نیوزی لینڈ کے کھلاڑی بھاگ کیوں گئے


نیوزی لینڈ ٹیم نے ایسی بے وفائی کی کہ بنگلہ دیش کو بھی پیچھے چھوڑ گیا۔ اب واقعی میں یقین ہونے لگا ہے کہ ہمارے خلاف دنیا کے تمام کے تمام ممالک ملے ہوئے ہیں۔ تب ہی تو ہمارے مملکت خدا داد کے وجود میں آنے کے بعد سے اب تک ہمارے ہاں اسلام اور جمہوریت خطرے میں ہیں۔ اندرونی غداروں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے اور بیرون دنیا تمام کے تمام ممالک ہمارے خلاف سازشیں کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔

وہ تو بھلا ہو طالبان کا جن کے آنے کے بعد اب ہمیں بھی ایک تن تنہا ہمسایہ دوست ملے گا۔ باقی دنیا ساری مطلبی۔ عرب اپنے فائدے کے لیے انگریز اپنے، چین بھی گہرے پانیوں کی لالچ میں۔

نیوزی لینڈ کو بھی یہ ہضم نہیں ہوا کہ اب ہم نائن الیون کے حالات میں نہیں رہ رہے ہیں۔ اب ملک میں جمہوریت ہے۔ میڈیا آزاد ہے۔ مہنگائی پہ قابو کر لیا ہے اور بس کچھ ہی دنوں میں قرضے بھی واپس کر رہے ہیں۔ اور تو اور اب تو ”طالبان نے افغانستان میں غلامی کی زنجیریں بھی توڑ دی ہیں“ لیکن یہ نیوزی لینڈ والوں نے یا تو ہمارے وزیراعظم صاحب کا یہ بیان نہیں دیکھا ہو گا یا وہ پی ٹی وی و اے آر وائے نہیں دیکھتے۔ لیکن اگر نہیں دیکھتے تو آتے کیسے؟

ضرور نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں نے وزیراعظم صاحب کا یہ بیان یہاں آنے کے بعد دیکھا ہو گا اور وہ بھی پہلے دن کا پہلا میچ شروع ہونے سے آدھا گھنٹہ پہلے۔ حکومتی وزیروں اور ملکی دانشوروں کی نظر سے اگر نیوزی لینڈ پاکستان کو دیکھتے تو ہمارے حالات کو پرامن پاتے لیکن یہ کم بخت گورے ہماری قوم تو نہیں جو جیسا نصاب میں پڑھیں، فواد چوہدری و شیخ رشید صاحب بتائیں، اسی کو سچ مان لیں۔ اور ناں ہی انھیں ہمارے وزیر اعظم خان صاحب کی آنکھوں پہ یقین ہے۔ یہ باہر کی ساری دنیا ہی ایسی ہے کہ اپنی آنکھوں سے پاکستان کو دیکھتے ہیں۔

زرتاج گل صاحبہ کے نام پر فیس بک پیج پر نیوزی لینڈ ٹیم کی سکیوریٹی کے حوالے سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی جس میں فوجی دستے، پولیس اور مختلف ادارے، ہیلی کاپٹرز، ٹرکس، سائرن اور جگہ جگہ ناکے دکھائے گئے ہیں۔ اس ویڈیو پر کیپشن تھا کہ ”یہ پاکستان میں نیوزی لینڈ ٹیم کی پروٹوکول ہے“ کاش کہ کالی ٹوپیاں والے اسے پروٹوکول کی نظر سے دیکھتے اور دل سے کھیلتے مگر نہ جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے خان صاحب کی طالبان والی بیان کو سننے کے بعد اور اس قدر زیادہ سکیوریٹی پروٹوکول کو دیکھ کر یہ کیوں سوچا کہ وہ پنڈی میں کھیلنے کے لیے نہیں بلکہ طالبان کی مدد کے لیے پنج شیر فتح کرنے روانہ کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے میچ شروع ہونے سے آدھا گھنٹہ پہلے بھاگ گئے۔

اب ہماری وزیر خارجہ سمیت تمام سفارت خانوں بشمول پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ پہلے دنیا کو قائل کریں کہ وہ ہمیں اپنی نظر سے دیکھنے کی بجائے ہماری نظر سے دیکھیں کیونکہ اب ناں تو حالات نائن الیون والے ہیں اور ناں ہم۔ اب یہ 2021 ہے اور ہم بھی 2021 میں ہیں۔

Facebook Comments HS