عروس البلاد اسکندریہ

قبل مسیح 331 میں سکندر اعظم کا بسایا ہوا، دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک کا حامل، مصر کا دوسرا بڑا، بحر روم کا سب سے بڑا، دور قدیم کی دنیا کے سب سے بڑے کتب خانے کا حامل، بحر روم کی دلہن کہلایا جانے والا اور اس کے ساحل پر چالیس کلو میٹر پر پھیلا ہوا شہر اسکندریہ سیاحوں کے لئے بے پناہ کشش رکھتا ہے۔ اسکندریہ کے ساحل پر ایک سو میٹر اونچا لائٹ ہاؤس تھا جس کا شمار دنیا قدیم کے سات عجائبات میں ہوا کرتا تھا۔

اس شہر کا یہ بھی اعزاز رہا کہ یہاں اس وقت کا دنیا کا سب سے بڑا کتب خانہ تھا اور یہی دو چیزیں اسکندریہ کی وجہ شہرت تھیں۔ چودہ سو سال پہلے ایک سونامی آیا اور اسکندریہ شہر سمندر میں ڈوب گیا اس طرح یہ عظیم الشان لائٹ ہاؤس بھی زیر آب آ گیا۔ موجودہ شہر بعد میں نئے سرے سے آباد کیا گیا۔ مصر پر کئی خاندانوں کی حکومت رہی اور اسکندریہ تقریباً ایک ہزار سال تک دارالحکومت بھی رہا۔ جب مسلمان حکمران آئے تو قاہرہ کو دارالحکومت بنا دیا گیا۔

ہم اسکندریہ پہنچے تو آدھا دن گزر چکا تھا اور یوں ہمارا گھومنے کا دورانیہ بہت کم رہ گیا تھا۔ کشادہ شاہراہیں اور ان پر رواں منظم ٹریفک، نئی طرز تعمیر کی خوبصورت عمارتیں، جا بجا نظر آنے والا سبزہ، سمندر اور طویل ساحل کے کنارے لگے ہوئے درخت شہر کی کشش بڑھا رہے تھے۔ ہم ساحل کے کنارے ایک خوبصورت شاہراہ پر چلتے جا رہے تھے۔ ایک صنعتی شہر ہونے کے ساتھ ساتھ بندر گاہ قریب ہونے کی وجہ سے یہاں تجارتی سرگرمیاں بہت زیادہ ہیں جس سے شہر کی رونق میں اضافہ ہوا ہے۔

ہم کچھ دیر کے بعد المنتزہ محل تک پہنچ گئے۔ یہ محل انیسویں صدی کی آخری دہائی میں تعمیر کیا گیا اور بادشاہ وقت کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ عمارت کی اطراف دو خوبصورت ٹاورز بنے ہوئے ہیں جن میں ایک کم اونچائی کا ہے اور دوسرے کی اونچائی درمیانی ہے۔ محل کے باہر سرخ اور پیلے رنگ کا پینٹ خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے کہ دیکھنے والے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ ارد گرد وسیع باغات ہیں اور سامنے ساحل کا دلکش منظر ہے۔ یہ مصر کا سمر پیلیس بھی کہلاتا ہے جہاں حاکم وقت گرمی کے دن گزارنے کے لئے آتے ہیں۔ صدر انور سادات مرحوم نے محل کی نئے سرے سے تزئین و آرائش کروائی تھی۔ محل عوام کی سیر و تفریح کے لئے نہیں کھول رکھا تھا اس لئے ہم باہر سے ہی اس خوبصورت عمارت کا نظارہ کر کے ساحل سمندر کی طرف چل دیے۔

ساحل سمندر زیادہ دور نہیں تھا۔ چند منٹ بعد ہم سمندر کی لہروں کا نظارہ کر رہے تھے۔ لہروں کا ساحل کی طرف جوش و خروش کے ساتھ بڑھنا، راستے میں جسامت میں کم ہونا اور ساحل پر پہنچ کر معدوم ہو جانا بظاہر تو ایک بے بسی کا مظہر ہے لیکن صدیوں سے جاری تسلسل جہد مسلسل کی ترغیب دلاتا ہے۔ ساحل سے دیکھنے والوں کے لئے بحر و بر کے دو عالم نظر آتے ہیں۔ ایک تو ساحل پہ الگ سی دنیا آباد ہوتی ہے اور دوسری سمندر کی دنیا۔ مجھے ذاتی طور پر سمندر زیادہ پر کشش لگتا ہے۔ لہروں کی روانی یکسانیت و جمود کو طاری نہیں ہونے دیتی۔ افق کی جانب نظر دوڑائیں تو سطح سمندر کا نیچے کی طرف جھکاو خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ جی تو مچلتا ہے کہ سمندر میں غوطہ زن ہو کر اندر کے اسرار و رموز سے پردہ ہٹایا جائے۔

ساحل پر کافی زیادہ لوگ تھے۔ ساحل کے گرد و نواح کے جغرافیائی خد و حال کو اگر بھول جائیں تو یہ کراچی کا ساحل لگتا تھا۔ مرد و زن سمندر کی لہروں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ کچھ لوگ آگے بڑھ کر گہرائی میں تیر رہے تھے لیکن سب میں قدر مشترک یہ تھی کہ گھر سے جو بھی پہناوا پہن کر آئے تھے انہوں نے اسی کو سوئمنگ کاسٹیوم سمجھ رکھا تھا۔ ان میں مقامی لوگ بھی تھے کچھ ہندوستانی بھی تھے۔ مغرب کا وقت قریب آ رہا تھا اور ہم شہر کی طرف روانہ ہوئے۔

ایک مصروف کاروباری مرکز میں چلتے چلتے ایک بہت بڑی قالینوں کی دکان نظر آئی جس کی سجاوٹ اتنی پر کشش تھی کہ ہم بلا ارادہ اندر داخل ہو گئے۔ انواع و اقسام کے قالین رکھے ہوئے تھے جن کا ڈسپلے بہت متاثر کن تھا اور سب سے بڑھ کر قیمت ناقابل یقین حد تک کم تھی۔ ہمارے لئے ایک خوبصورت اور جاذب نظر قالین خریدنے میں صرف اس کی ترسیل مانع تھی لہذا ہم دونوں نے ایک ایک رگ خریدنے پر اکتفا کیا۔ بازار سے فارغ ہوتے اندھیرا پھیل چکا تھا اس لئے قاہرہ واپسی کا ارادہ کیا اور رات گئے ہم قاہرہ پہنچ گئے تھے۔

سکندر اعظم کی خوش بختی کہ مصر میں شہر بسایا اگر پاکستان میں بسایا ہوتا تو ہماری قوت ایمانی نے اس کے ساتھ وہ سلوک کیا ہوتا جو منٹگمری اور لائلپور کے ساتھ کیا ہے لیکن اب بھی ہم ایمان کی کسوٹی پر پورے نہیں اترتے کیونکہ جیکب آباد چیلنج کر رہا ہے۔

قاہرہ میں کافی گھوم لیا اور ہمارے قیام کا آخری روز تھا۔ ابھی تک میں نے چاکلیٹ اور ٹی شرٹ نہیں خریدی تھی۔ آپ حیران نہ ہوں میں واضح کر دیتا ہوں۔ میری بیٹی تقدیس کی فرمائش تھی کہ میں ہر ملک کی مقامی تیار کردہ چاکلیٹس اس کے لئے ضرور خریدوں اور میرے بھتیجے ارشد کریم کی فرمائش تھی کہ ہر جگہ سے اس کے لئے ایسی ٹی شرٹ لاؤں جس پر وہاں کی کسی مشہور جگہ کی تصویر پرنٹڈ ہو۔ اسی بہانے ہم شہر کے ایک گنجان علاقے میں پہنچ گئے۔

اگلی صبح عید الاضحی کا دن تھا اور ہماری فلائٹ بھی۔ مجھے وہاں پر قربانی کے جانور بالکل نظر نہیں آئے۔ خدا جانے ان کا کیا طریقہ کار تھا جبکہ ہمارے ہاں تو ہفتوں قبل جانوروں کے ریوڑ جا بجا نظر آتے ہیں۔ مجھے خدشہ تھا کہ نماز عید اور ہماری فلائٹ کے اوقات میں ٹکراو نہ ہو۔ قریبی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ وہاں نماز عید منہ اندھیرے ہی ادا کر لی جاتی ہے۔ نماز کے فوراً بعد ہم ٹیکسی میں سوار ہوئے اور سورج کے طلوع ہونے تک ائرپورٹ پہنچ گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words