پاکستان میں تین بہترین شعبے
انسان کی فطرت ہے کہ وہ نمایاں ہونا چاہتا ہے۔ عزت دولت شہرت کا متمنی ہوتا ہے۔ کچھ لوگ یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لئے گھٹیا ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں جب کہ کچھ درست رستے کا انتخاب کرتے ہوئے معاشرے میں شہرت و عزت یا نمایاں مقام حاصل کرتے ہیں۔ دوسرے ممالک میں اپنی محنت اور لگن سے آپ یہ مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ امریکہ کو تو مواقعوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔
خیر پاکستان میں یہ سب اوصاف حاصل کرنے کے لئے پہلے نمبر پر مذہب کا استعمال سب سے آسان اور مجرب ذریعہ ہے۔ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ بھی چوکھا آئے مطلب مقام بھی مل جاتا ہے، عزت و رتبہ بھی حاصل ہو جاتا ہے، حکمران تک قدم بوسی کرتے ہیں اور سب سے بڑی بات ایک مقدسیت اور تقدس بھی مل جاتا ہے۔ جب کہ ان سب کے ساتھ ساتھ آدمی تنقید سے بھی مبرا ہو جاتا ہے۔ کسی کی جرات نہیں کہ تنقید کر سکے۔ اگر کوئی بھولا بھٹکا ایسا کر گزرے تو پھر مریدین یا پیروکار لٹھ لے کر پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ اور اس کو جہنم واصل کر کے ہی دم لیتے ہیں۔
پاکستان میں اس جیسا صاف و شفاف دھندا اور کوئی نہیں۔ ریاست تک ان ”کاروباریوں“ سے ڈرتی ہے۔ ان کو کوئی حکومتی محکمہ کوئی ریاستی ادارہ نہیں پوچھ سکتا کہ یہ جو آپ چار چار لینڈ کروزروں میں گھومتے ہو یہ کہاں سے آئی ہیں یہ جو اسلام آباد میں آپ کا کروڑوں کا گھر ہے اور پاکستان میں ہر بڑے شہر میں عالیشان گھر ہیں یہ کہاں سے ملے ہیں۔ امریکہ، کینیڈا میں جو آپ کی جائیدادیں ہیں ان کو کیسے خریدا ہے۔ یہ جو آپ ہر دوسرے دن باہر کے سفر کرتے ہیں ان کے لئے پیسے کہاں سے آتے ہیں۔ کوئی پوچھ کر تو دکھائے!
دوسرا سب سے آسان رستہ محکمہ زراعت کی نوکری ہے۔ اس نوکری سے بھی آپ کو عزت دولت شہرت تینوں چیزیں آرام سے حاصل ہو جاتی ہیں۔
جس کو یہ سرٹیفکیٹ دیں وہ محب وطن اور جس کو یہ سرٹیفکیٹ نہ دیں وہ غدار ہوتا ہے۔ بعض اوقات اگر آپ ان کی بات نہ مانیں تو یہ دیا ہوا سرٹیفکیٹ واپس بھی لے لیتے ہیں۔
ان کا دھندا بھی پاکستان میں پچھلے ستر سالوں سے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ جب ان کا دل چاہتا ہے کسی کو سیکیورٹی رسک قرار دے دیتے ہیں اور جب ان کا دل چاہتا ہے غدار نامزد کر دیتے ہیں۔ اگر زیادہ غصہ آ جائے تو بندہ ان کے غصے کی تاب نہ لاتے ہوئے مر بھی جاتا ہے۔ یہ بھی مقدس ہیں اور ان پر بھی تنقید منع ہے۔ ان کے بھی پیروکار اور دیہاڑی دار تنقید کی صورت میں آپ کو جہنم کا مژدہ سناتے ہیں۔
تیسرا مذکورہ بالا صفات حاصل کرنے کا آسان رستہ محکمہ انصاف ہے۔ منصف بن جائیے۔ تینوں چیزیں حاصل ہو جائیں گی یعنی عزت، دولت، شہرت اور ساتھ ساتھ تقدیس بھی حاصل ہو جائے گی، تنقید سے بھی مبرا قرار پائیں گے۔ ان کے ایک فیصلے سے کوئی منتخب وزیراعظم پھانسی بھی چڑھ سکتا ہے اور بیٹے سے تنخواہ وصول نہ کرنے جیسے گھناؤنے جرم کی پاداش میں نا اہل ہو کر سیدھا جیل بھی جا سکتا ہے۔
پاکستان میں ان تین شعبوں کو عروج ہے۔ یہ تین شعبے سب سے زیادہ کمائی کرنے والے شعبے ہیں اور اگر ان تین شعبوں میں کوئی جاتا ہے تو عزت، دولت اور شہرت کے ساتھ ساتھ اس کو بے پناہ طاقت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں اگر رہنا ہے تو ان تین شعبوں کا انتخاب کیجئیے اور اگر ان تین شعبوں میں آپ جانے سے قاصر ہیں یا چوک گئے ہیں تو پھر مفت مشورہ ہے کہ باہر کے کسی ملک کی امیگریشن لے لیجئیے کیونکہ پھر اگر یہاں رہے تو بے غیرت بن کر رہنا پڑے گا۔ روز آپ کی عزت نفس کو کچلا جائے گا۔ قدم قدم پر آپ کو احساس دلایا جائے گا کہ آپ دوسرے درجے کے شہری ہیں، بنیادی ضروریات زندگی کو بھی ترس جائیں گے۔ نہ بجلی ملے گی نہ پینے کو صاف پانی دستیاب ہو گا، نہ اچھی تعلیم حاصل ہوگی اور نہ معیاری صحت کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔


