"خالد طور کے”بالوں کا گچھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طالب علم کا کتابوں سے شغف رہتا ہی ہے، لیکن جب سے باغی ہوئے ہیں کتابوں سے شغف تھوڑا بڑھ سا گیا ہے، یہ کام مہنگا ضرور ہے، لیکن دوست خالد فاروق کا شکر گزار ہوں، جو وقتاً فوقتاً مجھے اپنی ذاتی جائیداد سے کتابیں عنایت کرتے رہتے ہیں، خالد طور کے شاہکار ناول ”بالوں کا گچھا“ سے میرا تعارف بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، کہنے لگے ”ایک باغی کا ناول اگر باغی نہیں پڑھے گا، تو کون سرپھرا پڑھے گا؟“ راتوں کو جاگ کر لمحوں میں ناول مکمل کرنے کی وجہ یہ بھی تھی کہ یہ ناول ”میرا عکس“ ہے، یعنی میرے نظریات ناول کے جملوں میں آپ کو نظر آئیں گے اور میری شخصیت کی جھلک ناول کے مرکزی کردار خالد میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔

مجھے تو ایسا محسوس ہونے لگا تھا، کہ یہ نظریات خالد طور کے نہیں، میرے اپنے نظریات ہیں شاید خالد طور نے میرے نظریات عالم ارواح میں مجھ سے چرا لئے ہوں، یہ بات آب سوالیہ نشان ہے، کہ عالم ارواح پر مصنف کے کیا خیالات تھے، یہ تو عالم برزخ میں ہی پوچھیں گے کیونکہ کورونا کے وار نے ہم سے اردو ادب کا باغی لکھاری پچھلے سال چھین لیا تھا، امید ہی کر سکتے ہیں، کہ آگے کے معاملات بہتر چل رہے ہوں گے، ویسے باغیوں کو مجھ سمیت ایسی کوئی امید نہیں ہوتی کیونکہ ہم خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہتے۔

لکھاری کے تعارف کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ موصوف نے زندگی میں ایک ہی ناول لکھا ہے جس پر بندہ ناچیز لب کشائی کرنے جا رہا ہے، اس لئے علاوہ تعارف میں کچھ لکھا جائے گا تو ایسا لگے کا کہ مبالغہ آرائی سے کام لیا جا رہا ہے، موصوف میری طرح بغاوت کی حدوں سے ماورا ہو کر سوچتے تھے۔ نتائج جیسے بھی ہوں پرواہ کس کو ہے؟

کہتا ہے ”تاریکی کے اصول بھی تاریک ہوتے ہیں“ اس لئے میں مصنف کا ناول بھی تاریکی میں پڑھتا رہا ہوں، یعنی انسان معاشرے کی جن تاریک زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، اس کے اصول بھی تاریک ہیں، یہ جملہ اتنا بڑا ہے، کہ اس کے پورے ناول کو چند لفظوں میں بیان کرنے کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے، تاریکیوں کا ایسا تانتا ناول کے اندر باندھا گیا ہے، کہ ہر اینٹ سے بچھو نکل رہے ہیں، جن کے اپنے ہی اصول ہیں لیکن انسان ان کے ساتھ زندگی کاٹنے پر مجبور ہے۔

دو ہفتوں سے ناول مکمل کر کے ناول پر مضمون لکھنے کا سوچ رہا تھا، لیکن لکھنا کیا اور کیسے ہے، یہ سوچوں سے کوسوں دور تھا، اور یہ دن اتنے بے زار گزرے ہیں کہ سوچ بھی کشمکش کا شکار ہو گئی ہے، ناول کا مرکزی موضوع مذہبی توہم پرستی ہے، توہم پرستی ازل سے نسل انسانی کا جواز رہی ہے، انسان نے جب پہلی بار خدا کو جھٹلایا، تو پھر اسے اپنی عقل کی تسکین کے لئے توہم پرستی کا سہارا لینا پڑا، لیکن مذہب کو ماننے والا انسان توہم پرستی کے جال میں کیسے پھنس سکتا ہے، اس کا جواب خود خالد طور دے گا آپ پریشان نہ ہوں۔

صدیوں سے چلی آ رہی مذہبی روایات کے خلاف جانا تو ہمیشہ سے مشکل رہا ہے، ایسی ہی مشکلات مصنف خالد طور کو برداشت کرنا پڑیں، یہ ناول اور اس سے جڑے وہ تمام کردار جنہوں نے ناول کو پڑھنے کے قابل بنایا، مصنف کی حقیقت پر مبنی آنکھوں دیکھی داستان ہے، جو صرف اسلوب کی حد تک فکشن ہو سکتی ہے، یہ سفر نامہ بھی ہے، جو آپ کو چکوال سے جھاوریاں تک کا سفر مفت میں کرائے گا، جہاں خالد طور کے بڑے بھائی رہائش پذیر ہوتے ہیں، اور مصنف ان کے ہاں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لئے جاتا ہے، اور وہ کام کر کے واپس لوٹتا ہے، جو وہاں کے باسی سالوں سے نہیں کر پائے تھے۔

یہ کام ”بالوں کا گچھا“ نامی ایک توہم پرستی سے مکمل طور پر بغاوت ہے، علاقے میں ہر نئے پیدا ہونے والے بچے کے سر پر تالو کی جگہ بالوں کا گچھا رکھ کے طور پر چھوڑ کے باقی بال کٹوا دیے جاتے تھے، یہ صرف اور صرف بلاؤں کے ڈر سے کیا جاتا تھا، اور بلاؤں کا ڈر پیر نے پھیلایا ہوتا ہے، اس توہم پرستی کے اصول بھی میگھا پتن کے پیر طے کرتے تھے، ایک دن مصنف ایک بچے کی رکھ کاٹ دیتا ہے، یہ حرکت مصنف کی جانب سے پیر کی طے شدہ مقررہ مدت سے پہلے کی جاتی ہے جس سے بچے کی ماں خوف میں مبتلا ہو جاتی ہے، کہ آب تو بچہ مر جائے گا۔

پیر کی طرف سے اس گستاخی پر ردعمل، ہونا بھی یہی چاہیے تھا، اور ہوا بھی یہی، رد عمل ایسا تھا کہ معصوم بچے کی جان لینے کی کوشش خود پیر کی جانب سے کی گئی، جس کی رکھ خالد طور نے کاٹ دی تھی، تاکہ پیر اپنی ساخت بچا سکے، کیونکہ پیر کے بقول اگر رکھ مقررہ مدت سے پہلے کاٹ دی جائے تو بچا بلاؤں کے حملے میں مارا جائے گا،

لیکن بچے کو مصنف مرنے سے بچا لیتا ہے کیونکہ وہ تو پہلے سے جانتا تھا کہ بچے کو پیر ہی مروانے کی کوشش کرے گا، اس لئے حفاظتی انتظامات مکمل تھے، پیر اور اس کے مریدوں کے رد عمل کے بعد مصنف پریشانی میں خود کلامی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ

” میں نے کوئی جرم تو نہیں کیا۔ عالم انسانیت پر چھائی ہوئی تاریکیوں کا شعور رکھنا جرم نہیں ہو سکتا ”،

آپ سوچ رہے ہوں گے دربار کا پیر ہو اور توہم پرستی مفت میں کروائے یہ کیسے ممکن ہے؟ ، تو ہرگز ایسا بالکل ممکن نہیں ہے، پیر کے طے کردہ مقررہ وقت (جو کم سے کم سال اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال) پر جب رکھ کاٹ دی جاتی تھی، تو گچھے کے وزن کے برابر پیر کو سونا یا چاندی نذرانے کے طور پر پیش کی جاتی تھی۔

لکھاری کی توہم پرستی سے بغاوت کا ایک سبب مذہبی سوچ سے بغاوت بھی ہے، وہ اس کو مذہبی خوف، خود غرضی، اور لالچ سے جوڑتا ہے، اس کا ایسا ماننا ہے، کہ مذہب میں ”خوف“ کا ہتھیار استعمال کر کے آپ کچھ بھی کروا سکتے ہیں، وہ قوموں کے درمیان دشمنیوں کا مورد الزام بھی مذہب کو ٹھہراتا ہے، وہ کہتا ہے کہ آپس کی نفرتیں، مذہب کے نام پر اشتعال پھیلانے والے ہندو، مسلمان اور عیسائی ہوتے ہیں، یہ کام کبھی انسان نہیں کر سکتا، یہ بات کسی حد تک میری رائے سے بھی اتفاق کرتی ہے، لیکن بیان کرنے کا اسلوب تبدیل کرتے ہیں، ورنہ لوگوں کو یہ بات ہضم نہیں ہو گی، مذہبی نفرتیں مذہب نہیں پھیلاتا، یہ مذہب کا لبادہ اوڑھے مولوی، پنڈت، گرو اور پوپ کی ذہنی سوچ، آنا اور تکبر کا نتیجہ ہے۔

کسی حد تک مجھے لکھاری کا مذہبی باغیانہ رویہ پسند بھی آیا، کیونکہ میں خود باغی ہوں، لیکن خالد طور کی حد سے زیادہ بغاوت کے پیچھے خود مصنف کا ہی قصور نہیں ہے، اس نے بچپن سے ہی روسی لٹریچر کا مطالعہ کر رکھا تھا، جس کے چند اثرات اس کی تحریر میں صاف نظر آتے ہیں، جن سے مجھے بھی اختلاف ہے، ایک جگہ تو وہ یہاں تک لکھ گیا کہ تمام مذہب کی بنیاد بھی ”خوف“ ہے، یعنی انسان کو کسی کے ہونے کا خوف ہی اسے مذہب کی زنجیروں کی جانب کھینچتا ہے، جس کے اندر انسان ہمیشہ کے لئے جکڑ کر رہ جاتا ہے، اور یہ بھی توہم پرستی کے زمرے میں شامل ہے، اور اسی لئے مذہب کا ماننے والا توہم پرستی کا شکار رہتا ہے۔

یہ باتیں سخت ہیں، ہضم کرنے میں وقت لگے گا، مضمون لکھتے ہوئے رات کا پچھلا پہر مناسب رہتا ہے، کیونکہ یہ چاند ازل سے لکھاریوں کا سب سے من پسند رومانس رہا ہے، اور یہ رات کے پچھلے پہر اور بھی خوبصورت نظر آتا ہے، اگر اس کے سامنے کسی خوبصورت نسوانی کردار کو یاد نہ کیا جائے تو ایسا لگے گا کہ مرنے والے کی آخری خواہش پوری نہیں کی گئی۔

مجھے گلنازی یاد آ گئی، مصنف کو اس سے محبت ہو گئی تھی، کہتا ہے، کہ ”محبت کی نہیں، ہو جاتی ہے“ ، پتا نہیں کیوں لکھاری نے لڑکی کی خوبصورتی میں حد سے تجاوز کرتے ہوئے مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے، حالانکہ وہ دکھنے میں معمولی کردار ہی تھی، محبت کی ہر کہانی ہم شکل ہوتی ہے، آغاز سے بھی اور اختتام سے بھی ”ماں نے میرا نکاح (کہیں اور) کر دیا ہے۔ کیا کرتی میں۔“ ؟

چاند نے جب گلنازی کے آخری جملے سنے، تو دل ہی میں مجھ سے کہنے لگا یہ روگ کے داغ تو ہر جسم کی کہانی کا حصہ ہیں، مجھے ہی دیکھ لو، محبت تو جگ بیتی ہے میں چاند کے جسم پر موجود دھبوں میں کھو گیا، ایسے ہی دھبے خالد طور کے دل پر لگ چکے تھے، لیکن وہ خالد خود ہی کہتا ہے ”ہر دکھ عارضی ہے، ہر گڑھے کو بالآخر بھر جانا ہے“ ، یہاں اس کی مراد معاشرے میں موجود وہ دکھ بھی ہیں جو عام بندے کی زندگی پر گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں، کہتا ہے ”اس معاشرے میں زندگی اتنی گھٹن کا شکار کیوں ہے؟“

گلنازی کے کردار کو جس طرح خالد طور نے لکھا ہے، ویسا حقیقت میں دیکھنے کو دل چاہتا ہے، لیکن وہیں محبت کا انجام دیکھ کر پتا نہیں کیوں، فکشن کے شاہکار کو بھی دیکھنے کا دل نہیں چاہتا، یہ سب جھانسے ہیں، جن میں مصنف سادہ لوح انسانوں کو پھنسا کر توہم پرستی والی کڑوی گولی ان کے منہ میں ٹھونسنا چاہتا ہے، جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوا ہے۔

پتا نہیں باغیوں کی فطرت اور سماج سے لڑائی کب ختم ہو گی؟ ، لیکن میں اسے لڑائی کہ رہا ہوں، حالانکہ یہ غلط فہمیاں ہیں، جس سے دوریاں جنم لیتی ہیں، دوریاں پیدا ہونے میں وقت نہیں لگاتی، اور ایسی ہی غلط فہمیوں نے صدیوں سے ایک جگہ رہتی آ رہی قوم کو دو قوموں میں نفرت کے ترازو سے بانٹ دیا، دور کہیں اسٹیشن سے ٹرین کی سیٹی بج رہی تھی،

رات کی خاموشی میں سیٹی کی آواز تو میلوں دور سے بھی سنائی دے رہی تھی، ہاں غالباً رات کا ایک بج رہا ہو گا، لاہور کی ٹرین کا یہی وقت ہے، وہی لاہور جس کے دل پنجاب کو واہگہ کی باڑ نے تقسیم کر دیا،

ہاں تو بات خالد طور کی ہو رہی تھی۔ اسے اپنے مہاجر کرداروں سے میرے برعکس بڑی محبت ہے، یہاں بات گول کر رہا ہوں صرف وقت کی کمی آڑے آ رہی ہے لیکن تقسیم ہند پر خالد طور اور میری رائے ایک ہی ہے،

کہتا ہے کہ ”ہند تقسیم کرن والیاں دا ککھ نہ روے“ ( ہند تقسیم کرنے والوں کا کچھ بھی باقی نہ رہے ) ،

میں نے پنجابی زبان کا صرف ایک جملہ اپنے مضمون کا حصہ بنایا ہے، لیکن خالد طور نے جس طرح پنجابی زبان کا استعمال ناول کے اندر کرتا ہے، وہ قابل تحسین ہے، ایک مقامی زبان کو ناول کے پلاٹ کے اندر اہمیت ملنا قابل رشک ہے۔

مصنف کی آزادانہ سوچ کے پیچھے بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں، گھر کی گھٹن زدہ تربیت، مذہبی بغاوت، والد کا برا رویہ، سوال اٹھانے پر پابندی، ایسے حالات میں پھر باغیوں کو پڑھنا، یہ سب میرے اور مصنف خالد طور میں یکساں طور پر پایا جاتا ہے، حد سے زیادہ باغی رویہ بھی پڑھنے کو ملتا ہے جس سے میں اختلاف کرتا ہوں، جیسے ایک جگہ کہتا ہے

کہ ”آدمی ابتدا ہی سے بہن کا خصم ہے“ ،

اس جملے کی تفصیل قاری ناول میں ہی پڑھے تو بہتر ہے ورنہ موضوع کہیں اور نکل جائے گا، لیکن ہاں جائز بغاوت وہ مذہبی ہو یا معاشرتی میں اس کا سب سے بڑا قائل ہوں، ایک اور جگہ لکھتا ہے، کہ یہ ”پیر لوگ سب کے سب فراڈیے ہوتے ہیں“ ، یہاں اپنا ایک جملہ بھی آپ کی نذر کرتا چلوں کہ ”ملا ازم سے جتنا ہو سکتا ہے، بچیں!

کیونکہ جنت آپ کو چندے میں نہیں ملے گی، ہاں جہنم ملنے کے قوی امکانات ہیں ”، مذہب میں جذبات کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے، دکھتی رگ انسان کے لئے ہمیشہ سے پریشانی کا باعث رہی ہے،“ بالوں کا گچھا ”یہ صرف ایک توہم پرستی نہیں ہے، اصطلاح کے طور پر بھی خالد نے اس گجھے کو استعمال کیا ہے کہتا ہے،“ شعور کا ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جہاں پہنچ کر بالوں کے گجھے کاٹ کر بھی کوئی خوف باعث تکلیف نہیں بنتا، کیونکہ انسان جب خواہشات سے نجات پاتا ہے، تب ہی وہ معاشرے کی زنجیروں کو توڑ پاتا ہے، یہ زنجیریں بھی بالوں کے گچھے کی طرح ہیں، کاٹتے ہوئے خوف آتا ہے

اسی طرح معاشرے کی جن زنجیروں میں انسان جکڑا ہوا ہے، ان کو توڑتے ہوئے بھی انسان ویسے ہی خوف میں مبتلا ہو جاتا جیسے وہ ماں خوف میں مبتلا ہو گئی تھی جس کے بچے کی رکھ مصنف نے بغاوت کے نشے میں پیر کے طے شدہ مقررہ وقت سے پہلے کاٹ دی تھی، جب تک ہم بالوں کا گچھا کاٹ نہیں دیتے، تب تک ہم زنجیروں میں جکڑے رہے گے، اور یہ جکڑا رہنا ہی اصل میں غلامی ہے، جسم تو توہم پرستی میں بھی جانوروں کی طرح گھومتا ہے، اس کی زندگی پر ذرا بھی اثر نہیں پڑے گا، بغاوت کا کام انسان کے ذہن نے کرنا ہے، جیسے خالد خود ہی کہتا ہے کہ خوف اور خود غرضی سے انسانی ذہن گھٹن کا شکار ہو جاتا ہے ”جس سے وہ توہم پرستی کا شکار ہو جاتا ہے،

جس کی آخری انتہا ”مذہبی انتہا پسندی“ ہے، اور خالد طور کا یہ ناول مذہبی انتہا پسندوں کے لئے ہی تو لکھا گیا ہے، خالد طور جیسے باغیوں کے لئے ناول میں سوائے بغاوت کے دلائل سے زیادہ کچھ نہیں ہے، اس لئے شروع میں ’میں‘ نے ایک جملہ کہا تھا کہ یہ ناول میرا عکس ہے، جس کا عکس دھندلا نظر آتا ہے، اسے یہ ناول ضرور پڑھنا چاہیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments