موسیقار وزیر افضل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی فلمی دنیا کے موسیقاروں میں کچھ موسیقار جوڑیاں بہت مشہور ہوئیں۔ ان میں کراچی کے نگار خانوں میں بننے والی فلموں سے نام پانے والے : غلام نبی عبد الطیف جن کی مشہور سلور جوبلی فلم ”آگ کا دریا“ ( 1966 ) ہے۔ نذر صابر کی فلم ”السلام علیکم“ ( 1969 ) ، جاوید سرور کی سلور جوبلی فلم ”گھر داماد“ ( 1969 ) اور لال محمد اقبال کی ڈائمنڈ جوبلی فلم ”نادان“ ( 1973 ) ۔ اسی طرح لاہور سے بھائیوں کی جوڑی سلیم حسین اور اقبال حسین کی معرکۃ الآرا سپر ہٹ فلم ”کرتار سنگھ“ ( 1959 ) ، بخشی وزیر کی تاریخ ساز فلم ”ات خدا دا ویر“ ( 1970 ) ا ور وزیر افضل کی فلم ”جماں جنج نال“ ( 1968 ) کا سپر ہٹ گیت ’کہندے نے نیناں، تیرے کول بہنا۔ ‘ ۔ آخر الذکر جوڑی وزیر افضل میں سے وزیر علی صاحب 07 ستمبر بروز منگل 2021 کو دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔

موسیقار جوڑی وزیر افضل:

وزیر علی اور محمد افضل نے باہم اشتراک سے فلمی موسیقی میں قدم رکھا۔ انہوں نے اردو اور پنجابی گیتوں کی لازوال دھنیں بنائیں۔ کہا جاتا ہے کہ رشتے میں وزیر صاحب، افضل صاحب کے چچا تھے۔ ان کے تذکروں کے مطابق یہ جوڑی زیادہ دیر نہیں چل سکی اور افضل صاحب الگ ہو کر ریڈیو پاکستان لاہور سے منسلک ہو گئے۔ البتہ وزیر علی صاحب نے فلمی سفر جاری رکھا اور اپنے نام کے ساتھ افضل کا نام برقرار رکھا۔ کم و بیش یہ ہی معاملہ بھارتی موسیقار ’شنکر سنگھ رام سنگھ رگھو و نشی‘ اور ’جے کشن دیا بھائی پنچھل‘ المعروف شنکر جے کشن کی جوڑی کے ساتھ بھی پیش آیا۔ ستمبر 1971 میں جے کشن کے گزرنے کے بعد شنکر نے اپنی وفات تک ( 1987 ) ایک مختصر وقفے کے علاوہ، ہمیشہ جے کشن کا نام اپنے نام کے ساتھ رکھا۔ موسیقار وزیر افضل نے 37 فلموں میں 200 سے زیادہ گیت بنائے۔

” چاچا خواہ مخواہ“ :

بحیثیت موسیقار ان کی پہلی ہی فلم ”چاچا خو اہ مخواہ“ ( 1963 ) سلور جوبلی رہی۔ یہ پنجابی زبان میں بنی تھی جس کے ہدایتکار اسلم ایرانی صاحب تھے۔ گیت نگار اور گلوکار سب ہی نامور اور منجھے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ وزیر افضل صاحب کا کیا گیا کام سن کر بالکل بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ کسی نئے موسیقار کا کام ہے۔

” زمین“ :

03 دسمبر 1965 کو نمائش کے لئے پیش ہونے والی وزیر افضل صاحبان کی پہلی اردو فلم ”زمین“ خوش بختی کی علامت ثابت ہوئی۔ کراچی میں اس کا مرکزی سنیما۔ ’جوبلی‘ تھا۔ اس فلم کے نغمہ نگار مشیرؔ کاظمی صاحب تھے۔ ان کی لکھی اور صدارتی تمغہ ء حسن کارکردگی یافتہ سائیں اختر حسین (م) کی نمایاں آواز میں ایک منقبت ریڈیو پاکستان پر بہت مقبول تھی اور آج بھی ہے : ’تیری شان، شان قلندری تو بڑا غریب نواز ہے، اللہ ہو۔ ‘ ۔ اس کے ساتھ مہدی حسن کی آواز میں گیت: ’شکوہ نہ کر گلہ نہ کر یہ دنیا ہے پیارے یہاں غم کے مارے تڑپتے رہے‘ سپر ہٹ ثابت ہوا۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مذکورہ فلم کے گیتوں نے وزیر افضل کو قبول عام بخشا۔

اس کے بعد انہوں نے بہت سی فلموں میں مقبول گیت بنائے جن کی تفصیل پھر کبھی۔


اعزاز:

موسیقار وزیر افضل کو فلم اور ٹیلی وژن کی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے 14 اگست 2010 کو صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

میں نے سوچا کہ ان لوگوں کو تلاش کر وں جنہوں نے موسیقار وزیر افضل کے ساتھ وقت گزارا یا کام کیا۔ تو لیجیے ان کے تاثرات حاضر ہیں :

صدارتی تمغہ ء حسن کارکردگی یافتہ سلامت حسین بانسری استاد:

ویسے تو میری شناسائی سلامت بھائی سے 1965 سے ہے جب میرا ریڈیو پاکستان کراچی میں آنا جانا شروع ہوا لیکن صحیح معنوں میں دعا سلام 1980 سے ہوئی جب میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کے شعبہ پروگرام سے منسلک ہوا۔ میں یہ بات جانتا تھا کہ سلامت بھائی نے موسیقار وزیر افضل کی اولین فلم ”زمین“ ( 1965 ) کے گیت ’رت ساون کی من بھاون کی، مورے نیناں کیوں شرمائے‘ کی صدا بندی میں بانسری بجائی تھی۔ کل میں نے سلامت بھائی سے خاص طور پر وزیر علی صاحب کے انتقال کے مواقع پر گفتگو کی تو انہوں نے بتایا کہ وزیر افضل صاحبان بہت اچھے موسیقار تھے۔

اپنے اس گانے کے بارے میں انہوں نے مزید کہا: ”مشہور کی بورڈ میوزیشن اظہر حسین نے مجھے بتایا کہ جب وہ چھوٹا بچہ تھا تو اپنے والد کے ساتھ میرے اسی گانے کی ریکارڈنگ دیکھنے آیا ہوا تھا۔ مجھے کافی دیر کھڑے ہو کر بانسری بجاتا دیکھ کر خوش ہوا“ ۔ میں نے سلامت بھائی سے اظہر کے والد کے بارے میں پوچھا : ”کیا وہ بھی میوزیشن تھے“ ؟ تو جواب دیا: ”جی ہاں! اس کے و الد منظور حسین و ائبر و فون کے بہت اچھے میوزیشن تھے۔ یہ ایور نیو فلم اسٹوڈیو کے قریب رہتے تھے“ ۔ موسیقار وزیر افضل صاحبان سے متعلق باتوں باتوں میں یہ بھی بتایا: ”کہ ان میں سے ایک مینڈولین اور سرود اور دوسرے وائلن بجاتے تھے۔ میں نے ان کے ساتھ فلموں کے علاوہ ٹیلی وژن پر بھی کافی کام کیا“ ۔

موسیقار اختر اللہ دتہ:

میں نے پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز میں موسیقار اختر اللہ دتہ صاحب کے ساتھ موسیقی کے بہت سے پروگرام کیے۔ ان سے ٹیلی فون پر موسیقار وزیر افضل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ”وزیر افضل صاحب ہیرے آدمی تھے۔ موسیقی کے رموز پر بہت گرفت تھی۔ میری ان سے ملاقات ضرور تھی لیکن کبھی ساتھ کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ البتہ میرے بڑے بھائی جاوید صاحب نے ان کے ساتھ بہت کام کیا ہے“ ۔

موسیقار اور ستار نواز جاوید اللہ دتہ:

جاوید بھائی بہت حلیم اور شفیق انسان ہیں۔ میں اکثر و پیشتر موسیقی کے حوالے سے کوئی نہ کوئی بات ان سے پوچھتا رہتا ہوں۔ موسیقار وزیر افضل سے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے کہا: ”فلمی موسیقار ہونے کے ساتھ وزیر اور افضل دونوں ہی بہترین میوزیشن بھی تھے۔ وزیر صاحب نے سرود بھی بجایا پھر بعد میں مینڈولین نواز ہوئے۔ افضل صاحب نے گٹار بھی بجائی۔ میں نے لاہو میں بہت سے فلمی گانوں میں ستار بجائی۔ میرے ستار کے پیس کے ساتھ اکثر گیتوں کی ریکارڈنگ میں وزیر صاحب نے وہی پیس میرے ساتھ سرود پر بجایا۔ اس کی مثال بزمی صاحب کی کمپوزیشن میں فلم“ محبت ” ( 1972 ) میں فرازؔ کی یہ غزل : ’رنجش ہی سہی دل ہی

دکھانے کے لئے آ۔ ’اور بہت سے گانے ہیں۔ وزیر افضل صاحبان بہت ہی پیار کرنے والے تھے ”۔
ریڈیو پاکستان لاہور سے 1965 کے تاریخی ملی نغمات کے پروڈیوسر محمد اعظم خان:

ریڈیو پاکستان کے یہ عظیم سپوت، محمد اعظم خان نہایت ہی شاندار شخصیت کے حامل ہیں۔ میں جب بھی لاہور جاتا ہوں کوشش ہوتی ہے کہ ان سے ضرور ملاقات ہو۔ گاہے بگاہے فون پر رابطہ رہتا ہے۔ موسیقار وزیر علی کے انتقال پر ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا: ”موسیقار سلیم اقبال کی طرح اس جوڑی کے ساتھ بھی میں نے کام کیا۔ ایوب خ اور ؔ کا نغمہ ’سات سروں کا بہتا دریا تیرے نام، ہر سر میں ہے رنگ دھنک کا تیرے نام‘ میری ہی پیشکش تھی۔ میں نے اسے محمد افضل اور وزیر علی سے کمپوز کروا کر پرویز مہدی کی آواز میں ریکارڈ کیا۔ افضل بہترین کمپوزر تھا جو 1976 میں انتقال کر گیا“ ۔ انٹر نیٹ پر افضل صاحب کے انتقال کا سال 2007 بھی ملتا ہے۔

پاکستان ٹیلی وژن کے شعبۂ پروگرام اور ایڈورٹائزنگ کی نامور شخصیت نعیم وزیر:

بات موسیقار جوڑی وزیر افضل کی ہو رہی ہے تو یہ بھی اتفاق ہے کہ ایک اور معروف جوڑی بخشی وزیر میں وزیر حسین کے صاحب زادے نعیم وزیر سے میری اس سلسلے میں بات ہوئی۔ انہوں نے بتایا: ”میرا وزیر صاحب کے ساتھ 1989 سے 1994 تک پاکستان ٹیلی وژن لاہور مرکز میں بہت اچھا وقت گزرا۔ میں پروڈیوسر فرخ بشیر صاحب کی معاونت کرتا تھا اور وزیر صاحب کے ساتھ تقریباً روزانہ ملاقات ہوتی تھی۔ انہوں نے ہمارے پروگرام ’فن و فنکار‘ کے لئے بہت کام کیا۔

مجھے اس پروگرام پر بہترین معاون کا ایوارڈ بھی ملا تھا۔ پروگرام ’ترنم‘ اور عید کے خصوصی ’عید شو‘ کو چھوڑ کر ہمارے پچاس فی صد پروگراموں میں بحیثیت میوزک ڈائریکٹر یہ ہی ہوتے۔ فرخ بشیر صاحب کے کئی ایک مقبول گیتوں میں ان ہی کی کمپوزیشن ہے۔ جیسے ناہید اختر کی آواز میں حضرت امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ کا کلام ’یہ رنگینی ء نو بہار، اللہ اللہ اللہ۔ ‘ ، مسرت نذیر کی آواز میں ’لونگ گواچا۔ ‘ ۔ انہوں نے اور پروڈیوسروں کے ساتھ بھی کام کیا اور ڈراموں کا پس منظر میوزک بھی بنایا۔

وزیر صاحب پی ٹی وی پر ہم سب کا بہترین انتخاب ہوتے تھے۔ ٹیلی وژن پر ان کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ وہ ٹی وی موسیقی کی تکنیک سمجھ گئے تھے۔ فلم کے موسیقار فلمی ضرورت کے تحت بڑے انٹر ویل میوزک بناتے ہیں اور ٹی وی کے لئے چھوٹے پیس نہیں بنا سکتے۔ ٹی وی گیتوں میں لمبے انٹرول میں دکھانے کو کیمرہ کے پاس کچھ ہوتا ہی نہیں تھا۔ جب کہ وزیر صاحب یہ چھوٹے پیس بہت عمدگی سے بنا کر انترے کے بولوں پر آ جاتے تھے۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ یہ بہت تیز رفتاری سے کام کرتے اور کرواتے بھی تھے۔ صبح سے شام تک 12 دھنیں بنا کر رات کو صدا بند بھی کروا لیتے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ٹی وی پروڈیوسر انہیں پسند کرتے تھے۔ میں نے انہیں ہمیشہ دیے گئے وقت پر آتے دیکھا۔ بڑی محنت، لگن اور ایمانداری سے کام کرتے

تھے۔ ان کے آرکیسٹرا کے تمام و ائلنسٹ ان کی برادری کے تھے۔ وزیر صاحب کا بیٹا اکبر عباس، ارینجر کے طور پر ان کے ساتھ کام کرتا تھا۔ پھر وزیر صاحب کے داماد خاور صاحب اچھے مینڈولین نواز تھے۔ وزیر صاحب بھی بہترین مینڈولین بجاتے تھے۔ مجھے انہوں نے خود بتایا کہ خواجہ خورشید انور صاحب کی کئی ایک فلموں کا بیک گراؤنڈ میوزک انہوں نے کیا۔ کام سے ہٹ کر بھی ان کی بے ساختہ مسکراہٹ بہت مشہور تھی۔ بہت اچھی شخصیت کے مالک اور اچھی بات کرتے تھے۔

پھر مسرورؔ انور صاحب، قتیلؔ شفائی صاحب اور دیگر شاعروں کے ساتھ ان کی بڑی بنتی تھی۔ موسیقار ماسٹر منظور صاحب اور خلیل احمد صاحب پی ٹی وی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ وزیر صاحب کا بھی نام آتا ہے۔ وہ ماشاء اللہ مکمل توازن کے ساتھ ریڈیو اور ٹیلی وژن دونوں جگہ ایک ساتھ کام کرتے تھے۔ وزیر صاحب نے افضل صاحب کے الگ ہونے کے بعد بھی اپنے نام کے ساتھ افضل کو ساتھ رکھا۔ میں کبھی افضل صاحب سے نہیں ملا لیکن سنا ہے کہ وہ بہت گنی آدمی تھے ”۔

اسٹیج، ریڈیو اور ٹیلی وژن موسیقار زیڈ ایچ فہیم:

موسیقار، گلوکار اور بہترین وائلن نواز فہیم صاحب نہایت شاندار شخصیت کے حامل ہیں۔ میرا ان سے رابطہ رہتا ہے۔ وہ خود بھی موسیقار خواجہ خورشید انور صاحب کے بہت قریب رہے ہیں۔ موسیقار وزیر افضل کے سلسلے میں ان سے بھی بات چیت ہوئی۔ فہیم صاحب نے کہا: ”موسیقار وزیر افضل نے موسیقار خواجہ خورشید انور کے ساتھ کافی کام کیا۔ انہوں نے ’ہیر رانجھا‘ ( 1970 ) سمیت خواجہ صاحب کی کافی فلموں میں آرکسٹریشن اور ارینجمنٹ کے شعبے میں معاونت کی۔ یہ بہت باصلاحیت میوزیشن تھے۔ پی ٹی وی میں خواجہ صاحب کے انتقال کے بعد پروگرام ’ترنم‘ میں ان کے گانوں کو وزیر افضل صاحب نے ہی ’ری ارینج‘ کیا کیوں کہ وہ ان کی تیاری اور صدا بندی کے دوران خواجہ صاحب کے قریب رہے تھے۔ اس سے بھی ان کی خواجہ صاحب سے قربت اور محبت کا اندازہ ہوتا ہے“ ۔

ابھی کراچی اور لاہور فلمی صنعت کے کچھ مزید نامور میوزیشن اور نگار خانوں کے تکنیک کاروں سے گفتگو کرنا باقی تھا لیکن تنگی ء وقت کی وجہ سے ان سے بات چیت اب ممکن نہیں رہی۔ بہرحال اللہ تعالیٰ سے و دعا ء ہے کہ موسیقار جوڑی محمد افضل اور وزیر علی یعنی وزیر افضل صاحبان کی مغفرت فرمائے۔ آمین!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments