جناب صدر ہنسنا منع ہے

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت کے خطاب کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ اس اجلاس میں ملک کی اعلی سول و عسکری قیادت موجود ہوتی ہے اور عام طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ اجلاس میں صدر کی جانب سے اہم ملکی معاملات پر اظہار خیال کیا جائے گا اور صدر کی جانب سے حکومت کو مزید بہتری کے لیے تجاویز دی جایں گی صدر کے اس سالانہ خطاب کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اجلاس کے ایجنڈے پر مزید کسی اور مسئلے پر بات نہیں کی جاتی۔
ایسا ہی اجلاس نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر منعقد ہوا جس سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خطاب کیا اور اب قومی اسمبلی کے اجلاس میں صدر کے اس خطاب پر بحث ہو گئی تمام پارلیمانی لیڈر اظہار خیال کریں گے یہ پارلیمانی لیڈر صدر کے اس خطاب پر کیا بحث کریں گے یہ ضرور سوچنا پڑے گا کہ صدر نے اپنے خطاب میں کون سی ایسی بات کی جس پر عوام کے خون پسینے کی کمائی سے چلنے والے اس معتبر ایوان میں بحث کی جائے گی۔ یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ عوام جن نمائندوں کو چن کر ایوان میں تک پہنچاتے ہیں وہ اپنا حق ادا کر رہے ہیں یا وہ بھی صدر کی طرح خود ہی ہنستے ہوئے آئیں گے اور عوام کے زخموں پر مزید نمک چھڑک کر مسکراتے ہوئے ایوان سے نکل جائیں گے بس عوام کو خود ہی اندازہ لگانا ہو گا کہ صدر کے ہنسنے ارکان اسمبلی کے مسکرانے اور اسمبلی کیفے ٹیریا میں قہقہوں کی گونج میں کیا فرق ہے اشرافیہ کا یہ طبقہ عوام کے رستے ہوئے زخموں سے نکلنے والے خون کے درد پر جو رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اس کے نتائج بھی تاریخ کا حصہ ہوں گے۔
صدر مملکت نے اگر اپنے خطاب کو نشر مکرر کے طور پر سنا ہو گا تو یقینی طور پر وہ ہنسے نہیں ہوں گے اور نہ انکھیں نم بلکہ پر نم ہونے کی نوبت آئی ہو گی۔ صدر فضل الہی چوہدری سے لے کر ڈاکٹر عارف علوی کے خطاب تک ہر سالانہ خطاب سنا اور آج یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ہمارے ملک کے صدر کیا ایسے ہی ہوتے ہیں یا ہم سمجھ نہیں پا رہے کیا قوم کو صدر سے مدبرانہ خطاب کی توقع رکھنا فضول ہے کیا صدر اپنی ہی حکومت کے ہاتھوں اتنا یرغمال ہوتا ہے کہ وہ اپنی طرف سے ایک لفظ بھی نہیں بول سکتا۔
جناب صدر اگر گستاخی نہ ہو تو صرف اتنا ہی قوم کو بتا کر احسان کر دیتے کہ آپ کے خطاب میں کیا ایسی بات تھی جس پر قوم غور کرے۔ ماضی میں بھی جب صدر نے خطاب کیا اپوزیشن نے خوب شور مچایا اور پھر معاہدے کے مطابق تقریر کے عین عروج پر بائیکاٹ کا ڈرامہ لگاتے ہوئے ایوان سے نکل گئے لیکن اس بار ایسا نہ ہوا صدر نے بار بار مسکراتے ہوئے اپوزیشن کو مخاطب کیا اب اپوزیشن کی جانب سے کیا جواب دیا جا رہا تھا وہ سرکاری ٹی وی پر دکھانے کی ممانعت تھی اور صدر نے اس اخلاقی سہولت کا خوب فائدہ اٹھایا عجب اتفاق کی بات ہے کہ صدر کے خطاب کے دوران اپوزیشن کے ارکان احتجاج کے باوجود ہنس رہے تھے اور حکومتی پینچ بشمول وزیر اعظم اپنی تعریفوں کی گردان سن کر بھی شرماتی مسکرا رہے تھے اور صدر جو دنیا کو وزیر اعظم کی مریدی کرنے کا نایاب نسخہ بتا رہے تھے وہ بھی یہ بات کرتے ہوئے مسلسل ہنس رہے تھے اور ان سب کو دیکھ کر عوام اپنی بے بسی پر ہنس رہے تھے کہ ان کے ٹیکسوں سے چلنے والی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں ان کا ذکر ہی نہیں ہو رہا۔
ویسے بھی عوام کئی دہائیوں سے مشکلات میں رہ کر اپنے ذہنی توازن کو کھو چکے ہیں عوام رو بھی رہے ہوں تو لگتا ہے کہ ہنس رہے ہیں اور حکمران طبقہ تو ہمیشہ یہی سمجھتا ہے کہ جو لوگ ان کے لیے نعرے لگا رہے ہیں وہ ان کے وفادار ہیں جب کہ جس کے اندر جتنی زیادہ تکلیف کا درد ہوتا ہے وہ اتنا زیادہ زور سے نعرہ لگاتا ہے یہ لوگ عوام کو حسین خواب دیکھا کر اسمبلی تک پہنچ جاتے ہیں پھر وزیر اور صدر تک بن جاتے ہیں اور وہاں پر ایک بار پھر نئے انداز میں عوام کو صبر کا سبق دیتے ہیں اور ہنستے مسکراتے اور قہقہے لگاتے اپنے حصے کا ٹی اے ڈی اے بل لینے کے لیے جعلی حاضریاں لگانے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتے بلکہ اپنے اس عمل پر ہنستے ہوئے اپنا بل وصول کر لیتے ہیں۔
صدر علوی بھی اسی لیے مسکرا رہے تھے کہ انہوں نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے اپنے حلقے سے رکشے میں بیٹھ کر بارش کے پانی میں ڈوبے ہوئے عوام کی داد رسی سے سفر شروع کیا تھا اسی مقام کے لیے انہوں نے اپنے حلقے میں کارکنوں کے ساتھ پیدل دورہ بھی کیا اسی مقام کے حصول کے لیے جناب صدر نے غریب کارکنوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر دکھ سکھ ساتھ نبھانے کا وعدہ کیا اور عوام کو ہنسی اب اس بات پر آ رہی ہے کہ اب مقام تو انہوں نے حاصل کر لیا تو پھر ایسی خوشامدی تقریر کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی صدر صاحب دنیا کو وزیر اعظم کا مرید بنانے میں سہولت کار کیوں بننا چاہتے ہیں کیا وہ صدر سے کسی بڑے عہدے کو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن کوئی ان کو بتلائے کہ ان کا سفر یہاں تک کا ہی ہے ہاں اگر وزیر اعظم نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ دنیا کو مرید بنانے کا عمل شروع کرنے والے ہیں تو استاد کے بیرونی دروازے پر بھی تو کسی کی ضرورت ہو گئی کیونکہ یہ جو سب وزیر اعظم کے گن گا رہے ہیں یہ تو اپنے ساز و سامان کے ساتھ کسی اور گیت گا رہے ہوں گئے اور عوام ہمیشہ کی طرح یہ صورتحال کو دیکھ کر مسکراہٹیں کا تبادلہ کر رہے ہوں گئے۔ ویسے مجھے قوی امید ہے کہ صدر نے جیسے ہیں اپنے خطاب کو خود سنا ہو گا تو وہ ہلکا سا مسکرائے تو ہوں گئے کہ کیسا سب کو بے وقوف بنایا ہے۔

