جادو!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوچ کے آگے ذرا چڑھنے کی دیر ہے کہ مصنّفین سے زیادہ تصانیف کی حق تلفی کی تعزِیر چابک لئے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ ہر کتاب کی ابتدا پورے ناز نخروں اور توجہ کے تمام تر پروٹوکول کے ساتھ ہوتی ہے، پھر تکمیل کے مراحل کی اس کی نزاکتیں اور نازکی الگ تکلفات رکھتی ہیں اور تو اور مکمل ہو جانے کے بعد بھی اس کی حساسیت و جاذبیت اور افادیت ہزار تقاضے کرتی ہے۔ بہرحال تصنیف کے پس منظر کی عرق ریزی کا حق تو ہے کہ اس کا احترام اس کی طبیعت و نرگسیت کے عین مطابق ہو۔ اسے کتنے احساسات، جذبات، فصاحت اور بلاغت کے موتیوں کی لڑی میں پرویا جاتا ہے، اس کی رعنائی، سچائی، معانی اور روانی کی چاشنی، نغمگی و شگفتگی الگ فہم و فراست رکھتے ہیں۔طبع آزمائی و قسمت آزمائی کی الگ الگ کہانیاں اپنی جگہ پر لیکن یہ طے ہے کہ کتاب جہاں مخلص دوست و رہنما ہے وہاں سنگ سنگ چلنے اور رہنے والا منفرد جادو بھی۔ کوئی ایک کتاب کسی بھی وقت کسی کی زندگی بدل سکتی ہے!اردگرد خوشگوار کتابوں کے موسم میں سے اس ہفتہ کچھ رنگ، کچھ دھنک اور چند نکہتیں چرانے کو جی چاہ رہا ہے:

اجی محاصرے سے شروع کرتے ہیں۔ وجاہت مسعود کا ’’محاصرے کا روزنامچہ (3)‘‘حال ہی میں سامنے آیا ہے، اس میں صاف صاف نشانیاں ہیں اس عمدہ نثر اور متین اندازِ بیاں کی جو موجودہ صحافت سے کم و بیش کوچ کرچکے۔ اگرچہ ہمارے ہاں مکالمے کا گلا گھونٹا جاچکا ہے یا اشرافیہ اسے پسند نہیں فرماتا تاہم وجاہت کے ہاں مکالمے کا سلیقہ اور دریچہ کھلا رہتا ہے کیونکہ وہ ادب، نیچرل اور سوشل سائنسز کے ملک شیک میں فراست کی ٹھنڈک ڈالنے سے آشنا ہیں، استاد تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے! مجھے بالخصوص کالموں کے مجموعے اچھے لگتے ہیں کیونکہ ان کے اندر عصر حاضر کی سیاست اور تاریخ سمٹی ہوتی ہے پھر تجزیے کا اسلوب مدد دیتا ہے کہ مستقبل کو اب کس زاویے سے دیکھنا ہے۔ اس کتاب میں اکتوبر 2014تا ستمبر 2015تک کے کالموں کا انتخاب ہے۔ ’’منزلیں دور نہیں‘‘ سے رشحاتِ قلم کا آغاز ہے اور ساتھ ہی کہہ دیا ’’بھٹو ازم کا نعرہ کافی نہیں‘‘ اور ’’تھینک یو امریکہ‘‘ پر بات گویا کتاب ختم کردی۔ شرفا کے دور حکومت کا احاطہ مکمل تنقیدی صورت میں بھی ہے اور توصیف کا صریر خامہ بھی ملتا ہے تاہم اس میں قابل غور ملن اس بوئے ہوئے بیج اور آج کے اترتے پھل کا بھی ہے جو پوری سابقہ سیاست اور سیاسی مستقبل کے ایکوسسٹم کا تجزیہ بھی ہے۔ نصابِ تعلیم اور حرفِ انکار میں رشتہ کی ایک بات قلب پر کاری ضرب لگا گئی :

نواز شریف نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ نصاب تعلیم میں آئینی حکومت اور جمہوریت کے بارے میں تصورات شامل کئے جائیں۔ نوجوان نسل کو بتایا جائے کہ ہمارے دستوری خاکے میں حکومت کی جواب دہی کیلئے عدلیہ کی نگرانی، صحافت کی آزادی ، معلومات تک رسائی اور باقاعدہ انتخابات کے اصول طے کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم کا فیصلہ نہایت خوش آئند ہے تاہم اس پر عمل درآمد کے امکانات صفر کے برابر ہیں۔ (18 نومبر 2014)

حیراں ہوں کہ اس بات کو میں کیسے نظرانداز کرگیا۔ اور واقعی طاقت کے’’حقیقی‘‘ سرچشمے کو ایسے فرمان کی آبیاری کیسے مقصود ہوسکتی ہے؟ ہمارے ایک دوست (ڈاکٹر) اخلاق احمد اعوان جو لفظوں کی دلکشی اور جذبوں کی حرمت کو بیک وقت مدنظر رکھ کر شعر کہتے ہیں، انہوں نے اپنے شعری مجموعہ ’’میسر‘‘ میں کیا خوب کہا جو یہاں محاصرے کے روزنامچہ کے وجاہت مسعود پر ہر طرح صادق ہے:

یہ کشف و کرامات بھی کیا شے ہیں کہ مجھ کو

دنیا کی خبر ملتی ہے اک گوشہ نشیں سے

چونکہ میں کبھی شاعر رہا نہ بنا چنانچہ نہیں معلوم یہ شعراء اپنے تخلص ’’متاثرین‘‘ کی فہرست میں جگہ پاکر رکھتے ہیں یا متاثر کرنے کی بدولت؟

تحقیق و تنقید کی گُتّھیاں سلجھاتی ہوئی ایک ’’تصریحات‘‘ بھی ہاتھ لگی ہے جسے ڈاکٹر محمد رفیق الاسلام نے قابلِ مطالعہ بنایا اور کتاب کے پیچھے موجود محنت کے سبب یہ اپنے آپ کو خود قابلِ ذکر زمرے میں لائی۔ کلاسیکی ادب سے جدید ادب تک کی روشنی کا اس میں اجالا ہے۔ یہ قاری کو بھی تنقیدی عمل میں شامل کرتی ہے۔ یقیناً ادب اور تحقیق کے طلبہ اور اساتذہ کیلئے یہ دوست اور رہنما شاہکار ہے۔ جدید دنیا کے تقاضوں کا فہم رکھنے والے اور ادب کی زینت اور آبرو کا خیال رکھنے والے کشمیر سے اکرم سہیل کی شاعری ہو یا نثر اس میں تازگی ہوتی ہے اور تاریخی پختگی بھی۔ ’’نئے جالے ہیں خواب میرے‘‘ ان کی شاعری کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انہوں نے واقعی ساحرلدھیانوی، ن م راشد، مجید امجد اور مصطفیٰ زیدی کو حرزِ جاں بنایا ہے۔ ’’پس دیوارِ آئینہ‘‘ کے کلیم احسان بٹ (پروفیسر) بھی سخن فہم ہی نہیں سخن شناس بھی ہیں: میں نے اک خواب مسلسل میں یہ دیکھا ہے کلیم / وہ مری نیند بھی آنکھوں سے چرا لے جاتا۔ ’’22 لوگ‘‘ بائیس قابلِ قدر تاریخ اور تحریک برپا کرنے والوں کی بولیاں اور بازگشت کو ایک تصنیف اور تحقیق میں یکجا کرنے پر سجاد پرویز کو داد دینی پڑے گی۔ اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا بھی شکریہ کہ اس نے ’’22لوگ‘‘ کی اشاعت میں مدد کی، مگر اس کا سستا ایڈیشن بھی بہرحال مطلوب ہے تاہم’ 22لوگ‘ وہ جادو ہے جو آبیاری کرتا اور سدا بہاری رکھتا ہے۔

دائروں کے سفر سے نکل کر گر ترقی و سماجی و سیاسی منزل کی طرف بڑھنا ہو، تو ضروری ہے کہ تحریک کی شاہراہ پر چلنے والے لوگوں، اُن کے عزم اور اُن کے جہدِ مسلسل کا مطالعہ کیا جائے، تحقیق بتائے گی کہ تحریک ہی تاریخ کا روپ دھارتی ہے! ڈیجیٹل بکس پڑھیں یا عام کتب ان کے طلسم سے مقام ملے گا، یہ مقام صرف انسانیت سے محبت کرنے والوں کے حصے میں آتا ہے۔ انسان دوستوں کی تمام سائنسز انسانیت کے گرد طواف کرتی ہیں اور انسانیت محبت بھرے احساس کے گرد چکر کاٹتی ہے!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments