ٹویٹر اسپیس – کلب ہاؤس اور پاکستان، انڈیا کے انٹرنیٹ صارفین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹویٹر نے اپنے صارفین کے لیے ٹویٹر اسپیس کی سہولت دو ہزار بیس کے آخر سے شروع کی اور اسی طرز کی ایک اور کلب ہاؤس نامی ایپلیکیشن کی شروعات بھی دو ہزار بیس کے اپریل کے مہینے سے شروع ہوئی۔ دونوں دنیا میں کافی مقبول ہوچکے ہیں۔

مجھے میرے ایک معتبر صحافی اور پیارے دوست شاہد صاحب سے کلب ہاؤس کے حوالے سے آگاہی ملی تھی مگر اس وقت خاص دلچسپی نہیں لے سکا مگر آج کے دنوں میں کلب ہاؤس اور ٹویٹر اسپیس کافی مشہور ہو رہے ہیں اور دنیا کے اکثر و بیشتر سماجی سیاسی اور دوسرے مسائل کے حوالے سے ٹویٹر اسپیسیز اور کلب ہاؤس دونوں جگہوں پے کافی بجث و مباحثے ہوتے آرہے ہیں۔

ٹویٹر اسپیس کیا ہے؟

ٹویٹر اسپیس ٹویٹر کے جانب سے متعارف کروایا گیا ہے جس میں کوئی بھی جو ٹویٹر استعمال کرتا ہے ایک سپیس یعنی موضوع کا چناؤ کرتا ہے جس میں دوسرے صارفین آ کر اپنی اپنی رائے کا اظہار لکھنے کے بجائے بات کر کے کرتے ہیں مگر بات کرنے کی اجازت اسی شخص کو ملتی ہے جو اسپیس کو بناتا ہے یعنی میزبانی کرتا ہے جبکہ دوسرے صارف صرف سنتے ہیں یا پھر بات ا اپیس میں بات کرنے کی درخواست کرتے ہیں اسی دوران اگر میزبان چائے تو وہ کسی بھی اسپیس کے ممبر کو اسپیس سے بے دخل بھی کر سکتا ہے یہ ہی سب کچھ کلب ہاؤس نامی اپلیکیشن میں بھی ہوتا ہے۔

مجھے بھی حال ہی میں کچھ ٹویٹر اسپیس اور کلب ہاؤس کے کچھ گروپس میں جانے کا موقع ملا زیادہ تر گروپس انڈیا اور پاکستان کے لوگوں پے مشتمل تھے مگر یقین مانیں کہ مجھے ان اسپیسیز اور کلب ہاؤسز میں جاکر بہت حیرت ہوئی

ماسوائے چند کے اکثریتی انڈیا اور پاکستان کے لوگوں کے اسپیسیز اور کلب ہاؤس کے درمیان گروپوں کا ماحول واہگہ بارڈر جیسا تھا جہاں پے پاکستان اور انڈیا دونوں طرف کے لوگ واہگہ بارڈر کے دونوں طرف بیٹھ کر اپنے اپنے ملک کے فوجیوں کو مونچھوں کو تاؤ دینے اور سب سے زیادہ اونچی ٹانگیں اٹھانے پے نہ صرف تالیاں بجا کر داد دیتے ہیں بلکہ بعد میں اپنے نجی محفلوں اور گپ شپ میں صرف اور صرف اپنے ہی فوجیوں کو واہ واہ کہہ کے سرہاتے ہیں

اور دوسرے صبح پھر وہی معمول یعنی جیسے دونوں طرف کے فوجی لوگ اپنے اپنے ممالک کے لوگوں کو اپنے اپنے مونچھوں کو تاؤ دیتے اور چھاتی دکھاتے ہوئے ایک دوسرے کے نظروں میں ابتر اور ایک دوسرے ملک کے فوجیوں سے اعلی و منفرد دکھانے میں کئی سالوں سے لگے ہوئے ہیں اور یہ سلسلہ دونوں مملکت کے درمیان کئی دہائیوں سے زور و شور سے جاری ہے مگر پہلے یہ صرف بارڈرز، ذرائع ابلاغ، سفارتی، مذہبی اور جاسوسی حلقوں میں جاری تھا مگر آج کل ٹویٹر اسپیسیز اور کلب ہاؤسیز میں بھی روزانہ کے بنیاد پے جاری ہے۔

یعنی اکثریتی ٹویٹر اسپیسیز اور کلب ہاؤس میں زیادہ تر پاکستان اور انڈیا کے لوگ اپنے اپنے مخصوص اور محدود، سیاسی، سماجی، مذہبی، معاشرتی سوچ کے دائروں میں بند ہو کر اپنے جیسے مکتب فکر جیسے چند لوگوں کے ساتھ ٹویٹر اسپیسیز اور کلب ہاؤس میں بیٹھتے ہیں اور دوسرے فریقین سے اپنے آپ کو ابتر اور اعلی ظاہر کرانے میں نہ صرف روزانہ کے بنیاد پے لگے ہوئے ہیں بلکہ ایک دوسروں کی تذلیل کرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ سے گالم گلوچ بھی کرتے ہیں

اس کے برعکس انڈیا اور پاکستان کے لوگ اپنے اپنے لوگوں سے بھی سیاسی و مذہبی سوچ کے حوالے سے آپس میں ایک دوسرے سے بھی الجھے ہوئے ہیں یعنی زیادہ تر پاکستان کے ٹویٹر اسپیسیز اور کلب ہاؤسز میں پاکستان کے مخصوص مکتب فکر چاہے وہ سیاسی ہو مذہبی، معاشرتی یا قومی ہو آپس میں اپنا اپنا الگ اسپیسیز اور کلب ہاؤسز ہیں جن میں وہ طوفان بدتمیزی کے ساتھ ساتھ اپنے مخصوص سوچ کے زاویوں سے ہٹ کر لوگوں میں غدار، ایجنٹ، کے سرٹیفکیٹ کی اشاعت بھی روزانہ کی بنیاد پے زور و شور سے کرتے ہیں جب ان کے مخصوص مذہبی سیاسی، قومی اور پارٹی لیڈران کے حوالے سے ان کے مخصوص سوچ کی سرکل سے انکاری کوئی بات کرے، واقعات بیان کرے یا پھر اس حوالے سے سوال کرے تو ان کو نہ بولنے سے روکا جاتا ہے یا پھر اپنے اسپیسیز اور کلب ہاؤسز سے نکال دیا جاتا ہے اور یہ ہی حال اور ماحول انڈیا کے اپنے لوگوں کے درمیان کے ٹویٹر کے اسپیسیز اور کلب ہاؤسز کا بھی ہے۔

اسی انڈیا اور پاکستان کے ٹویٹر اسپیسیز اور کلب ہاؤس میں اگر کسی صارف کو پہلی دفعہ اس کی سوچ اور سیاسی وابستگی کو بنا جانے بولنے کا موقع پہلی بار کسی غلطی سے مل بھی جائے اور وہ اپنے رائے اور اظہار آزادی کو کسی سیاسی پارٹی کے لیڈر، انڈیا یا پاکستان کے پالیسیوں اور ان کے سیاسی پارٹیوں یا مذہبی سوچ یا قومی سوچ کے برعکس اور ان لوگوں کے مخصوص اور محدود سوچ کے خلاف بیان کرے تو اس بیچارے کو ٹویٹر اسپیسیز اور کلب ہاؤس کے ہوسٹ (میزبان) اور شریک میزبان نہ صرف اس کو خاموش کر دیتے ہیں بلکہ اس کو اپنے اپنے ذاتی سوچ اور پسند کی نظریات سے اختلاف کے بنیاد پے غدار، ایجنٹ یا کافر کے لقب کے سند عطا کر کے اپنے اپنے اسپیسیز سے یا تو نکال دیتے ہیں یا نہیں تو پھر خاموش کر دیتے ہیں۔

اس کے برعکس دوسرے ممالک کے لوگ اسی اسپیسیز اور کلب ہاؤسز سے استفادہ حاصل کر کے بہت سے موضوعات پے نہ صرف سنجیدگی سے گفتگو اور بحث و مباحثے کرتے ہیں بلکہ اخلاقیات کے ساتھ ساتھ رائے آزادی اور سوچ کے اصولوں کے ساتھ اپنے اپنے مذہبی، سیاسی، معاشرتی، قومی سوچ اور رائے کے برعکس ہر کسی کو بولنے کا موقع دیتے ہیں اور دوسروں کی رائے کا احترام عزت اور اخلاق کے ساتھ بھی کرتی ہیں۔

اور اسی کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی سوچ اور رائے کے اختلافات کے برعکس مختلف موضوعات پے مختلف لوگوں کے ساتھ سنجیدگی سے دلائل اور تاریخی پس منظر میں مثبت بحث و مباحثہ کر کے کسی نہ کسی سے نہ صرف کچھ نہ کچھ نیا سیکھتے یا نیا سکھانے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کے دائرے میں اپنے اپنے سیاسی، مذہبی، قومی سوچ کے برعکس ہر کسی کے رائے کا احترام کرتے ہیں اور دوسروں کو شائستگی سے سنتے ہیں اور اخلاقیات سے بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔

 


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments