مصنوعی ذہانت : توقعات اور خدشات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کرہ ارض پر بسنے والی اہم ترین اور حاکم نوع حیات ہے۔ انسان کی اس امتیازی حیثیت کی وجہ اس کی ذہانت ہے۔ گو انسان زمین اور پانی میں پائی جانے والی مخلوقات میں واحد جاندار نہیں، لیکن انسانی دماغ میں ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت اسے دیگر جانداروں سے ممتاز کرتی ہے۔ ورنہ یک خلیاتی جانداروں سے لے کر ہاتھی اور زرافہ تک، تمام جانداروں میں ضروری حیاتیاتی امور انجام دینے کے لے فطری ذہانت موجود ہوتی ہے۔ لیکن انسانی دماغ ساخت اور کارکردگی کے اعتبار سے اعلی ترین ذہانت کا مظہر ہے۔

اس ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے، ہزاروں سال کے شعوری ارتقا کا سفر طے کرتے ہوئے، انسان نے اپنی زندگی کو آسودہ بنانے کے لے بہت سی اختراعات اور ایجادات کی ہیں۔ سائنسی علوم میں دسترس اور ایجادات کے حوالے سے بیسویں صدی اور موجودہ صدی کی دو دہائیاں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔ اس عرصے میں یوں توں ہت سی حیرت انگیز ایجادات ہمارے سامنے آئیں، لیکن انسانی ذہانت کی اعلی ترین کارفرمائی کمپیوٹر کی صورت میں نظر اتی ہے۔ خصوصی طور پر، گزشتہ صدی کے نصف اخر، اور موجودہ صدی کی دو دہائیوں میں اس میدان میں ہوشربا ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔

آج کل خصوصی طور پر سائنسدانوں اور سائنس و ٹیکنالوجی سے عمومی طور پر شغف رکھنے والوں کا دل جس شعبے نے لبھا رکھا ہے وہ مصنوعی ذہانت ہے۔ مصنوعی یا مشینی ذہانت کی زندگی کے ہر شعبے میں اثر پذیری نہ صرف ناگزیر ہو چکی ہے بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مشین بارے روایتی طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ مشین وہی امور انجام دے سکتی ہے، جن کے لئے اسے بنایا گیا ہوتا ہے یا جس کا اسے حکم دیا جاتا ہے۔ لیکن مصنوعی ذہانت سے متعلق مشینیں نہ صرف تفویض کردہ امور انجام دیتی ہیں بلکہ از خود سیکھنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ مختلف سائنسدانوں کی عرق ریزی نے کمپیوٹر کی استعداد میں ناقابل یقین اضافے کیے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ انسان کی یہ ایجاد اس کے لئے فخر کے علاوہ، تشویش کا باعث بن چکی ہے۔

آج مصنوعی ذہانت زندگی کے ہر شعبے میں کارگر نظر اتی ہے۔ طب کے میدان میں مصنوعی ذہانت نہ صرف سرطان اور دیگر پیچیدہ امراض کی نشان دہی ڈاکٹروں سے زیادہ بہتر طور پر کر رہی ہے بلکہ علاج کے طریقہ کار اور ادویات کی دریافت میں بھی، محققین و معالجین سے زیادہ کار آمد ہے۔ اس کے علاوہ فنون لطیفہ میں بھی مصنوعی ذہانت کا تصرف حیرت انگیز ہے۔ جی ہاں، فنون لطیفہ، جنہیں انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر سمجھا جاتا ہے، وہ بھی اب فقط انسان کا طرہ امتیاز نہیں رہا۔

چند روز سیکھنے کے عمل سے گزرنے کے بعد ، کمپیوٹر نہ صرف وین گاف کی طرح پینٹ کر سکتا ہے، بلکہ بیتھوون جیسی دھنیں بھی تخلیق کر سکتا ہے۔ آج کمپیوٹر سو سے زائد زبانیں کسی بھی انسان سے زیادہ سلاست کے ساتھ استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ شطرنج، پوکر اور دیگر بہت سارے کھیلوں میں کمپیوٹر ماہر ترین کھلاڑیوں سے زیادہ مہارت حاصل کر چکا ہے۔

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سپر کمپیوٹر، انسانی دماغ کے مساوی امور انجام دینے کی استعداد حاصل کر چکا ہے، گو ان پیچیدہ ترین اور گوناں گوں امور کی انجام دہی کے لئے سپر کمپیوٹر کو درکار علاقہ انسانی دماغ کے حجم سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک مسئلہ اور ہے، وہ یہ کہ اب تک تیار کیے گئے تمام کمپیوٹر صرف وہی امور انجام دے سکتے ہیں، جن کے لئے انھیں بنایا گیا۔ جیسے کہ کھیل، طب یا دیگر امور کی انجام دہی کے لئے ساخت کردہ کمپیوٹر۔

لیکن مختلف شعبہ جات کو ایک ہی کمپیوٹر میں جمع کر کے، ان سب کو اپس میں مربوط کرنا، وہ مشکل مہم ہے جسے سر کرنا ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔ مذکورہ بالا وصف پر تا حال فقط انسانی دماغ کی اجارہ داری ہے۔ لیکن کب تک؟ آج ہم عرصے کا تعین تو نہیں کر سکتے، مگر اس امر میں کوئی شک کرنے کی وجہ نظر نہیں اتی کہ مستقبل قریب یا بعید میں تحقیق کار ایک ہی مشین میں یہ تمام اوصاف یکجا کرنے، اور انھیں باہم مربوط کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایسا کمپیوٹر انسانی دماغ جیسی فرزانگی کا حامل ہو گا۔ اور جب یہ ہوشربا ایجاد معرض وجود میں اجائے گی، تو کیا ہو گا؟ یہی وہ سوال ہے جس کے ممکنہ جوابات کی جانب توجہ مبذول کروانے کے لئے یہ تحریر قارئین کے سامنے پیش کیا جا رہی ہے۔

محققین کا خیال ہے کہ ائندہ چند دہائیوں میں مصنوعی ذہانت کی حامل مشینیں طب، قانون، ذرائع ابلاغ، انتظامیہ، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، فنون لطیفہ، یعنی تمام شعبہ ہائے تمدن میں مکمل تصرف حاصل کر لیں گی۔ ایسا ہونے کے بعد ، اس نتیجے پر پہنچنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ انسانیت اجتماعی طور پر بے روزگار ہو جائے گی۔ اس ممکنہ منظر نامے کا خوش کن ترین پہلو یہ ہے کہ اپنی تاریخ میں پہلی بار انسان فکر معاش سے بے نیاز ہو جائے گا۔ لیکن مستقبل کا یہ دلفریب منظرنامہ اپنے جلو میں ہولناک خدشات بھی رکھتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مسلسل بڑھتی ہوئی گیرائی

کے باعث خدشہ ہے کہ انسان کی ایجاد کردہ مصنوعی ذہانت کی حامل یہ مشینیں، بالآخر خود انسان کو مغلوب کر لیں گی۔ اور انسان غیر متعلق ہونے کے بعد ، نیست کے اندھیروں میں ناپید ہو جائے گا۔ یہ صورتحال اگرچہ انتہائی تشویشناک ہے لیکن مایوس کن نہیں۔ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارہ ناسا کے محققین کا اندازہ ہے کہ مستقبل قریب میں وہ، انسانی سر میں پیوند کاری کے ذریعے، برقی انکھ اور کان لگانے میں کامیابی حاصل کر لیں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو یہ امر انتہائی قابل توجہ ہے کہ اس سے قبل تمام انسانی ترقی، اس کے ماحول کی ترقی تھی، جبکہ اب خود انسان کے جسم میں مشینی پیوند کاری، سے بنیادی تبدیلیاں ہونے جا رہی ہیں۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہو تا ہے کہ مشینی پیوند کاری کے بعد ، کیا انسان ان معنوں میں واقعی انسان رہے گا، جیسا کہ ہم آج ہیں؟ مستقبل میں انسانیت کو کیسی صورتحال کا سامنا ہو گا، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن حال کو مستقبل پر منطبق کرنے سے یوں گمان ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت، موجودہ ہیئت میں پائی جانے والی نوع انسانی کی عظیم ترین اور آخری ایجاد ثابت ہو گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments