صدر مملکت کا خطاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان صاحب کی مدح سرائی اور خوشامد کے لیے بہت سے ترجمان موجود ہیں کم از کم صدر مملکت کو نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں اس سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ صدر مملکت ریاست کی سب سے بڑی شخصیت ہیں ان کے منصب کا تقاضا ہے کہ وہ حکومت کی توجہ ملک کو درپیش چیلنجز کی طرف توجہ دلانے تک محدود رہتے۔ اس خطاب کے لیے ان کو بہت سے سنجیدہ اور اہمیت کے حامل موضوعات مل سکتے تھے۔ مثلاً رواں سال کے آغاز میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ وطن عزیز شرح پیدائش کے حساب سے دنیا میں چوتھے نمبر پر آ چکا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد 1951 کی  مردم شمار کے وقت مغربی پاکستان کی آبادی تین کروڑ سینتیس تھی جو آج چھ گنا بڑھ چکی ہے۔ آبادی میں اس تیز رفتار اضافے پر قابو نہ پایا گیا تو دو ہزار پچاس تک پاکستان کی آبادی تیس کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ اس وقت ملک میں موجودہ آبادی کے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، روزگار اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات میسر نہیں۔ آبادی میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو آنے والے وقت میں غربت اور بیروزگاری میں اضافے سے معاشرتی و سماجی ابتری کتنی بڑھ جائے گی اور ہمارا مستقبل کتنا بھیانک ہو گا صدر مملکت کو چاہیے تھا اس طرف حکومت کی توجہ دلاتے۔

اسی طرح چند ماہ قبل پارلیمنٹ کے فلور پر وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان غذائی قلت کا شکار ہو چکا ہے۔ ملکی معیشت میں زرعی شعبہ نہایت اہم ہے جس کا جی ڈی پی میں حصہ اکیس فیصد ہے اور ملک کی 45 فیصد لیبر فورس اسی شعبے سے اپنا روزگار کماتی ہے۔ آج سے چند سال قبل تک پاکستان گندم، کپاس، چینی اور دیگر اجناس ایکسپورٹ کرتا تھا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب سے موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے ہر سال ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی اربوں ڈالرز کی یہی اجناس امپورٹ کی جا رہی ہیں۔

صرف مالی سال 2020 / 2021 میں حکومت نے 7.5 ارب ڈالرز کی اجناس امپورٹ کیں۔ زرعی شعبے میں سب سے تشویشناک بات کاٹن کی پیداوار میں کمی ہونا ہے۔ ملک کی ایکسپورٹ میں حصہ ڈالنے والے ٹیکسٹائل سیکٹر کا انحصار کاٹن کی پیداوار پر ہے۔ دو ہزار اٹھارہ تک کاٹن کی اوسط ملکی پیداوار 13 ملین بیلز تھی جو صرف موجودہ حکومت کے تین برسوں میں سکڑ کر پانچ ملین بیلز تک گر چکی ہے جو گزشتہ تیس برسوں میں کم ترین پیداوار ہے۔ جس کی وجہ ناقص بیج، ریسرچ کا فقدان اور مناسب منصوبہ بندی نہ ہونا ہے صدر مملکت کو اپنے خطاب میں اس حوالے سے حکومت سے باز پرس کرنی چاہیے تھی۔

ملک میں اس وقت چالیس فیصد بچے ایسے ہیں ناقص غذا کے سبب جن کے دماغ کی نشو نما مکمل نہیں ہو رہی۔ گاؤں، قصبوں حتی کہ شہروں تک میں کتنی مائیں ایسی ہیں زچگی کے دوران مناسب کیئر نہ ملنے کے سبب جان ہار جاتی ہیں۔ کتنے لوگ ہیں جنہیں پینے کو صاف پانی دستیاب ہے؟ آلودہ پانی پینے کے باعث لاکھوں لوگ ہر سال موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ تمام بڑے شہروں کے اطراف کھمبیوں کی طرح اگنے والی کچی بستیاں سماجی، اخلاقی اور امن و امان خرابی کی آماجگاہ ہیں۔

تعلیمی میدان میں وطن عزیز کا مقابلہ تیسری دنیا کے ممالک سے بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ڈھائی کروڑ نونہال جن کے ہاتھوں میں قلم اور بستہ ہونا چاہیے وہ ورکشاپس اور اینٹوں کے بھٹوں میں مشقت پر مجبور ہیں۔ جن کو تعلیم کی نام نہاد سہولت میسر بھی ہے ان کے لئے بھی ملازمت کی کوئی ضمانت نہیں۔ ملازمتیں اس لیے پیدا نہیں ہو رہیں کیونکہ گروتھ ریٹ منفی سے بھی نیچے گر چکا ہے جو صرف تین سال پہلے تک 8۔ 5 فیصد سالانہ تھا اور تمام عالمی ریٹنگ ایجنسیاں توقع کر رہی تھیں کہ معاشی پالیسیز میں تسلسل قائم رہا تو با آسانی ایک سال بعد یہ سات فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

یاد رکھیں ملکی آبادی میں اضافے کی شرح ہی سالانہ 3 فیصد کے لگ بھگ ہے اس لیے گروتھ کی شرح منفی ہونا کس قدر خوفناک بات ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح اس وقت شرح سود چھ فیصد سے کم تھی جو اس حکومت نے طویل عرصے تک تیرہ فیصد رکھی جس نے کاروبار کا امکان ہی بالکل ختم کر دیا۔ مہنگائی کی شرح پچھلی حکومت 2۔ 3 پر چھوڑ کر گئی تھی وہ بھی دہرا ہندسہ کراس کر چکی اور فوڈ انفلیشن تو بیس فیصد کی خوفناک سطح بھی کراس کر چکی ہے اور اس صورتحال کے باعث محاورتا ہی نہیں بلکہ حقیقتاً لوگوں کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں۔

آئی ایم ایف کی پابندی کے باوجود صرف دو سال جتنے نئے نوٹ چھاپے گئے، اتنے نوٹ پچھلے پورے دور حکومت میں نہیں چھاپے گئے اور افراط زر بڑھنے کی یہ بھی بڑی وجہ ہے۔ بجلی کی قیمت میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، گیس تین گنا بڑھ گئی سرکلر ڈیٹ میں روز بروز پھر بھی اضافہ جاری ہے اور وہ بڑھ کر پچیس سو ارب کے لگ بھگ پہنچ چکا جو کل محصولات کا نصف بنتا ہے۔ ایکسپورٹ کو سہارا دینے کے نام پر روپے کی قدر کو تاریخ ساز جھٹکا دیا گیا اور ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر چکا۔ ایکسپورٹ میں تو پھر بھی اضافہ نہ ہوا لیکن مہنگائی کے تازیانے سے غریب عوام کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ملک کے ہر کونے میں بازاروں میں ویرانی چھائی ہے اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔ یہاں تک دیہاڑی دار، پرچون اور سبزی فروش طبقے کے کاروبار بھی مندی کا شکار ہیں۔

کسی کو فکر نہیں دیہاڑی دار طبقے کی حالت اس وقت کتنی قابل رحم ہے جس دن دیہاڑی نہ لگے ان کے لیے بچوں کا پیٹ بھرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ دن بھر کی محنت مشقت کے عوض جو معمولی رقم ملتی ہے اسی سے گھر لوٹتے وقت اپنے گھرانے کی ضرورت کے لیے انہیں راشن لے کر جانا ہوتا ہے۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی ملک میں پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نہ صرف بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مہنگائی بھی آسمان چھونے لگی ہے۔

اس عرصے کے دوران پٹرول، گیس اور بجلی کے نرخ میں اضافہ ہوا ہے جس سے عوام کی زندگی اجیرن ہے ہی مگر اشیائے خور و نوش کی گرانی سب سے بڑا سوہان روح ہے۔ حیرت اور افسوس ہے کہ وزراء کے ساتھ صدر مملکت بھی شامل باجہ ہو چکے ہیں کہ ملک میں دودھ شہد کی نہریں بہنے لگی ہیں۔ کم از کم صدر مملکت کے منصب کا تقاضا تھا کہ وہ حکومت کو مشورہ دیتے کہ وہ ملکی معیشت میں بہتری لانے کی کوشش کرے۔ جب ملک کی معیشت بہتر ہوگی تو اس کے اثرات عام آدمی کو اپنی زندگی میں آسانی کی صورت خود ہی نظر آنا شروع ہو جائیں گے پھر کسی پراپیگنڈے کی ضرورت نہیں رہے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments