قوموں کو بیدار ہونا پڑتا ہے
یونیٹیرین بک کلب میں پڑھی جانے والی حالیہ کتاب ” دا نیشن مسٹ اویک ” (The Nation Must Awake)ہے۔ یہ کتاب میری ای جونز پیرش (Mary E. Jones parrish) نامی ایک کالی خاتون نے 1921 میں امریکی تاریخ میں نسل پرستی کے بدترین واقعے کے عبرتناک عینی شاہد ین کے بیانات سے مرتب کی تھی۔ ہم اس کا نیا ایڈیشن پڑھ رہے ہیں۔ یہ کتاب پچھلے ہفتے اتفاق سے میری ڈیسک پر رکھی تھی۔ جب میری نرس میرے آفس میں آئی تو اس نے اس کتاب کو اٹھا کر الٹ پلٹ کر دیکھا اور مجھ سے کہا کہ میں اوکلاہوما میں پیدا ہوئی، یہاں ہی تمام تعلیم حاصل کی۔ ہم نے کبھی بھی اپنے اسکول میں اوکلاہوما کی تاریخ کے اس اہم واقعے کے بارے میں نہیں سیکھا تھا اور مجھے یہ بات بہت بعد میں جاکر پتا چلی۔
صرف شیری ہی نہیں بلکہ بہت سارے لوگ اس تاریخ سے ناواقف ہیں۔ دنیا کے ہر ملک میں کچھ ایسا ہی ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ٹیکسٹ بکس افراد لکھتے ہیں اور ان کے لکھے میں سے ان کے زاتی تعصبات اور اعتقادات کو نکالنا ایک مشکل کام ہے۔ کچھ لوگ ہولوکاسٹ کی طرح 1921 میں ٹلسا، اوکلاہوما میں ہونے والے نسل کشی کے واقعے کو بھی جھٹلاتے ہیں۔ کرٹکل ریس تھیوری (Critical Race Theory) امریکہ میں نسل پرستی کی تاریخ کی تعلیم ہے جس کو کئی ریاستوں میں غیر قانونی بنا دیا گیا ہے۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ ان میں اوکلاہوما کی سرخ، ری پبلکن ٹرمپ سپورٹر ریاست پیش پیش ہے۔ اس رویے کی کچھ وجوہات مجھے یہ سمجھ میں آتی ہیں کہ سفید فام نسل پرست گروہوں میں کالے افراد کو غلام بنانا، ان کا قتل عام کرنا یا ان کی ملکیت لوٹنا غلط نہیں سمجھا جاتا ہے۔ خواتین کی زندگی کا، یا اقلیتوں کی زندگی کا یہی مقصد سمجھا جاتا ہے کہ وہ سفید فام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوں۔ کالوں کو برابر کا انسان نہیں سمجھا جاتا ہے اور دوسری طرف نسل پرست سفید فام آدمی یہ بھی سوچتا ہے کہ اگر اقلیتیں آپس میں مل کر مضبوط ہوگئیں تو اس کی بالادستی ختم ہوگی اور شائد وہ بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کریں جو ان کے ساتھ ہوا۔ حالانکہ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ انسانوں کے گروہ بنا کر دوسرے انسانوں کے استحصال سے توجہ ہٹا کر سماجی انصاف پر کام کیا جائے تو اس میں تمام انسانوں کا تحفظ ممکن ہے۔
31 مئی 1921 کو، اس کتاب کی لکھاری میری پارش اپنی بیٹی کے ساتھ ٹلسا کے امیر گرین ووڈ ضلع میں، جسے قومی طور پر بلیک وال اسٹریٹ کہا جاتا ہے، کتاب پڑھی رہی تھیں۔ ماں ! باہر بندوقوں والے آدمی ہیں، ان کی بیٹی نے کھڑکی سے اعلان کیا! اس رات ہزاروں سفید فام آدمیوں کے پر تشدد ہجوم نے لوٹ مار، توڑ پھوڑ، قتل و غارت اور آگ بھڑکا کر ہزاروں بے گناہ عام کالے شہریوں کو ایک رات میں بھاگنے پر مجبور کیا۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد کے دنوں میں میری پیرش نے کالے افراد کے جان و مال کی تباہی کی تاریخ مرتب کرنے کی ذمہ داری اٹھائی۔ یہ چھوٹے پیمانے پر چھپنے والی کتاب بعد میں آگے چل کر ایک اہم دستاویز ثابت ہوئی کیونکہ اس میں ان کالے افراد کی اپنی کہانیاں شامل ہیں جو اس نسل پرستی کے متشدد واقعے سے متاثر ہوئے۔ نیشن مسٹ اویک یا قوم کو بیدار ہونا چاہیے کے نام سے کتاب اب پہلی بار وسیع پیمانے پر دستیاب ہے۔ میری پیرش کی لکھی ہوئی کتاب آج بھی اہم ہے کیونکہ سو سال گذر جانے کے بعد بھی امریکہ مساوات اور سماجی انصاف کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
میری الزبتھ جونز پیرش 1892 میں مسیسیپی کی ریاست میں پیدا ہوئیں۔ وہ 1919 کے ارد گرد ٹلسا چلی گئیں اور وائی ایم سی اے (YMCA-Young men Christian association) کی ایک شاخ میں ٹائپنگ اور شارٹ ہینڈ پڑھانے کا کام کیا۔ وہ ایک تربیت یافتہ صحافی تھیں جنہوں نے 1921 کے ٹلسا نسل کے قتل عام کے زندہ بچ جانے والے عینی شاہدین کی کہانیوں کو جمع کیا اور اپنی بیٹی کے ساتھ تشدد سے فرار ہونے کے اپنے تجربے کو بیان کیا۔ یہ کتاب پہلی بار نجی طور پر 1923 میں چھپی تھی۔
30 مئی 1921 کی صبح، ڈک رولینڈ نامی ایک نوجوان کالا آدمی ڈریکسل بلڈنگ میں لفٹ میں سوار ہوا تھا جس میں سارہ پیج نامی ایک سفید فام عورت داخل ہوئی تھی۔ اس کے بعد کی تفصیلات ایک شخص سے دوسرے میں مختلف ہوتی ہیں۔ دن کے دوران شہر کی سفید فام کمیونٹی کے درمیان اس واقعے کی مختلف کہانیاں گردش کرتی رہیں اور یہ قصے مختلف سینوں سے گذر کر مزید مبالغہ آمیز ہو گئے۔
ٹلسا پولیس نے اگلے دن رولینڈ کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی۔ ٹلسا ٹریبیون کے 31 مئی کے ایڈیشن میں ایک اشتعال انگیز رپورٹ نے عدالت کے ارد گرد سیاہ اور سفید مسلح ہجوم کے مابین تصادم کو جنم دیا جہاں شیرف اور اس کے آدمیوں نے رولینڈ کی حفاظت کے لیے اوپر والی منزل کو روک دیا تھا۔ اس چپلقش میں گولیاں چلائی گئیں اور زیادہ تعداد میں افریقی امریکیوں نے گرین ووڈ ڈسٹرکٹ کی طرف پیچھے ہٹنا شروع کیا۔
تیس مئی کی رات اور یکم جون 1921 کی صبح سویرے، گرین ووڈ کو سفید فام فسادیوں نے لوٹا اور جلا دیا۔ اس وقت کے گورنر رابرٹسن نے مارشل لاء کا اعلان کیا، اور نیشنل گارڈ کے دستے ان حالات کو قابو میں کرنے کے لیے ٹلسا پہنچے۔ محافظوں نے آگ بجھانے میں فائر مینوں کی مدد کی، افریقی امریکیوں کو چوکیداروں کے ہاتھوں سے نکالا اور علاقے کے تمام سیاہ فام افراد کو حراست میں رکھا۔ ٹلسا کے کنونشن ہال اور فیئر گراؤنڈز میں 6000 سے زائد افراد کو کچھ آٹھ دن تک رکھا گیا تھا۔
اس بدقسمت واقعے میں ٹلسا شہر کے 35 بلاکس جل گئے تھے، 800 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور اموات کی عصری رپورٹیں 36 سے شروع ہوتی ہیں۔ ٹلسا، اوکلاہوما میں نسلی تشدد اور قتل عام کو سمجھنے کے لیے وقت کی پیچیدگیوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ ڈک رولینڈ، سارہ پیج اور ایک نامعلوم بندوق بردار وہ چنگاریاں تھیں جنہوں نے ایک طویل آگ بھڑکائی۔ جم کرو، حسد، سفید بالادستی اور زمین کی ہوس، ان سب نے 31 مئی اور یکم جون 1921 کو تباہی اور جانی نقصان کی طرف لے جانے میں کردار ادا کیا۔
ٹلسا، اوکلاہوما کے ایک کالے شہری جے بی ہگس کی کہانی: فساد کی رات میں 623 ہل اسٹریٹ پر رہ رہا تھا۔ میری بیوی پچھلے تین دن سے شدید بیمار تھی اور ڈاکٹر جیکسن کی دیکھ بھال میں تھیں، جنہوں نے اگلی صبح 8 بجے فون کرنا تھا۔ ہم اپنی پریشانی میں گھرے ہوئے تھے جب میں نے رات گئے فائرنگ کی آواز سنی۔ صبح سویرے گوروں نے میرے گھر پر فائرنگ شروع کر دی اس لیے مجھے اپنی بیوی کو لے جانے کے لیے محفوظ جگہ تلاش کرنے کی کوشش کرنی پڑی۔ جب میں واپس آیا تو میرے بچے اسے پڑوسی کے گھر لے گئے تھے۔ اس وقت تک وہ میرا گھر لوٹ رہے تھے اور جلا رہے تھے۔ ہمارے پاس دو بڑے صندوق تھے جو وہ گلی میں لے گئے اور ان کو توڑ پھوڑ کر ان میں سے سامان لوٹا۔ وہ جو چاہا لے گئے اور باقی سامان کو آگ لگا دی۔
میرے خاندان نے فوج کی پناہ لی۔ میری بیوی اتنی بیمار تھی کہ بے ہوش ہو گئی۔ سفید فام آدمیوں کے ہجوم نے سارے علاقے کو گھیر لیا تھا اس لیے میں نے پانی کا ایک بیرل لیا، اسے آڑو کے درختوں کے ایک باغ میں لڑھکا کر لے گیا اور اس میں چھپ کر میں نے اپنی جان بچائی جب تک کہ یہ طوفان گزر گیا۔ میں نے تقریبا ڈھائی ہزار ڈالر مالیت کی جائیداد کھو دی۔ (یہاں یہ یاد رہے کہ 1921 میں ڈھائی ہزار ڈالر کی آج سے کہیں زیادہ اہمیت تھی۔ )
سی ایل نیدرلینڈ (حجام کی دکان کا مالک)
"یکم جون کی صبح گوروں کا ایک ہجوم میرے دروازے پر آیا۔ انہوں نے مجھے ہاتھ اوپر کرکے چلنے کا حکم دیا اور مجھے کنونشن ہال تک پہنچایا جہاں سے مجھے پارک میں بھیجا گیا۔ وہاں میں نے بہت سے کالے مرد و خواتین کو دیکھا جو بے گھر تھے۔ وہاں میں دو بینچوں پر سویا۔ میں نے اگلی صبح پارک چھوڑ دیا اور اپنی بیوی کو ڈھونڈا جو کچھ دوستوں کے ساتھ رہ رہی تھی۔ پھر میں نے ایک فولڈنگ کرسی اور ایک استرا خریدا اور گرین ووڈ پر راکھ اور کھنڈرات کے درمیان اتر گیا اور پھر سے حجام کی دکان شروع کی۔
10 کمروں اور تہہ خانے کے جدید اینٹوں کے گھر سے، اب میں اس جگہ رہ رہا ہوں جہاں میرا کوئلے کا گودام تھا۔ 5 کرسیوں والی حجام کی دکان، 4 حمام، الیکٹرک کلپرز، الیکٹرک پنکھا، 2 لیوٹریز اور شیمپو اسٹینڈ، 4 مزدور، ڈبل ماربل شائن اسٹینڈ، ایک پورٹر اور 500 ڈالر یا 600 ڈالر ماہانہ سے زیادہ کی آمدنی سے آج میرے حالات اتنے خراب ہیں کہ میری تمام ملکیت محض ایک استرا اور فولڈنگ کرسی ہیں جن کو لے کر میں فٹ پاتھ پر بیٹھا ہوا ہوں۔
مجھے لگتا ہے کہ کرپٹ سیاست پورے معاملے کی وجہ ہے، اس کے لیے حکام نے بروقت مناسب اقدامات کیے ہوتے تو پورے معاملے کو روکا جا سکتا تھا۔ "
میری ای جونز پیرش نے لکھا کہ ” آج رات جب میں لکھ رہی ہوں اور ٹلسا کے بارے میں سوچتی ہوں تو میری آنکھیں آنسوؤں کے ساتھ بھر جاتی ہیں اور میری روح انصاف کے لیے روتی ہے۔ اوہ، امریکہ! آزاد کی زمین اور بہادروں کے گھر! وہ ملک جس نے دنیا کو جمہوریت کے لیے محفوظ بنانے کے لیے اپنا بہترین خون اور بہادر دل دیا! یہاں کب تک ہجومی تشدد کو بالادست رہنے دیا جائے گا ؟ کیا جمہوریت محض ایک مذاق ہے؟”
اگر سوچا جائے تو سفید فام آدمی کے ہجوم کی کہانی صرف ٹلسا، اوکلاہوما کی تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ دنیا میں جہاں کہیں بھی کسی بھی فرق کو لے کر گروہ بندی کی جائے تو یہی حالات پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے دنیا کے ہر شہر ی پر لازم ہے کہ وہ تاریخ کو گروہوں اور ٹکڑوں میں سیکھنے کے بجائے انسانی تاریخ اور اجتماعی صدمے کے لحاظ سے سمجھے اور اپنے گروہ کے اندر دیگر افراد کے خلاف بھڑکنے والی نفرت کے خلاف آواز بلند کرے۔




