پشتو ادب اور سیاست

ادب اور سیاست کا آپس میں گہرا تعلق رہا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہے وہ اس لیے کہ دونوں کا تعلق انسانی زندگی اور معاشرے کی بہتری سے ہے۔ تاریخی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ سیاست کی جو بھی تھیوریاں ہیں وہ ادیبوں نے پیش کی ہے اور ساتھ ساتھ میں بڑے بڑے سیاستدان بہترین ادیب بھی رہے۔ یونان کے لوگوں میں سیاسی شعور سے کیکر انقلاب فرانس، انقلاب روس، چینی انقلاب، تحریک پاکستان اور افغانستان کے سیاسی حالات میں ادیبوں کا کردار صف اول کا رہا ہے۔

ادیب چونکہ معاشرے کا لازمی جز اور حساس طبقہ ہوتا ہے سیاسی حالت کو دقیق نظروں سے دیکھتا ہے۔ کیونکہ معاشرے کا حصہ ہونے کی بدولت وہ معاشرے کی ترقی اور تنزلی دونوں سے متاثر ہوتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ پھر قلم اور قرطاس اٹھا کر ایک طرف لوگوں کی ذہنی آبیاری کرتا ہے تو دوسری طرف سیاسی نظریات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ وقت کے جابروں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتا ہے۔

افلاطون سے لے کر ارسطو تک، جے ایس مل، جان لاک، تھامس ہابز، مونٹیسگو، میکاولی، میں کسم گورکی، نکولائی استروسکی، کال مارکس، برنارڈ رسل، ابن خلدون، الفارابی، الغزالئی، الغزالئی، الماوردی، ابن رشد، شاہ ولی اللہ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال، شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی، سر سید احمد جان، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا مودودی سمیت سب کی لکھی گئی تحریریں سیاست کے اہم حصے ہی ہیں۔ ان کے لکھے گئے موضوعات جیسے، حقوق، سیاسی نظام حکومت، آئین سازی، جمہوریت، پریس کی آزادی، مساوات، انصاف آزادی رائے، وغیرہ ایسے موضوعات ہیں جو سیاست کا پیراہن بن چکے ہیں۔

دوسری طرف تاریخ ایسے شخصیتوں سے بھری پڑی ہے جو بیک وقت ادب بھی لکھتے تھے اور سیاسی طور پر بھی گراں قدر خدمات سرانجام دی تھی۔ جیسے کہ ونسٹن چرچل، ابراہام لنکن، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال، سر سید احمد خان۔

جہاں تک پشتو ادب کا سیاست سے تعلق ہے یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ پشتو ادب اس حوالے سے خود کفیل ہے۔ دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ آج ہم جو پشتو ادب دیکھ رہے ہیں وہ سیاست اور مزاحمت کی ہی بدولت ہے۔ سینکڑوں ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے ادب اور سیاست دونوں میدانوں میں ظلم، جبر اور بربریت کا مقابلہ کرنے مظلوموں اور محکوموں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔ خوشحال خان خٹک، باچاخان، عبدالصمد خان اچکزئی شہید اور نور محمد ترکئی کی خدمات اس حوالے سے متاثرکن ہیں۔

اس طرح بہت سے پشتون ادیبوں نے سیاسی موضوعات، استبداد اور استعمار کے خلاف، مظلوموں کے داعی بن کر قلمی جہاد سے کلمہ حق بلند کیا۔ فضل محمد مخفی سے لے کر صنوبر حسین کاکاجی، عبدالرحیم پوپلزئی، عبدالکبر خان اکبر، اجمل خٹک، غنی خان غنی، سلیم راز، رحمت شاہ سائل، عبدالباری جھانی، درویش درانی تک سب نے اپنے ادبی قلمکاری سے لوگوں کے سیاسی شعور میں اضافہ کیا۔

یہاں ایک اور نکتے کی طرف انا لازمی ہو گا کہ جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا اور 9 / 11 کے واقعے کے بعد پشتو ادب میں مذہبی سیاسی شاعری نے زور پکڑا جس کا موضوع

روس اور امریکہ کے گرد گھومتی رہتی رہی ہیں ساتھ میں خاص کر پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کی مداح سرائی کی گئی ہے۔ ساتھ میں قوم پرستانہ ادب کا عروج بھی دیکھنے میں آیا ہے جس پر پشتونوں کی قوم پرستانہ سیاست کا غلبہ دیکھنے میں آیا ہے

لہذا ادب اور سیاست کا آپس میں گہرا تعلق رہا ہے دنیا کا تقریباً تمام لٹریچرز میں سیاست اہم ترین اہمیت کی حامل رہی ہیں۔ اسی طرح پشتو ادب کا بھی سیاست پر گہرا اثر رہا ہے۔ اگر پشتو ادب سے سیاست اور مزاحمت کا پہلو نکالا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ سیاست اور مزاحمت کے بغیر پشتو ادب، ادب ہی نہیں رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words