاہیے۔ رائے دہندگان کی موثر تعداد نے اس میں حصہ لینے سے گریز کیا۔ کامیاب ہونے والے ”آزاد“ امیدواروں کی تعداد بھی حیران کن ہے۔ یہ اس امر کا عندیہ دے رہی ہے کہ انتخابی عمل میں حصہ لینے کے خواہاں افراد اب سیاسی جماعتوں سے نتھی ہونے کو تیار نہیں۔ وہ انفرادی حیثیت میں قسمت آزمانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کامیاب ہوجانے کی صورت نہایت ڈھٹائی سے جیہڑا جتے اوہدے نال والی موقعہ پرستی اختیار کرنے کو تیار۔

بہرحال میں ذاتی تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر یہ اصرار کرنے کو مجبور ہوں کہ مہنگائی ان دنوں پاکستان میں سنگین تر مسئلہ کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ ہماری سرکار مگر اس جانب کماحقہ توجہ نہیں دے رہی۔ مہنگائی کی حقیقت تسلیم کرنے کے بجائے نئی گاڑیوں کی خریداری اور اپنا مکان تعمیر کرنے کے حوالے سے جمع ہوئے اعداد و شمار کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے۔ مہنگائی کے حوالے سے اختیار کردہ حکومتی غفلت لہٰذا مجھے خوفزدہ بنائے ہوئے ہے۔

اپنے مستقبل کی ٹوہ لگانے کے لئے لازمی ہے کہ دنیا کے ان ممالک پر بھی نظر رکھی جائے جہاں کا معاشی نظام وبندوبست پاکستان جیسا ہی ہے۔ اس تناظرمیں لبنان کا ذکر لازمی تصور کرتا ہوں۔ وہ کئی برسوں تک عرب دنیا کا طویل خانہ جنگی کے باوجود خوش حال ملک شمار ہوتا رہا ہے۔ لبنان بینکاری کا اہم ترین مرکز بھی رہا۔ گزشتہ کئی مہینوں سے مگر اس کی کرنسی کی قدر مسلسل گرنا شروع ہو گئی۔ لبنان کی ریاست اپنے ملک کے لئے درکار تیل خریدنے کے قابل بھی نہیں رہی۔ بینکوں میں جمع شدہ رقوم نجانے کہاں غائب ہو گئیں۔ ہر کھاتے دار اب محدود تعداد میں ہی رقم نکال سکتا ہے۔ اس رقم کے حصول کے لئے صبح اٹھتے ہی بینکوں کے آگے لگی لمبی قطار میں کھڑا ہوجاتا ہے۔ مطلوبہ رقم کے حصول کے بعد اسے اپنی گاڑی یا موٹرسائیکل میں پیٹرول ڈلوانے کے لئے ایک اور لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ بیروت کے مہنگے ترین علاقوں میں بھی بجلی فقط دو یا تین گھنٹوں کے لئے میسر ہے۔ جنریٹرچلانے کے لئے مگر مناسب مقدار میں پیٹرول وغیرہ میسر نہیں۔ شوگر اور دل کے امراض کے لئے درکار ادویات بھی بازار سے غائب ہو چکی ہیں۔

لبنان کی موجودہ اذیتوں کا ذمہ دار گزشتہ کئی دہائیوں سے غیر ملکوں سے بے دریغ انداز میں لئے قرضوں کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ہمارے حکمران بھی یہ رجحان اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ہمارے روپے کی قدر بھی گرنا شروع ہو گئی ہے۔ میں ہرگز یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ ہم خدانخواستہ لبنان بننے جا رہے ہیں۔ اس امکان کو مگر رد کرنے کے لئے مجھے ماہرین معیشت سے ٹھوس دلائل درکار ہیں جو فی الوقت میسر نہیں۔
بشکریہ نوائے وقت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words