ہیرو ازم کا تصور اور اس کے نتائج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کے سبھی ممالک میں جو ادب تخلیق کیا جاتا ہے اس میں ہیرو کا کردار ایک خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ کردار دراصل تخلیق کار کے تخیل کا تراشا ہوا وہ بت ہوتا ہے، جس کو وہ اپنے روبرو دیکھنا چاہتا ہے اور جس کے کردار کے اندر تخلیق کار کے لاشعور کا چھپا ہوا انسان منصہ شہود پر نمودار ہو کر، ہمیں اس کے ذہنی اور فکری سوچ کے بارے میں آگاہی دیتا ہے۔ تاہم اب یہ ہیرو صرف کہانیوں تک ہی محدود نہیں رہا ہے بلکہ اس کے علاوہ کچھ ایسے اور بھی شعبہ جات سامنے آئے ہیں، جہاں ہمیں ہیرو کی ایک نئی قسم سے بھی آگاہی ملی ہے۔

اس کی سب سے نمایاں مثال کرکٹ، فٹ بال اور ان جیسے دوسرے کھیل ہیں، جہاں سے ایک نئے قسم کے ہیرو کا تصور ابھر کر سامنے آیا اور یوں عوام الناس کی نظر میں اس نے مقبولیت اور فروغ حاصل کر کے بے شمار داد اور کامیابی سمیٹی۔ تاہم ان دو اقسام کے ہیروز کے اندر یہ بنیادی فرق بہرحال لازمی موجود رہا کہ، کہانی کے ہیرو کا کردار محض کہانی تک محدود رہتا تھا، مگر اس دوسری قسم کے ہیرو نے اپنے آپ کو کھیل کے میدان سے ہٹ کر دوسرے شعبہ ہائے زندگی میں بھی منوانے کی کوشش کی، تاکہ وہ اپنی مقبولیت کے سبب دوسری شخصیات اور اداروں سے سبقت لے جا سکے۔

ہمارے موجودہ وزیر اعظم بھی اسی سلسلے کی ایک نمایاں کڑی ہیں، جو کرکٹ کے میدان میں ایک عرصے تک راج کرنے کے علاوہ بے شمار دیسی اور بدیسی مخلوق کی آنکھ کا تارا بنے رہے، اور یوں اسی زعم میں سیاست میں بھی وارد ہو گئے کہ جو مقبولیت میں کسر رہ گئی تھی وہ پوری کر لی جائے۔

ہمارا موجودہ دور کے اندر کسی بھی شخصیت کو یکایک مقبولیت کے بام ثریا تک پہنچانا ہو یا کسی کے آفتاب نصف النہار کو چشم زدن میں غروب کرنا ہو تو اس کے لئے ہمارے ہاں ایسے بے شمار بھاڑے کے ٹٹو مل جاتے ہیں، جو اجرتی قاتل کی مانند کسی صاحب اثر و رسوخ کے اشاروں پر ناچتے ہیں اور یوں عوام کے اندر شبانہ روز کی محنت سے ایسا صور پھونکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جس کی بدولت ایک ہی شخص گم نامیوں کے اندھیرے سے ترقی پاتا ہوا ملک کے تمام مسائل کا نجات دہندہ بن جاتا ہے اور دوسری طرف اپنے دشمن کو قلم کے نشتر سے اس قدر بدنام کرتے ہیں کہ وہ گم نامیوں کے پردے میں مستور ہوجاتا ہے۔

چنانچہ کچھ ایسا ہی معاملہ یہاں بھی ہوا اور پس نشیمن بیٹھے کرداروں کے احکامات کی تکمیل میں موصوف کی شان میں بھی وہ آسمان کے قلابے ملائے گئے کہ عوام الناس کی آنکھیں چندھیا گئیں اور یوں انہیں موجودہ وزیر اعظم کی صورت میں اپنا نجات دہندہ نظر آنے لگا، جو کرسی اقتدار پر مسند نشیں ہوتے ہی اس ملک کے تمام مسائل کو جڑ سے ختم کر دے گا۔

اس تمام مرحلے میں سب سے تکلیف دہ عمل وہ تھا جو ہنوز بھی موجود ہے کہ جس کسی نے مخالفت میں آواز بلند کرنے کی کوشش کی اور عوام الناس کو جوش کی بجائے ہوش سے کام لینے کی استدعا کی، اس کی عوام الناس نے وہ خاطر مدارت کی جو کسی کے وہم و گماں میں بھی نہیں آ سکتی۔ اس سارے منظر نامے میں ایک دفعہ پھر وہ منظر بھی آنکھوں کے سامنے پھر آیا جب قیام پاکستان کے وقت وہ لوگ جو اس کے قیام کے مخالف تھے اور جن کا نکتہ نظر یہ تھا کہ پاکستان کا حصول اسلام اور عوام کی خاطر نہیں بلکہ اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کی خاطر کیا جا رہا ہے اور ان کو بدلے میں بھی ایسے ہی دشنام طرازیوں اور زد و کوب سے ڈرایا جاتا تھا۔ اور بعینہ یہی منظر ایک مرتبہ پھر سامنے آ گیا، جب اس ایک شخص کو اقتدار کی راہدری تک لانے کے لئے ہر مخالف آواز کو کچلا جاتا رہا۔

کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب گردوغبار کی لہر دبیز ہو، یا گہری دھند ہو تو پرے کا منظر محض وہی آنکھ ہی دیکھ ہی سکتی ہے جس کے اندر بصارت کی نہیں بلکہ بصیرت کی لو موجود ہو۔ وگرنہ عام آنکھ کو دھند کے اس پار کچھ نظر نہیں آتا اور وہ دوسروں کی بتلائی ہوئی خبروں کو حقیقت سمجھ کر ان پر اعتبار کر لیتی ہے۔ تاہم جب دھند چھٹتی ہے اور آگے کا منظر واضح ہوتا ہے، تو تب کہیں جا کر پتہ چلتا ہے کہ سامنے کیا ہے؟ اور چونکہ عوام کالانعام کی مانند ہی ہوتی ہے، لہذا یہ اکثریت کی رائے کو ہاتف غیبی کا اشارہ سمجھتی ہے اور انہی کے کہے کو حق اور سچ مانتی ہے۔ مگر جب گرد و غبار کا منظر غائب ہوتا ہے اور حقیقت نظر آتی ہے اس وقت ان کو پتہ چلتا ہے کہ وہ کیا غلطی کر بیٹھے اور اس سودے میں کس قدر انہوں نے خسارہ کمایا۔

ہمارے وزیر اعظم صاحب جن کو کرائے کے ٹٹو اس ملک کا نجات دہندہ بنا کر ہمارے سامنے پیش کرتے رہے، اور ان کو اس نسخہ اکثیر کی مانند قرار دیا، جو جسم کے ناسور کو جڑ سے ختم کرتا ہے۔ لہذا عوام کا ایک جم غفیر ان کے ساتھ ہو لیا اور اپنی عقل کو پس پشت ڈالتے ہوئے اور مخالف آواز کو روندتے ہوئے اس امید پر اس ہجوم میں شامل ہو گیا کہ شاید اب اس کی قسمت کا ستارہ بھی چمک اٹھے گا اور یوں ”اب راج کرے گی خلق خدا“ ۔ لیکن آج تین برس گزر گئے مگر اس ظلم کی سیاہ رات کی سیاہی ختم ہونے کو نہ آئی بلکہ ہر نیا آنے والا دن اپنے ساتھ ایک ایسی بری خبر لے کر آتا ہے، جس سے دل دہل جاتا ہے اور سہما ہوا انسان مزید سہم جاتا ہے۔

ہمارے وزیر اعظم صاحب نے اپنی کرشماتی شخصیت کو ایک ایسے نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا تھا، جو ان کے پیش رو حکمرانوں کی جگہ فرشتہ معلوم ہوتے تھے، اور اپی ہر دوسری تقریر میں اپنے ساتھ ان نسخہ جات کی فہرست بھی لاتے تھے، جس کے ذریعے انہوں نے ملک کے اندر موجود تمام بیماریوں کا جڑ سے خاتمہ کرنا تھا۔ مگر اس کا کیا علاج ہو کہ جب انہی کا اپنا حلقہ ارباب خود اس مرض کی وجہ بن جائے۔ وہی منحوس چہرے، وہی کرپشن زدہ لوگ، وہی بھوکے بھیڑیے، وہی ملک کے مال کو باپ دادا کا مال سمجھنے والے، وہی فرعون زدہ ذہنیت، وہی تعلیم دشمن عناصر، وہی جہالت کے پیروکار، وہی انگریز کے نوازے ہوئے گدی نشین، وہی استعمار کی کٹھ پتلیاں، وہی برطانیہ کے ازلی وفادار جاگیردار، وہی آئین کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والے، وہی مذہبی استحصال کے نمائندے اور یہ سب ان کے قریبی رفقاء میں شامل ہوں اور اس پہ پھر بھی کوئی ان کا اندھا عقیدت مند یہ تاویل گھڑ لائے کہ جناب وزیر اعظم ان تمام رذائل سے مبرا اور تقدس کے پرچارک ہیں تو اس کا بھلا کیا جواب ہو۔

آج ہم ٹھنڈے دل سے حالات کا بغور جائزہ لیں اور اپنا محاسبہ کریں تو اس سوال کا جواب ملنا یقیناً مشکل نہیں ہو گا کہ موجودہ حکومت کے آنے سے وہ کون سی تبدیلی آئی ہے جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا؟ کیا کرپشن ختم ہوئی یا بڑھ گئی؟ کیا مہنگائی پہ قابو پایا جا سکا؟ کیا تعلیم عام ہو چکی؟ کیا عام انسان کے دن پھر گئے؟ کیا اقوام عالم میں پاکستان کا وقار بلند ہوا؟ کیا آج ہم بحیثیت قوم اپنا موازنہ آزاد اقوام کے ساتھ کر سکتے ہیں؟

کیا آئین کے تقدس کو پامال کرنے والوں کو سزا ملی؟ کیا ظالم کا ہاتھ روکا جا سکا؟ کیا عام انسان کو بلا تفریق رنگ، مذہب، نسل اور زبان کے انصاف ملا؟ کیا مذہبی رواداری کو فروغ ملا یا اس میں شدت آئی؟ کیا ایک عام مزدور کی تنخواہ اور حکمران وقت کی تنخواہ میں مساوات قائم ہوئی؟ کیا وہ سارے وعدے وعید جو ہم سے کیے گئے تھے، وہ پورے ہوئے؟ کیا عام انسان کو روٹی، کپڑا، مکان جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی دی گئی؟ کیا جہالت کے وہ باب جو علم و عقل کے دشمن تھے وہ بند ہوئے؟ کیا حکمران وقت اور اس کی کابینہ نے اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کیا؟ کیا عام انسان کے واسطے روزگار کے مواقع وسیع ہوئے یا جو موجود تھے وہ بھی چھن گئے؟

ان سوالات کے جوابات جاننا ہمارے واسطے اس لئے ضروری ہے کہ کچھ وقت کے بعد یہ کرائے کے ٹٹو اور اجرتی قلم فروش ایک مرتبہ پھر ہمارے سامنے ایک نیا بت تراش کر لے آئیں گے اور ہمیں دوبارہ سے بدھو بنا کر ان کے کام کو آسان کر دیں گے، جو کبھی یہ نہیں چاہتے کہ اس ملک میں آئین کا راج ہو، تعلیم عام ہو، جہالت کا خاتمہ ہو، استعماریت کے نمائندوں کی جگہ عام لوگ اقتدار میں شریک ہوں۔ کیونکہ اگر ہم نے پھر بھی عقل کی بجائے ان کل وقتی اور جذباتی نعروں کا ساتھ دیا ہمارے آنے والی نسل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

یہ ملک ہمارا ہے اور اس کے آئین کی رو سے ہم آزاد اور خود مختار شہری ہیں، مگر ہمیں اور ہماری نسلوں کو آج تک سکھ نصیب نہیں ہوا۔ یہاں کمی کا بیٹا آج بھی کمی اور اشراف کا بیٹا اشراف ہی مانا جاتا ہے۔ لہذا ہمیں اس روکھے پھیکے اور سراب زدہ ہیرو کے تصور کو کچل کر ان افراد اور اداروں کا ساتھ دینا ہو گا، جو ہماری اور ہماری نسل کی بہتری چاہتے ہیں۔ جو اس ملک کو ترقی یافتہ اوت پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں اور جو افراد اور اداروں کی بجائے اپنے آپ کو آئین کے سامنے جواب دہ مانتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments