انسانی شکل میں چھپے درندے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اس معاشرے میں لوگوں کو نفسیاتی غلام بنایا جاتا ہے۔ ان لوگوں کی دماغی تربیت ایسے پیمانے پر کر دی جاتی ہے کہ یہ لوگ اپنی زندگی میں ہوتے ہوئے بھی کسی دوسرے کے لئے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے نہ تو آزادی معنی رکھتی ہے اور نہ ہی ان کے اپنے خواب۔ یہ معصوم طبیعت لوگ کسی سرکردہ بندے کے ڈیرے پر بیٹھنا اپنے لیے سب سے بڑا اعزاز سمجھتے ہیں۔ تاکہ اپنے مالک حقیقی کو بھول کر صرف اس کرپٹ بد تہذیب اور بدمعاش قسم کے بندے پر ہی اعتماد کیا جائے۔

اور ہر طرح کی غیبی اور ظاہری مدد بھی حاصل کی جائے۔ ویسے ہم مسلمان ہیں ہمارا یقین ہے ہمارے مالک حقیقی کے علاوہ اس دنیا میں کسی کی بادشاہی نہیں ہے اور نہ ہی ہوگی۔ مگر ایسے خیالات بھی رات میں کسی خواب کی طرح ہوتے ہیں جو صبح اٹھتے ہیں ہم بھول جاتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے والدین، بہن، بھائی بھی ہیں اور ان کو بھی ہماری ضرورت ہوگی۔ مگر مجال ہے ہم اس وڈیرے سے زیادہ کسی اور کو عزت دیں۔ یہ اہل نظر اور ڈیرہ داری کا نظام چلانے والے لوگ لوگوں میں ہمدردی کا باب ہی پھاڑ کر جلا دیتے ہیں۔

اور ایسے مقامات پر ممکن ہی نہیں کہ کوئی ادبی یا علمی بات کی جائے۔ اگر بات ہوگی تو وہ ایک ہی بات ہوگی کہ آنے والے الیکشن میں اپوزیشن میں کھڑے آدمی کو کیسے زیر کیا جائے۔ لوگوں کو گروپوں میں تقسیم کیسے کیا جائے۔ معاشرے میں افراتفری کا عالم بن سکے اور ہم اپنے مقصد کو آسانی سے نکال سکے۔ اور یہی وہ بات ہے جس کی آج تک ہم لوگوں کو سمجھ نہیں آ سکی۔ ہم جہالت کے ہر مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا ہماری زندگی میں کوئی وجود ہی نہیں ہوتا ہے۔

اور یہی ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے جس کو یہ مقامی سیاستدان سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اور لوگوں کو استعمال کرنا بھی جانتے ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے میڈیم کلاس یعنی درمیانی درجے کے لوگ ہیں۔ ان میڈیم کلاس لوگوں کی روزمرہ کے کام ہی ان کی بنیادی کمزوری ہوتے ہیں۔ اور یہ سیاست دان انہی کاموں کی بنیاد پر ان کو استعمال کرنا جانتے ہیں۔ ہم جاہلوں کی بس چند ڈیمانڈ ہوتی ہیں ان سے یہ سیاستدان اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔

یعنی جب کوئی لڑائی جھگڑا یا کوئی اور معاملہ ہو تو ان کا پولیس اور کچہری یعنی عدالتی نظام میں کوئی سننے والا ہونا چاہیے۔ تاکہ اپنے مخالف کو نیچا دکھایا جا سکے۔ اور جب گاؤں میں ہم میڈیم کلاس لوگوں کی کوئی خوشی یا غمی ہو تو ان سرکردہ کرپٹ سیاست دان ہمارے دروازے پر آئیں۔ تاکہ لوگوں کو یہ دکھایا جا سکے کہ ہمارا بہت بڑا روب اور دبدبہ ہے۔ لیکن اصل میں یہ ایک جھوٹ اور فراڈ ہی ہوتا ہے۔ جو یہ بڑے لوگ ہم سے کر رہے ہوتے ہیں۔

اور ہم بھی اپنی پاور کو دکھانے کے لئے یہ بھول چکے ہوتے ہیں کہ آخر کہانی کی حقیقت کیا ہے۔ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے ہم اپنے علاقہ میں تعمیری کام نہیں کر وا پاتے ہیں۔ اس لیے یہ سیاستدان اپنی سرکردہ ڈیرہ داری چلانے والے وڈیروں کے گلیوں میں سولنگ اور نالیوں بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہم ہیں۔ چند دن پہلے مجھے ایک گاؤں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں جب پہنچا تو ایک گلی پر میری نظر پڑی میں نے وہاں کیا دیکھا ذرا سنیں۔

تقریباً 70 میٹر کی گلی تھی جس کے دونوں اطراف سولنگ چکا تھا اور درمیان میں 20 میٹر کی جگہ خالی پڑی تھی۔ نہ ہی اس میں بھرتی ڈالی گئی تھی اور نہ ہی سولنگ لگایا گیا تھا۔ جب میں نے وہاں کی مقامی بندے سے پوچھا۔ کہ میاں یہ کیا بات ہوئی درمیان میں مچھلی فارم بنا رہے ہیں آپ لوگ یا کوئی اور مسئلہ ہے تو اس وقت اس بندے نے جواب دیا کہ جناب گلی کے دونوں اطراف تحریک انصاف کے کارکن بیٹھے ہیں جبکہ درمیان میں کسی اور پارٹی کارکن ہے۔

اس وقت یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا اور ڈیرہ والی کہانی کی سمجھ آ گئی۔ کہ یہ اہل نظر اور وڈیروں کا ہی کام ہو سکتا ہے۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ ہم خود پاگل ہیں، ہم خود نا اہل ہیں، ہمیں ہماری زندگی سے محبت ہی نہیں ہیں۔ ہم اتنے بے حس انسان ہیں کہ جس کی مثال دینا نا ممکن ہے۔ ہم اپنی انا کی خاطر اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ اور ہر سہولت کو حاصل کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ کیونکہ کہ ہم ان وڈیروں کے حکم کے مطابق چلنا پسند کرتے ہیں جو ہم غریبوں کو ایک دوسرے کی آواز بننا نہیں دینا چاہتے ہیں۔

سرکردہ اور کرپٹ لوگوں کے مختلف گروپس ہوتے ہیں جو معاشرے میں ہر روپ میں ہمیں ملتے ہیں۔ یہ ایسے ضمیر فروش ہوتے ہیں جو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ مگر ہم فضول قسم کے لوگ ان کی پالیسیوں کو سمجھ نہیں پاتے ہیں۔ اور جیسے ہی الیکشن آتے ہیں تو ہم گروپوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ووٹ کی بڑی پاور ہوتی ہے مگر اس پاور کو ہم اپنی انا کی خاطر تباہ کر دیتے ہیں اور اک حقیقی زندگی سے بہت دور ہو جاتے ہیں۔

ہمیں سوچنا ہو گا اور اپنی جگہ کو پہچاننا ہو گا۔ یہ نہ ہو کہ یہ بدمعاش اور بدترین درندے ہمارے منہ سے آخری نوالہ بھی چھین لی۔ آخر کیوں ہم بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھوں کو بند کر لیتے ہیں۔ خدا کے واسطے ذرا سوچیں کیا ہم ایک صحیح معاشرے کی تشکیل دے رہے ہیں۔ ووٹ کے صحیح استعمال نے ہی ہمارے بہترین معاشرے کا انتخاب کرنا ہے۔ ہم ایسے ہی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے رہے تو وہ دن دور نہیں جب جب نہ تو کوئی گلی صاف ہو گی اور نہ ہی کوئی پینے کے لئے فلٹر پلانٹ ملے گا۔

ہم ایسے ہی بڑھتی ہوئی بیماریوں کی نظر ہو جائیں گے اور اپنی موت خود مر جائیں گیں۔ اور یہ کرپٹ اور بدترین درندے اپنی زندگی کے مزے لیتے رہیں گے۔ خدا کے لئے میں آپ لوگوں سے عرض کرتا ہوں کہ اس گلی کی طرح نہ بن جائیں ای جو بارش آنے کے بعد مچھلی فارم کا روپ دھار لیتی ہے۔ یہ حقیقت ہے ہم ظاہری آزاد ہیں مگر ہمارے دماغ آج بھی غلامی کی زنجیر سے بندھے ہوئے ہیں۔ آئیں مل کر اس کرپٹ نظام کے خاتمے کے لیے ہم آواز ہو کر اس کے خاتمے کی مہم کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اور اپنے غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لئے جہاد فی سبیل اللہ کے لیے ہوتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments