نیوزی لینڈ: عقل اور جذبات کا تصادم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے برٹش ہائی کمیشن کی جانب سے ایک ”خفیہ الرٹ“ کو جواز بنا کر اچانک سیریز منسوخ کر دی، جس سے نہ صرف کھیل کو نقصان ہوا بلکہ ملکی وقار کو بھی دھچکا لگا۔ حالانکہ نیوزی لینڈ ٹیم کو ہیڈ آف اسٹیٹ لیول کی سیکورٹی فراہم کی گئی تھی۔ کپتان بابر اعظم اور کروڑوں دوسرے پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی دکھ ہوا۔ سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں جنگی ماحول کا سماں محسوس ہو رہا ہے، جتنے منہ اتنی باتیں۔

ایک بار میں نے کہیں پڑھا تھا کہ عقل اور جذبات ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ جذبات میں عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے اور عقل ہو تو جذبات کم سے کم اثر کرتے ہیں۔ پاکستان کے عوام اس وقت صدمہ میں ہیں اور جذبات سے کام لے رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی حکومت اور بورڈ نے کچھ نہیں کیا سوائے عقل سے کام لینے کے، کیوں؟ کل سے پہلے تک پاکستان میں ہیروشپ لیول کی پاپولر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو برا بھلا بولا جا رہا ہے، کیوں؟

بات صرف اتنی ہے کہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے کل بھی عقل سے کام لیا تھا اور آج بھی صرف اپنی عقل استعمال کی ہے۔ کل بھی اپنے قیمتی ہیومن ریسورس کی ہی قدر کی تھی اور آج بھی وہی کیا ہے۔ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد وہ مسلمانوں کے اجتماعات میں اسلام قبول کرنے نہیں جا رہی تھیں، بلکہ صدمہ سے چور اپنے قیمتی ہیومن ریسورس کو تسلی دینے اور ان کی ڈھارس بندھانے جا رہی تھیں، اور آج بھی انہوں نے ثابت کیا کہ کسی کو دکھ ہوتا ہے تو ہوتا رہے، مگر انہوں نے صرف وہی کرنا ہے جو نیوزی لینڈ اور نیوزی لینڈ کے عوام کے مفاد میں ہے۔ وہ وزیر اعظم پاکستانیوں کے جذبات کا تحفظ کرنے کے لیے نہیں ہیں بلکہ اپنے عوام کے تحفظ کے لیے ہیں۔

اب ہم اپنے ہیومن ریسورس کی کل اور آج کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہم نے کل بھی جذبات سے کام لیا اور آج بھی لے رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان میں موجود تھی اور راولپنڈی ریجن کے پولیس چیف یا اس لیول کے افسر کی طرف سے ایک ”خفیہ الرٹ“ جاری ہوتا ہے کہ نیوزی لینڈ ٹیم اور چہلم کی جلوس پر دہشت گردی کا واقعہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے ”ہیومن ریسورس“ کی طرف سے ایسے خفیہ الرٹ (جو خفیہ بالکل نہیں رہتے ) معمول کی کارروائی ہیں اور بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ”بھائی صاحب میں نے تو پہلے ہی بتا دیا تھا نا“ ۔ تو عرض یہ ہے کہ ایسا آپ کے ملک میں معمول کی کارروائی ہے نیوزی لینڈ میں بالکل نہیں۔ وہاں لوگ آفیشل لیٹرز کو بہت سیریس لیتے اور سمجھتے ہیں۔ اگر آپ اتنی سخت سیکورٹی دے رہے ہیں تو خفیہ الرٹ کیوں جاری کر رہے ہیں؟ بنیادی طور پر آپ کو یقین ہی نہیں ہے۔ اگر رسک نہیں ہے تو خفیہ لیٹر کیوں لکھا؟

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم یا کرکٹ بورڈ کو برا بھلا کہنے کی بجائے اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیریں، اپنے گریبان میں جھانکیں۔ اور سیکھیں کہ اپنے ہیومن ریسورس کی قدر کیسے کی جاتی ہے اور سوچیں کہ اک اک انسان کتنا قیمتی ہوتا ہے۔ ہر وقت ایمان اور کفر کے جنگی تناظر میں سوچنا ضروری نہیں ہے، بلکہ یہ غور کریں کہ کیسے اچھا ہیومن ریسورس پیدا کرنا ہے اور اس کی حفاظت کیسے کرنی ہے؟ تبھی ہم اس قابل ہو سکیں گے کہ وزیراعظموں کو ”سوری“ بول سکیں۔ جس قدر عقل اور جذبات کا تصادم ہے اس قدر اچھا ہیومن ریسورس اور معاشی ترقی لازم و ملزوم ہیں، اور اس سب کے لیے تعلیم اور تعلیمی نظام کو اولین ترجیح بنانا تقریباً ناگزیر ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments