آج کا معاشرہ، اور مضبوط عورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر زمانہ گزرے ہوئے زمانے سے مختلف ہوتا ہے۔ بدلتا زمانہ معاشرے کو بھی بدل کے رکھ دیتا ہے۔ اس بدلتے زمانے کے ساتھ سوچ بدلنا بھی لازم ہو جاتا ہے۔ جو لوگ زمانے کی گاڑی کے ساتھ آگے نہیں بڑھتے زمانے کی گاڑی انہیں پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔ نہ گزرا ہوا زمانہ واپس آ سکتا ہے نہ ہم موجودہ زمانے کو بدل سکتے ہیں۔ ہر گزرتے زمانے کے ساتھ معاشرے کے اصول اور ہماری سوچ بھی بدلتی ہے لیکن جہاں بات آتی ہے عورت کی تو ہماری سوچ ساکن کیوں ہو جاتی ہے۔ جب ہم زمانے کے ساتھ ہر چیز کو بدل رہے ہیں تو عورت کے لیے ہم نے اپنی سوچ کو کیوں محدود کر رکھا ہے؟

آج بھی ہمارے معاشرے کے ستر فیصد لوگ عورت کے لیے گزرے زمانے کی سوچ کیوں رکھتے ہیں۔ آج بھی بہت سے لوگوں کی یہی سوچ ہے کہ عورت کا وجود گھر کے کام، شادی اور بچوں تک ہی محدود رہنا چاہیے۔ ہاں موجودہ زمانے میں لڑکیوں کو پڑھانے کا رجحان ضرور بڑھا ہے لیکن اس میں بھی بہت سے لوگوں کی سوچ یہی ہے کہ عورت خود پڑھی ہو گی تو اپنے بچوں کو پڑھا لکھا سکے گی۔ بہت سے لوگ آج کے زمانے میں بھی یہ سوچنے کو تیار نہیں ہیں کہ عورت کا بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا مرد کا۔

عورت کو بھی خود اعتمادی کی ضرورت ہے۔ لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کے جو لڑکی اپنی زندگی کے اٹھارہ انیس سال محنت کر کے تعلیم حاصل کرتی ہے اس کی بھی تو خواہش ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی تعلیم کو صحیح جگہ پر استعمال کرے۔ اتنے سالوں کی محنت کے بعد جو کچھ اس نے سیکھا اس کو کام میں لائے۔ وہ بھی معاشرے میں پر اعتماد اور خود مختار شخصیت بننے کے خواب دیکھ سکتی ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ باغی ہو جائے یا اپنی حدود بھول جائے لیکن اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنی تعلیم سے مستفید ہونا تو اس کا حق ہے نا۔

آج کے معاشرے کو ایک مضبوط عورت کی ضرورت ہے۔ آج کے معاشرے میں مرد اور عورت کو شانہ بشانہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کے معاشرے کو ایسی عورت کی ضرورت ہے جسے نہ صرف اپنے حقوق معلوم ہوں بلکہ ان کے لیے لڑنا بھی آتا ہو۔ آگر آج کی عورت کو بھی صرف گھر کے کاموں، شادی اور بچوں تک ہی محدود کر دیا جائے گا تو زمانہ جاہلیت اور آج کے زمانے میں کیا فرق رہ جائے گا۔

ہم پر اپنی اس سوچ کو بدلنا لازم ہے کہ معاشرہ صرف مردوں سے چلتا ہے یا گھر چلانا صرف مردوں کا اور گھر کے کام صرف عورتوں پر لازم ہے۔ کوئی بھی کام کسی ایک کا نہیں ہوتا۔ اس معاشرے کو مضبوط اور با شعور عورتوں کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی مردوں کی کیوں کہ مرد اور عورت دونوں ایک ہی گاڑی کے پیے ہیں اور گاڑی تب تک آگے نہیں بڑھتی جب تک اس کے تمام پیے کارآمد اور مضبوط نہ ہوں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments