ڈاکٹر شیرین خان: کرونا کے خلاف لڑنے والا قومی ہیرو

تہران کے مشہور بازار شاہ عبد العظیم جس میں عام دنوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔ لیکن دو ہزار بیس کے فروری کی بائیس تاریخ کو اس بازار میں انسانوں کی آوازوں کی بجائے بارش کی بوندوں کی سریلی آوازیں سماعتوں سے ٹکراتی تھیں۔ لیکن اب ان سریلی آوازوں میں راحت کا احساس نہیں بلکہ ایک خوف کا احساس تھا۔ جس نے ایک کروڑ کی آبادی والے شہر کے باسیوں کو گھروں میں مقید کر دیا۔
زیت اللہ جو کہ کوئٹہ کا رہائشی ہے اور تہران میں وہ تجارت کے غرض سے مقیم تھے۔ وہ بھی تہران شہر کے اس خوفزدہ چہرے کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا۔ وہ معمول کے مطابق شاہ عبد العظیم آیا تھا۔ لیکن اس نے گزشتہ دس سالوں میں تہران کو اتنا خوف میں ڈوبا ہوا نہیں دیکھا شہر ویران ہو چکا تھا اور ہسپتال آباد ہوچکے تھے۔ ہسپتالوں کے بستروں پر مریضوں کے لیے جگہ کم پڑی رہی تھی۔ مریض جان کی بازی ہار رہے تھے۔ مردہ لاوارث لاش بن چکے تھے۔ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین ان کے تدفین سے انکاری تھے۔
کورونا وائرس جتنی تیزی سے ایران میں پھیل رہا تھا اتنے ہی لوگ خوفزدہ ہو رہے تھے۔ اور خوف کے سائے پاکستان تک پھیل چکے تھے۔ اس لیے پاکستان نے ایران سے متصل تمام سرحدی علاقے آمدورفت کے لئے بند کر دئے تھے۔
لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں ایران میں مقیم پاکستانی تاجر اور زائرین ایران کے سرحدی شہر میرجاوا میں ملک میں داخل ہونے کے لئے جمع ہو گئے تھے۔
لیکن تہران سے ہزاروں کلومیٹر دور ایک مرد بحران کوئٹہ میں اس جان لیوا وائرس کے خلاف لڑنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اور یہ مرد مجاہد کوئی اور نہیں ماہر امراض سینہ ڈاکٹر شیرین خان تھے۔
انہوں یہ تہیہ کر لیا تھا کہ کوئی اس جان لیوا وائرس کا مقابلہ کرے یا نہ کرے لیکن وہ کرونا وائرس کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے لوگوں کو اس وائرس کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔
وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ان کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ لیکن ڈاکٹر شیرین خان نے تمام مشکلات کے باوجود کرونا وائرس کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے میرجاوا سرحد پر بڑی تعداد میں زائرین اور تاجر ملک میں داخل ہونے کے لئے جمع ہو گئے تھے۔ کئی روز کے احتجاج کے بعد ان لوگوں کو تفتان میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی حالانکہ حکومت بلوچستان ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لی تیار نہیں تھا اور نہ حکومت بلوچستان کے ساتھ اتنے وسائل تھے کہ وہ صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔ اس صورتحال میں بلوچستان میں کرونا وائرس کا داخل ہونا یقینی تھا۔
کرونا وائرس سے حکومت بلوچستان کے انتظامات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملک میں داخل ہونے والے زائرین کے کورونا وائرس ٹیسٹ کرنے کے بجائے ان کا تھرمل گن سے صرف ٹمپریچر چیک کیا جاتا تھا۔ اور اسی بنیاد پر کرونا وائرس کا تعین کیا جاتا تھا۔
اس تمام صورتحال میں لوگوں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ بلوچستان میں کرونا وائرس کے کیسز میں تیزی آنا شروع ہو گئی۔ حکومت نے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا۔
تہران کی طرح کوئٹہ پر بھی خوف کی فضا چھا گئی۔ شہر میں موجود ہسپتال وائرس پھیلنے کے خطرے کی باعث بند کر دیے گئے جبکہ طبی عملے میں سے بھی اکثر نے گھر بیٹھنے کو ترجیح دی۔
جب سب پیچھے ہٹ گئے تو ڈاکٹر شیرین نے اس وبا سے نمٹنے کے لئے اپنی میڈیکل ٹیم کے ساتھ کرونا وائرس کے خلاف جدوجہد میں برسر پیکار ہو گئے۔ یاد رہے اس مرد مجاہد نے اپنوں کو 2008 کو بلوچستان کے ضلع زیارت میں آنے والے زلزلے میں بے یارو مددگار مرتے دیکھا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اب کی بار اپنے صوبے کے غریب عوام کو وبا کے رحم وکرم پر چھوڑ دے۔ اور وہ تڑپ تؑڑپ کر مر جائیں۔
مرد مجاہد کون ہے۔ ؟
صنوبر کے درختوں کی سرزمین زیارت کے علاقے کو اس میں عبداللہ خان کے گھر جنم لینے والے گمنام ہیرو ڈاکٹر شیرین نے ابتدائی تعلیم زیارت کے مقامی سکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد وہ مزید تعلیم کے لئے کوئٹہ آئے۔
بولان میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد امراض سینہ میں ایف سی پی ایس کرنے کے لیے کراچی کا رخ کیا اور آغا خان میڈیکل یونیورسٹی سے ایف سی پی ایس مکمل کیا۔ ایف سی پی ایس مکمل کرنے کے بعد 2008 میں بلوچستان کے محکمہ صحت میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہوئے۔ اس وقت کوئٹہ کے فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال میں اپنے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر شیرین خان کرونا وائرس سے کس صورتحال میں نبردآزما رہے۔
کرونا وائرس جب بلوچستان میں داخل ہوا تو پورے بلوچستان میں صرف دو ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈ قائم کیے گئے۔ اور یہ دو ہسپتال کوئٹہ شہر کے دو مختلف علاقوں میں واقع ہیں۔ جن میں ایک مغربی بائی پاس پر واقع فاطمہ جناح چیسٹ ہسپتال اور سریاب روڈ کے دوسرے سرے پر واقع شیخ زید ہسپتال شامل ہے۔ شیخ زید ہسپتال کوئٹہ شہر سے 18 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ڈاکٹر شیرین ان دونوں ہسپتالوں کا نگران مقرر تھا۔ اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ کرونا وائرس کے مریض کو دیکھیں۔ ویسے بھی دیگر طبی عملہ خوف کے باعث غائب ہو گیا تھا۔
اسی طرح پورے بلوچستان میں صرف سات وینٹی لیٹرز تھے اور حفاظتی پی پی آئی کٹس ناپید تھیں۔ مریضوں کی تعداد روز بروز ان دو ہسپتالوں میں بڑھنے لگے۔ ڈاکٹر شیرین اور اس کے ٹیم کی ذمہ داریاں بھی بڑھنے لگیں۔
ان کی ٹیم چوبیس گھنٹے کام کرنے لگی۔ آئسولیشن وارڈز میں لوگ اپنے پیاروں کو چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔
دوسری طرف افواہوں کا بازار گرم ہونے لگا۔ لوگوں میں یہ سوچ پختہ ہو گیا تھا کہ ڈاکٹر مریضوں کو زہر کا ٹیکہ لگا کر قتل کر رہے ہیں اور اس کے بدلے میں انھیں پیسے مل رہے ہیں۔ ان افواہوں سے نہ صرف ڈاکٹروں کے نفسیات پر اثر ہو رہا تھا بلکہ جس بھی مریض کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آ جاتا تو ان کو یقین ہوجاتا کہ وہ اب مرنے والا ہے۔ کیونکہ ایک طرف افواہیں ان کی نفسیات کو متاثر کر رہی تھیں۔ اور دوسری طرف کرونا وائرس کا علاج کا نہ ہونا تھا۔
لیکن ڈاکٹر شیرین اور اس کی ٹیم نے نہ صرف افواہوں کا سامنا کیا بلکہ آئسولیشن وارڈ میں موجود مریضوں کی سائیکو تھراپی کرتے رہے اور ان میں زندگی کی امید جگاتے ر ہے۔ جس سے بہت سے مریض صحت یاب ہونے لگے۔
اس کے ساتھ ڈاکٹر شیرین دن میں کئی مرتبہ ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال تک جاتے رہتے۔ اور یہ عمل کئی مہینوں تک جاری رہا۔ جس کی بعد صوبے کے دیگر ڈاکٹروں کا بھی حوصلہ بڑھا اور انہوں نے او پی ڈیز میں آنا شروع کیا۔
کرونا وائرس کے دوران ڈاکٹر شیرین کی نجی زندگی
کرونا وائرس کے ابتدائی دنوں میں تحقیق یہ تھی کہ کپڑوں سے کرونا وائرس چپکے ہوتے ہیں۔ اس خوف نے ڈاکٹر شرین کو بھی بہت خوفزدہ کیا ہوا تھا۔ کیونکہ بلوچستان میں اکثر مشترکہ خاندانی نظام ہے اور خاندان میں بزرگ، بچے اور دیگر لوگ شامل ہیں ان کو کرونا وائرس منتقل ہونے کا خطرہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ڈاکٹر شیرین اکثر ہسپتال میں ہوتے اور اگر گھر جاتے تو وہ بچوں اور اپنے بزرگوں سے نہیں ملتے اور یہ عمل کئی مہینے تک جاری رہا۔
ڈاکٹر شیرین کو صلہ کیا ملا:
حکومت پاکستان نے ڈاکٹر شیرین کی خدمات کے صلے میں انھیں رواں سال یوم پاکستان کے موقع پر ستارہ امتیاز سے نوازا۔ جہان ایک طرف ڈاکٹر شیرین کرونا سے لڑ رہا تھا وہاں وہ عوام کے رویے سے بھی نالاں رہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے دشمن کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے جو نظر نہیں آ رہا تھا۔ لیکن یہ دشمن روز کئی لوگ کو متاثر کر رہا ہے۔
وہ منفی رویوں کے باوجود ایک لمحے کے لئے بھی مایوس نہیں ہوئے۔ انھیں یہ معلوم ہے کہ کرونا وائرس کتنا خطرناک وائرس ہے۔ ان کے حوصلے ابھی تک جوان ہیں۔ وہ اس عزم کے ساتھ دوسروں کے لیے مثال بنے ہیں کہ جب تک یہ وائرس ختم نہیں ہوتا وہ لڑتے رہیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کسی بھی قوم کو مشکلات سے نجات دلا سکتے ہیں۔ بل کہ کسی بھی مشکل کی گھڑی میں ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
نوٹ:
یہ بلاگ یورپی یونین کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ اس بلاگ میں پیش کیے گئے خیالات (مواد) مکمل طور پر ورچوئل میڈیا کارواں کے امیدوار (بلاگر) کی ذمہ داری ہے اور یہ ضروری نہیں کہ اکاؤنٹبیلیٹی لیب، دی ایشیاء فاؤنڈیشن، اور یورپی یونین اس میں پیش کیے گئے خیالات سے متفق ہو۔

