انسانیت کا جنازہ ہے، ذرا ”ہا ہا ہا“ کر کے نکالئے

آج کل بکس کے بجائے فیس بک کا دور ہے اس وجہ سے ہر کوئی آزاد ہے اپنے ذہنی و قلبی اظہار کے لئے۔ صاحب اکاؤنٹ کی پوسٹ اور شیئرنگ سے اس شخصیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا کی اس دنیا میں جہاں بہت کچھ دیکھنے کو ملتا ہے وہاں لوگوں کی کج فکری اور ذہنی پسماندگی بھی جا بجا دکھائی دیتی ہے۔

بہرحال سوشل میڈیا کے اس پورے سلسلے میں فیس بک ایسی جگہ ہے جہاں ری ایکشن ایموجیز کے مختلف نشانات ہیں جس کی مدد سے انسان اپنے جذبات، خیالات کو ایموجیز کی شکل میں بیان کرتا ہے۔ جیسے اگر کسی پوسٹ پر کسی کو غصہ آیا تووہ اس پر اینگری مین کا ریکٹ کر سکتا ہے۔ اسی طرح کسی کو پوسٹ بہت اچھی لگی تو اس پر دل کا ریکٹ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ہاہاہا کا ریکٹ کس مزاح پر یا طنز کے لئے استعمال ہو سکتا ہے۔ یعنی یہ ریکٹ کسی بھی پوسٹ پر آپ کے خیالات کی مختصر ترجمانی کر سکتا ہے۔

دوسری سوشل میڈیا سائٹس کی طرح ہم بھی فیس بلک کا استعمال کرتے ہیں اور کثر اوقات ایسی پوسٹ نظروں کے سامنے سے گزرتی ہے جس میں حساس، دل گداز یا پھر انسانیت سوز مناظر ہوتے ہیں۔ مگر حیرت اور افسوس اس وقت ہوتا ہے کہ اس طرح کی پوسٹ پر بھی کچھ لوگ ہاہاہا ریکٹ کرتے ہیں۔ انسان کے مرنے پر، گریہ کرنے پر، لاش پر، لڑکی کو اچھالتے وقت، ایکسیڈنٹ پر بھی لوگ ہاہاہا ریکٹ کرتے ہیں۔

عجب بے رحم فکر ہے لوگوں کی، جو تڑپتی انسانیت پر بھی رحم نہیں کھاتی ہے۔ عجیب انداز ہے کسی کی مظلومیت پر طنز کرنے کا۔ حیرت ہوتی ہے کہ انسان کسی دوسرے انسان کے خوف کو اپنے لئے تفریح کا سامان سمجھتے ہیں اور اس پر بھی ہاہاہا ریکٹ کر جاتے ہیں، کیا فکر درندگی ہے، کیا خیال نجس ہے۔ عجب!

گزشتہ دنوں فیس بک پر مجلس عزا کی ایک ویڈیو پوسٹ پر ہنسنے والے ایموجی دیکھیں تو ویڈیو پلے کی۔ وہ غالباً دو تین منٹ کی ویڈیو تھی جس میں بہت مولانا مصائب کربلا بیان کر رہا تھا اور بہت سے عزادار آنسو بہار ہے ہیں، کچھ عزادار منہ اور سر پیٹ رہے تھے۔ پہلے تو میں نے بیان سنا اور میرا دل بھی غمگین ہو گیا۔ ایسی کوئی بات نہیں تھی جس میں ہاہاہا ریکٹ کیا جاتا مگر درجنوں ریکٹ تھے۔ مطلب کسی کے مصائب ہر اگر کوئی آنسو بہا رہا ہے تو ہاہاہا ریکٹ؟ کیسا ظلم ہے یہ!

اسی طرح افغانستان کے کابل ائر پورٹ کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں کچھ لوگ جہاز کے پروں سے لٹکے تھے کہ کسی طرح ملک چھوڑ کر نکل جائیں۔ اس انسانی بحران کی ویڈیو پر ہنسنے والے ہم وطنوں کی بڑی تعداد تھی۔

مجھے معلوم ہے کہ بہت سے افغانوں کا پاکستان بارے کیا موقف ہے؟ مجھے بھی وہ پاک افغان کا کرکٹ میچ یاد ہے جہاں افغانیوں نے پاکستانیوں سے نفرت دکھائی دی، مجھے معلوم ہے کہ وہ پاکستان بارے اچھا نہیں سوچتے، لیکن انسانی ہمدردی بھی کوئی چیز ہوتی ہے؟ انسانی درد بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

کوئی خوف کی وجہ سے اپنی زمین، اپنا گھر، اپنے لوگ، اپنا سورج، اپنی ہوا چھوڑ کر جانے کے لئے بے چین ہیں اور دیوانہ وار بھاگ دوڑ کر رہے ہیں تو کیا ان خوفزدہ چہروں کا مذاق اڑایا جائے گا؟ یعنی کسی کی مجبوری کو، کسی کے خوف پر، کسی کی بے چینی پر، کسی کی بے قراری پر ”ہاہا ہا“ کیا جائے گا۔ کیا بے حسی ہے، کیا بے احترامی ہے، کیا بے رحمی ہے، کیا کج فکری ہے، کیا جہالت ہے۔

یہ ہی نہیں مینار پاکستان پر لڑکی کو گیند بنا کر اچھالنے اور دبوچنے کی ویڈیو پر بھی ہزاروں ہاہاہا ریکٹ، رکشہ پر لڑکی کو زبردستی بوسہ دینے والی ویڈیو پر سینکڑوں ہاہاہا ریکٹ، سگنل پر خواجہ سرا پر ہوٹنگ کرنے کی ویڈیو پر درجنوں ہاہاہا ری ایکٹ، ہم کدھر جا رہے ہیں؟ بے حسی، بے غیرتی، بے حیائی تو ہم میں بڑھ رہی ہے اور ہم دوسروں کے کپڑوں کو اس کی وجہ بتا رہے ہیں۔

ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ بے غیرتی کی نئی نئی بلندیاں عبور کر رہے اور ہمیں اس بات کا ادراک نہیں۔ احترام انسانیت کا سلسلہ آہستہ آہستہ معدوم ہونے کی جانب جا رہا ہے اور افسوسناک سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ ہمیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہو رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words