حد سے زیادہ کام کی عادت بھی موت کا سبب بن سکتی ہے؛ نئی تحقیق میں انکشاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملازمتوں سے متعلق اسی فیصد سے زائد ہلاکتیں امراض قلب اور سانس کی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں جن کی شدت ملازمتوں کی جگہوں میں بڑھ جاتی ہیں۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق طویل دورانیے تک مستقل کام کرنے کی عادت دفتری معاملات میں خطرے سے خالی نہیں۔

عالمی ادارہٴ صحت اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی ایک مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر برس دنیا بھر میں حد سے زیادہ کام کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور زخموں کی وجہ سے 20 لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

عالمی ادارہٴ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ ہر برس اس قدر زیادہ افراد اپنی ملازمتوں کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملازمت سے متعلق ہر ہلاکت روکی جا سکتی ہے اگر صحت اور حفاظت سے متعلق درست اقدامات کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملازمتوں سے متعلق 80 فی صد سے زائد اموات امراضِ قلب اور سانس کی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں جن کی شدت ملازمتوں کی جگہوں میں بڑھ جاتی ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ان اموات میں لمبے دورانیے تک کام کرنے کی عادت کی وجہ سے ہر برس سب زیادہ افراد ہلاک ہوتے ہیں جن کی تعداد ساتھ لاکھ 50 ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔

اس تحقیق میں ملازمتوں سے متعلق 11 مضر صحت وجوہات کو دیکھا گیا جن میں لمبے دورانیے تک ملازمت کرنا، ملازمت کی جگہ پر آلودگی سے متاثر ہونا، سرطان پیدا کرنے والے مادے سے متاثر ہونے کے علاوہ شور سے متاثر ہونا بھی شامل ہے۔

ان ہلاکتوں میں 80 فی صد تو بظاہر نہ نظر آنے والی بیماریاں ہیں جیسے امراض قلب یا سانس کی تکالیف۔ جب کہ باقی 20 فی صد ملازمت کی جگہ پر حادثہ پیش آنے سے ہونے والی اموات ہیں۔

عالمی ادارہٴ صحت میں ماحولیات، ماحولیاتی تبدیلی اور صحت کے محکمے میں ٹیکنیکل افسر کے طور پر کام کرنے والے فرینک پیگا نے کہا ہے کہ سب سے زیادہ خطرے میں 54 برس سے زائد عمر کے مرد ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ اموات افریقہ میں، پھر انڈوچائنا میں اور بحرلکاہل کے مغربی کنارے پر واقع علاقوں میں ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں بھی کم یا اوسط درجے کی آمدنی والے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3106 posts and counting.See all posts by voa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments