ڈراپ سین



میں کوئی لائق فائق سٹوڈنٹ نہیں تھی اور نہ ہی ایسی کسی حماقت کا خود سے احتمال رہا۔ میرا شمار ہمیشہ سے ان طالب علموں میں ہوتا رہا ہے جو امتحانوں سے پہلے صرف اس لئے پڑھ لیتے ہیں کہ کہیں فیل ہی نہ ہو جائیں اور گھر والوں سے ڈانٹ نہ پڑے۔ اسی لئے جب پانچویں کلاس میں سنٹر کا امتحان پاس کر لیا تو سب کے ساتھ میں خود بھی حیران تھی کہ یہ معجزہ آخر ہو کیسے گیا۔ کیونکہ سارے پیپر ایک ہی دن ہونے تھے اور میں نے گھر والوں کو بتانا ضروری نہیں سمجھا تھا کہ دو چار دن میں امتحان ہے۔

پتہ چلنے پر پہلے تو ڈانٹ پڑی اور شاید کوئی پٹائی بھی ہوئی اور جب پڑھنے بیٹھ ہی گئی تو اچھا خاصا آندھی اور طوفان آ گیا اور لائٹ چلی گئی۔ اب مجھے تو کوئی زیادہ پریشانی نہیں ہوئی لیکن گھر والے فکر مند ہو گئے۔ گیس لیمپ، موم بتی، وغیرہ پاس رکھ کر پڑھنے بٹھا دیا۔ اگلی صبح۔ سارے بچے سکول میں اکٹھے ہوئے اور سنٹر تک اپنی ٹیچرز کے ساتھ پہنچ گئے۔ شام کو بھائی جان گھر واپس لے آئے۔ اب ہر کوئی سوالوں کے پرچے لے کر میرے جواب سن کر یہ اندازہ لگا رہا ہے کہ پاس ہو جاؤں گی یا نہیں؟

خیر نہ صرف پاس ہو گئی بلکہ بہت اچھے سکول میں داخلہ بھی مل گیا۔ اب کم از کم لاپرواہی پر پڑنے والی ڈانٹ کو کچھ بریک لگ گئی۔

اپنی ذہانت کا اندازہ ہونے کے باوجود ہمیشہ کوشش ہوتی کہ کلاس میں فرنٹ رو میں سیٹ مل جائے۔ فرنٹ کی درمیانی رو میں تو کچھ پڑھاکو قسم کی لڑکیوں نے اس طرح قبضہ کر لیا کہ ایک آتی تو باقی گروپ کی جگہ بھی رکھ لیتی۔ اس طرح سائڈ کی فرنٹ سیٹوں کو ہمارے گروپ کے چھ ممبرز نے اپنا مسکن بنا لیا۔ بعد میں ٹیچرز نے قطاروں کو روٹیٹ کرنا شروع کر دیا تو اب بیک بینچرز کی شامت بھی آ جاتی تھی۔

خیر، ہماری کلاس میں کچھ لڑکیاں ہمیشہ ٹاپ پر رہتی تھیں۔ ایک آدھ نمبر کم آنے کا مطلب ان کے لئے ایک ٹھیک ٹھاک قسم کی پریشانی ہوتی۔ حالانکہ یہ کوئی اتنی بڑی بات بات بھی نہیں ہے۔ ان میں ایک لڑکی عالیہ بھی تھی۔ پیاری سی، سانولی سلونی، تیکھے نقوش والی عالیہ، ہر وقت صاف ستھری ہوتی، ہوم ورق سب سے پہلے تیار ہوتا۔ ٹیچرز کی ہونہار سٹوڈنٹ۔ گھر والے بہت پڑھے لکھے، سکول تک پروگریس کا پوچھنے آتے۔ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی تھی۔

ہینڈ رائٹنگ ایسی کہ جیسے کوئی خطاط لکھتا ہے۔ ٹیچرز کلاس میں لگانے کو چارٹ بنانے کو دیتیں تو اس کا چارٹ دیکھنے کے لائق ہوتا۔ غرض نہ ذہانت میں کوئی کمی تھی نہ سپورٹ میں۔ دو ڈھائی سال اچھے گزر گئے۔ مڈل کے بورڈ کے امتحان قریب تھے۔ لیکن ٹیچرز نے پھر بھی اسے چارٹ بنانے کا کام دینا جاری رکھا۔ عالیہ نے بہتیری کوشش کی کہ اب وہ منع کر دے۔ لیکن کچھ ٹیچرز نے تو اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ ڈانٹ ڈپٹ کر کے اپنا کام کروانے لگ گئیں۔ اس کی پڑھائی کا کافی حرج ہو رہا تھا۔ گھر سے سخت ڈانٹ پڑتی۔ وہ بیچاری بچی چکی کے دو پاٹوں کے بیچ پس رہی تھی۔ ٹیچرز سے سکول میں ڈانٹ اور گھر والوں سے گھر میں ڈانٹ۔

ایک دن ہماری بہت سینئر ٹیچر مسز عادل، جو سائنس پڑھاتی تھیں، نے دو تین چارٹ زبردستی بنانے کو دے دیے۔
اس نے لاکھ بچنے کی کوشش کی، لیکن وہ چارٹ تقریباً پھینک کر یہ جا وہ جا ہو گئیں۔
عالیہ رونی صورت لے کر کھڑی تھی کہ کرے تو کیا کرے۔ نہ جائے مانند، نہ پائے رفتن۔

وہ ڈرتے، ڈرتے چارٹ اٹھا کر گھر لے گئی۔ ایک ہفتہ کا وقت دیا گیا تھا کام مکمل کرنے کے لیے ۔ کچھ دن بعد مسز عادل نے پوچھا عالیہ چارٹ بن گئے ہیں؟ اس نے احترام سے کہا، نو ٹیچر!

اب ہفتہ ہو چکا تھا۔ ٹیچر نے پھر پوچھا، چارٹ کیوں نہیں بنے، میں تمھیں دو دن دیتی ہوں، اگر مجھے کام مکمل کر کے نہیں دیا تو تمھاری خیر نہیں۔ دو دن بعد ٹیچر نے غصے سے عالیہ کو کلاس میں کھڑے کر کے پھر پوچھا ”عالیہ! چارٹ کہاں ہیں؟ وہ مری ہوئی آواز میں بولی، وہ تو میں نہیں بنا سکی۔ یہ سننا تھا کہ مسز عادل نے عالیہ پر تھپڑوں کی بارش کر دی۔ اسے سخت سست کہا، حتٰی کہ اس کے گھر والوں کو بھی نہیں بخشا۔ روز اپنی لڑکی کی تعلیمی کارکردگی پوچھنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ ڈھیٹ، بد تمیز، نالائق، یہ، وہ۔ ان کا چہرہ لال اور منہ سے تقریباً جھاگ نکل رہی تھی۔ عالیہ کانپتے ہوئے آنسو صاف کر رہی تھی اور اپنے سرخ، سوجھے ہوئے گال سہلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ پورا پیریڈ کلاس میں کھڑی رہی اور ٹیچر کا غیض و غضب سہتی رہی۔

شاید اسی کو کہتے ہیں
اس کو چھٹی نہ ملی، جس نے سبق یاد کیا

خیر اس کے بعد ایک لائق فائق طالبہ، اپنی غیر نصابی قابلیت کی سزا پا کر سارے سکول میں مشہور ہو گئی۔ لیکن اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ عالیہ اور اس کے گھر والوں کی رنگا رنگ چارٹ کی نہ ختم ہونے والی بیگار سے جان چھوٹ گئی جو ایک مصیبت کی طرح ان پر مسلط کر دی گئی تھی

عالیہ نے مڈل کے بورڈ کے امتحان دیے اور پوزیشن ہولڈر رہی، میٹرک بورڈ میں پوزیشن لی اور بہترین نمبر حاصل کیے ۔ ایف، ایس، سی میں بورڈ میں پوزیشن لی اور سکالرشپ لیا۔ اپنے بھائی کی طرح انجنیئرنگ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ وہ ان دنوں وہاں الیکٹرک انجنیئرنگ میں اکیلی لڑکی تھی سو سب چھوڑ کے ایم۔ ایس۔ کیمسٹری میں داخلہ لے لیا اور یونیورسٹی میں ٹاپ کیا۔

اس نے جب ایک آرمی کالج میں لیکچرر شپ کے لئے اپلائے کیا تو کسی مصروفیت کی وجہ سے انٹرویو میں آنے سے معذرت کرنی چاہی لیکن پرنسپل صاحب نے سب کے لئے انٹرویو کی تاریخ بدل دی۔ میں جب اس سے ملی تو وہ کالج میں پڑھا رہی تھی اور انٹرویو کی تاریخ والا قصہ مجھے اس کے ایک کولیگ نے بتایا۔

یہ کہانی یہاں آ کر ختم نہیں ہوئی، بس رک اس لئے گئی ہے کہ میرا اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ میں ملک سے باہر چلی آئی۔ یہ واقعہ میرے ذہن میں گاہے، بگاہے ابھرتا رہتا ہے۔ اس نے میرے ذہن بر بہت گہرے اثرات مرتب کیے اور میرا خیال ہے کہ کلاس کی تمام لڑکیاں کسی نہ کسی طرح اس سے ضرور متاثر ہوئی ہوں گی۔ میری اساتذہ سے صرف یہ التجا ہے کہ وہ سٹوڈنٹس میں چھپی ہوئی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔ ان پر ذہنی اور نفسیاتی دباؤ ڈال کر ان کی اور ان کے گھر والوں کی ہمت اور صبر کا امتحان لے کر ان کی زندگی عذاب نہ کریں۔ ایسے رویے طالبعلموں کو تعلیم سے دلبرداشتہ کر کے ان کا مستقبل تاریک بھی کر سکتے ہیں۔

عالیہ خوش قسمت تھی کے اس کو بہت سپورٹیو فیملی ملی، ورنہ بہت سے چمکدار ستارے اپنے معماروں کی ناسمجھی سے سکول کا رخ کرنے سے گھبرا کر اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔ کیونکہ ہر بچہ اپنے گھر والوں کو سمجھا نہیں پاتا کہ اس کے ذہن پر کیسا خوف مسلط ہے جو اسے تعلیم سے برگشتہ کر رہا ہے۔

Facebook Comments HS