حسینیت کا آفاقی و ابدی پیغام

کائنات عالم میں اب تک بے شمار عظیم انسان گزرے ہیں جن میں انبیاء، آئمہ، اولیا، صلحاء، باجبروت بادشاہ، فاتحین، مفکرین، شعرا، ادیب، محققین اور سائنسدانوں نے اپنے اپنے میدانوں میں جھنڈے گاڑے اور رہتی دنیا تک ان کے افکار و کردار کا ڈنکا بجتا رہے گا لیکن ان سب مشاہیر عالم میں جو منفرد مقام امام حسین ؑکو حاصل ہے وہ نہ تو کسی کو حاصل ہوا ہے اور نہ ہی کبھی ہو گا، میدان کربلا میں آپ نے اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ مختصر وقت میں وہ انمٹ تاریخ رقم کی ہے جس کی روشنی تاریخ عالم کے تمام حریت پسندوں کے لئے تا ابد مشعل راہ ہے۔

امام حسینؑ کے افکار و کردار صرف مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لئے راہ نجات ہیں، تمام دنیا کیے مظلوم اور آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے لئے آپ کی ذات ظلم و جبر کے خلاف لڑنے والوں کو قوت و حوصلہ عطا کرتی ہے، امام حسینؑ صرف ایک شخصیت کا نام نہیں ہیں بلکہ حسینیت ایک نظریہ، اصول اور نظام حیات کا نام ہے، حسینیت حق و انصاف، عدل و انصاف، امن و سلامتی اور جابر سلطان کے سامنے حق کا علم بلند کرنے کا نام ہے، حسینیت دین فطرت اور انسانیت کی اساس ہے، حسینؑ لا الہ الا اللہ کی بنیاد ہیں، حسینؑ ہدایت کا چراغ اور کشتی نجات ہیں اور حسینیت منشور حیات کا نام ہے، امام حسینؑ کا تعلق کسی خاص مذہب یا فرقہ سے نہیں ہے بلکہ امام حسین کا تعلق کل انسانیت سے ہے اسی لئے شاعر انقلاب جناب جوش ملیح آبادی نے فرمایا:

کیا صرف مسلماں کے پیارے ہیں حسینؑ
چرخ نوع بشر کے تارے ہیں حسینؑ

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ

امام حسینؑ کو صرف مسلمانوں تک محدود کرنا نا انصافی ہے کیوں کہ آپ نے اپنے اعوان انصار اور مخذرات عصمت کے ہمراہ جو اصولوں کی جنگ لڑی ہے اس نے پوری انسانیت پر ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں، آپ کی قربانی اور اصول نہ صرف اسلام کی بقا کے ضامن ہیں بلکہ بلا تفریق رنگ و نسل، مذہب و ملت اور علاقہ عدل و انصاف کی فراہمی، آزادی کی جد و جہد، حقوق کی جنگ، فرائض کی بجا آوری، ایثار و قربانی، عزم و ہمت اور جوش و ولولہ کے جاودانی پیغام بھی ہیں، اسی لئے ہر مذہب، مکتبہ فکر کے پیشوا، مفکرین، دانشور، ادیب، شاعر اور مشاہیر عالم آپ کی ذات والا صفات سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں اور آپ کی تعلیمات کو اپنے لئے مشعل راہ قرار دیتے ہیں۔

عظیم افریقی حریت پسند راہنما نیلسن مینڈیلا کہتے ہیں کہ ”جب مجھے قید میں بیس سال سے زائد گزر گئے تو ایک رات میں نے فیصلہ کیا کہ کل صبح حکومت کی تمام شرائط تسلیم کر لیتا ہوں لیکن اچانک اسی رات مجھے امام حسینؑ کی یاد نے ہمت دلائی کہ جب انہوں نے کربلا میں انتہائی نا مساعد حالات کے باوجود ظلم اور یزیدیت کی بیعت نہیں کی تو میں کیوں کروں؟ اس لئے میری کامیابی کا راز کربلا اور امام حسینؑ کو اپنا آئیڈیل قرار دینا ہے“ ، مہاتما گاندھی کہتے ہیں ”اسلام بزور شمشیر نہیں پھیلا بلکہ اسلام امام حسینؑ کی قربانی کی وجہ سے پھیلا ہے اور میں نے امام حسینؑ سے مظلومیت کے اوقات میں فتح و کامرانی کا درس سیکھا ہے“ ، عیسائی سکالر انٹویا با را کہتے ہیں ”اگر ہمارے ساتھ امام حسینؑ جیسی ہستی ہوتی تو ہم ساری دنیا میں امام حسینؑ کا پرچم لے کر لوگوں کو عیسائیت کی طرف بلاتے لیکن افسوس کہ عیسائیت کے پاس حسینؑ نہیں ہیں“ ، مشہور انگریزی ناول نگار اور سکالر چارلس ڈکسن رقمطراز ہیں کہ ”میں نہیں سمجھتا کہ امام حسینؑ کو کوئی دنیاوی لالچ تھی اگر ایسا ہوتا تو وہ اپنا سارا خاندان، بچے اور خواتین کیوں دشت کربلا میں لاتے، کربلا میں بچوں اور خواتین سمیت آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ امام حسینؑ نے فقط اسلام اور رضائے الہٰی کے لئے قربانی دی“ ، سوامی شنکر اچاریہ کے مطابق ”اگر حسینؑ نہ ہوتے تو اسلام دنیا سے ختم ہو جاتا اور دنیا ہمیشہ کے لئے نیک بندوں سے خالی ہو جاتی، حسینؑ سے بڑھ کر کوئی شہید نہیں“ ، ڈاکٹر کرسٹوفر آرزو کرتے ہیں ”کاش دنیا امام حسینؑ کے پیغام، ان کی تعلیمات اور مقصد کو سمجھے اور ان کے نقش قدم پر چل کر اپنی اصلاح کرے“ جے اے سیمسن کہتے ہیں ”حسینؑ کی قربانی نے قوموں کی بقا اور جہاد زندگی کے لئے ایک ایسی مشعل روشن کی جو رہتی دنیا تک روشن رہے گی“ غرض مختلف مشاہیر، مفکرین اور ادیبوں نے امام حسینؑ کے حضور اپنے گلہائے عقیدت پیش کیے ہیں جن کا احاطہ اس تحریر میں نا ممکن ہے تا ہم چند ایک مفکرین کا ناموں کا تذکرہ ممکن ہے، متذکرہ بالا کے علاوہ امام حسینؑ کے عقیدت گزاروں میں تھامس کار لائل، جی بی ایڈورڈ، ڈاکٹر ایچ ڈبلیو بی مورنیو، مہاراج یوبندر سر نٹور سنگھ، بابو راجندر پرشاد، منشی پریم چند، ڈاکٹر سنہا، سردار کرتار سنگھ، جرمن فلاسفر نطشے، امریکی مورخ اپرونیک، جواہر لال نہرو وغیرہ کی ایک طویل فہرست ہے۔

اردو کے بے شمار شعرا نے امام حسینؑ کے حضور اپنی عقیدتوں کے پھول نچھاور کیے ہیں لیکن ان کے نمونہ ہائے کلام کی شمولیت مضمون کی طوالت کی وجہ سے ممکن نہیں ہے لہٰذا چند ایک ناموں کے تذکرے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے، ان سلام گزاروں میں علامہ اقبال، مرزا غالب، میر انیس، میرزا دبیر، جوش ملیح آبادی، میر تقی میر، مولانا محمد علی جوہر، محسن نقوی، افتخار عارف اور غیر مسلم شعرا میں ماتھر لکھنوی، چھنو لال دلگیر، پنڈت ایسری پرشاد، مہاراج بلوان سنگھ راجہ، گوپی ناتھ امن، امرچند قیس، کرشن گوپال مغموم، دلو رام کوثری، کنور مہندر سنگھ بیدی، وشواناتھ پرشاد، صبا جے پوری، نانک چند کھتری، روپ کماری کنور، نرائن داس طالب دہلوی جیسے بے شمار عقیدت گزار شامل ہیں۔

برصغیر میں ہر مذہب و عقیدہ، رنگ و نسل اور مکتبہ فکر کے لوگ امام حسینؑ سے اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار اپنے اپنے انداز میں کرتے ہیں لیکن ماہ محرم اور عاشورہ کے موقع پر اتحاد اور یگانگت کا انداز ہی نرالا ہوتا ہے، ماتمی جلوسوں کے راستوں میں، صفائی، پانی، سبیلوں، لنگر اور نذر نیاز کا اہتمام زیادہ تر غیر شیعہ افراد کی طرف سے کیا جاتا ہے مگر ان میں سنی، شیعہ، مسلم، غیر مسلم، ہندو، سکھ اور عیسائی کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ ہر کوئی بڑھ چڑھ کر امام حسینؑ کے ساتھ اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرتا ہے، محبتوں، عقیدتوں، اتحاد اور اتفاق کے یہ نظارے قابل دید ہوتے ہیں گویا تمام عالم انسانیت امام حسینؑ کی ذات با برکات پر متحدا ور متفق ہے۔

وطن عزیز میں محرم الحرام اور عزاداری کے مواقع پر کافی عرصے تک کشیدگی پائی جاتی رہی اور شر پسند عناصر نے قتل و غارت کا بازار گرم رکھا اور ہزاروں معصوم اور بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کشیدگی میں کمی آ گئی ہے اور اب اللہ کے فضل سے امن و آشتی کا ماحول ہے اور ہر مذہب اور مکتبہ فکر کے لوگ امن و سکون سے امام حسینؑ کی یاد مناتے ہیں۔ امام حسینؑ کی ذات اور ان کے افکار اور تعلیمات، محبت، امن و سلامتی، وحدت، اتحاد و اتفاق، فکر حریت، جد و جہد، عدل و انصاف، حقوق العباد کی ادائیگی کا درس دیتے ہیں، لہٰذا لازم ہے کہ امام حسینؑ کو صرف عزاداری اور رسوم تک ہی محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کی سیرت پر بھی عمل پیرا ہو کر دنیا اور آخرت میں فلاح و کامیابی حاصل کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words