یکساں نصاب تعلیم: مگر کیسے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں افغانستان کے علاوہ آج کل کوئی دوسرا موضوع سب سے زیادہ زیر بحث ہے تو وہ یکساں نصاب تعلیم یا سنگل نیشنل کریکولم ہے۔ یکساں نصاب تعلیم کے بارے سنتے ہی ذہن میں یکساں معیار تعلیم، یکساں زبان تعلیم اور یکساں نظام تعلیم جیسے من بھلے سے الفاظ آتے ہیں۔ شاید حکومت وقت بھی انہی ترقی پسند الفاظ کو مشعل راہ بناتے ہوئے ملک میں چوہتر سال سے جاری علمی نا انصافی اور معاشرتی عدم مساوات کو دور کرنا چاہتی ہو۔

لیکن اس کریکولم کے نافذ ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی عوام کی ایک بڑی تعداد کی طرف سے مزاحمت دیکھنے کو ملی۔ جہاں ایک طرف اس نظام تعلیم کے حامی افراد خود کو سچا پاکستانی ثابت کرنے پر مصر ہیں تو دوسری طرف اس کے مخالفین اسے اسلامی بنیاد پرستی اور خواتین مخالفت سے جوڑ رہے ہیں۔ اپنے اپنے تئیں اس کی تشریحات کی جا رہی ہیں اور عوام و خواص دونوں میں اسے لے کر کافی بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اگر ملک میں ہر سطح پر بنا کسی معاشی و سماجی تفریق کے ایک ہی نصاب پڑھایا جائے تو اس پہ اعتراض کیوں؟ حقیقت مگر تھوڑی مختلف ہے۔

دینی و مذہبی تعلیم سیکھنا کسی بھی معاشرے کی نظریاتی اساس کے لیے ضروری ہو سکتا ہے اور تمام حکومتیں اس حوالے سے اقدامات بھی کرتی ہیں۔ توازن مگر ہر جگہ ضروری ہے۔ یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے ترقی پسند عناصر اور بائیں بازو کے دانشوروں کے خدشات کو اگر دیکھا جائے تو انہیں یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ مذہبی بنیاد پرستی سے لے کر غیر سائنسی ہونے تک، خواتین مخالف مواد سے لے کر اقلیتوں کے عدم تحفظ تک، یکساں نصاب تعلیم کو بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہم یہاں اس کریکولم کا مختصر قانونی، نظریاتی، مذہبی، سائنسی اور تاریخی جائزہ لیں گے۔

وزیراعظم پاکستان نے 15 اگست کو یکساں نصاب تعلیم پورے ملک میں لاگو کرنے کا اعلان کیا ماسوائے سندھ کے۔ یکساں نصاب تین مرحلوں میں نافذ کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں پہلی سے پانچویں جماعت تک تمام سرکاری و نجی اسکولوں اور مدرسوں میں ایک ہی نصاب پڑھایا جائے گا۔ اگلے سال سے چھٹی سے آٹھویں جماعت تک اور پھر 2023 سے نویں سے بارہویں جماعت تک یکساں نصاب کا قانون نافذالعمل ہو گا۔

سب سے پہلے بات اگر اس کی آئینی حیثیت کی جائے تو اس میں ایک بنیادی سقم اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے ہے۔ 2010 میں پاس ہونے والی اس ترمیم کی رو سے تعلیم کا شعبہ خالصتاً ایک صوبائی معاملہ ہے اور وفاق اس سلسلے میں کوئی یک طرفہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔ لیکن اس معاملے میں غیر جمہوری رویہ اپناتے ہوئے آئین پاکستان کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سندھ کے علاوہ تمام صوبوں نے اس حوالے سے کوئی مزاحمت نہیں کی جو ایک باعث تشویش امر ہے۔

آئین کے آرٹیکل 25۔ اے کی رو سے ریاست پانچ سے سولہ برس کے تمام بچوں کو مفت تعلیم مہیا کرنے اور آرٹیکل 22 کے تحت بنا کسی ذات پات، رنگ، نسل، مذہب کی تفریق کے تعلیم مہیا کرنے کی پابند ہے۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے اور یہ تعداد تقریباً 2 کروڑ تک بنتی ہے۔ اب عوام کے ان بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ختم کیے بغیر یکساں نصاب تعلیم کا نفاذ اور اس کی کامیابی کی امید رکھنا ایک دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔

یکساں نصاب تعلیم کی ساخت، نافذ کرنے کے طریقہ کار اور مستقبل پر پڑنے والے اس کے اثرات پر طائرانہ نظر ڈالتے ہی اس کی سطحیت اور قلیل فہمی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ گویا غلطیوں کا ایک پلندا ہے۔ اس کا نظریاتی پہلو سمجھ سے بالاتر ہے۔ سائنس اور مذہب جیسے دو مختلف مضامین کو غیر ضروری طور پر آپس میں لڑانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بجائے درست طور پر آپس میں نتھی کرنے کے، ان کو آپس میں غیر ضروری طور پر گڈ مڈ کیا گیا ہے۔

گویا مذہبی اور سائنسی تفاوت کو ہوا دی گئی ہے جس سے مذہبی اور سائنسی حلقوں میں خلیج بڑھی ہے۔ خالصتاً سائنسی مضامین میں مذہبی تاویلات ڈالنے اور مذہبی کتابوں کو مزید بہتر نہ بنانے کی روش اس معاشرے کے علمی توازن میں بگاڑ پیدا کر سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق SNC کے تحت سائنسی نصاب کو دیکھنے اور اس میں ممکنہ ردو بدل کے لیے علماء کا ایک بورڈ تشکیل دیا جا رہا ہے اور بائیولوجی کی بعض تصاویر کو فحاشی پھیلانے کے ”جرم“ میں کتابوں سے حذف کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ پاکستانی سماج کی ترقی اور نیک نامی پر اس کے جو اثرات مرتب ہوں گے آپ ان کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں۔

یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے بعض اعتراضات یہ بھی ہیں کہ یہ موجودہ حالات کو پس پردہ ڈالتے ہوئے اور پاکستانی معاشرے کی ساخت کو نظرانداز کرتے ہوئے سماج کو ریڈیکلائز کرنے اور اسلامی بنیاد پرستی کو مضبوط اساس فراہم کرے گا۔ شاید یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ آنے والا وقت ہی درست فیصلہ کر سکتا ہے۔ تاہم ہمارے ملک کی تاریخ اس حوالے سے مثبت اشاریے نہیں رکھتی۔

ایک اور تشویشناک پہلو جو سامنے آیا ہے وہ یہ کہ سائنسی اور تحقیقی مواد کو ایک خاص نکتۂ نظر سے دکھانے اور اس کی خالص روح کو مارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ گویا غیر جانبداری، جو سائنس کا خاصہ ہوا کرتی ہے، وہ اب نہیں رہے گی۔

اقلیتوں کے حوالے سے ایک امید افزا پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کے حوالے سے اسلامیات کی جگہ جو مضمون رکھنا چاہیں، وہ رکھ سکتے ہیں۔

اگر یکساں نصاب تعلیم کے تحت بچوں کی کتابوں اور مواد کی مقدار کے حوالے سے بات کی جائے تو وہ بھی حکومت کی غیر عقلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہم یہاں تیسری جماعت کے نصاب پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں جس کے نصاب میں شامل دعاؤں اور اخلاقی آداب و اقدار کی تعداد تنظیم المدارس اور رابطہ المدارس کے نصاب میں شامل دعاؤں اور اخلاقی مواد سے بھی زیادہ ہے۔ ایسا یقیناً دیگر مضامین میں بھی ہے۔ پرنٹنگ پریس کی غلطیاں مگر اس کے علاوہ ہیں۔

یکساں نصاب تعلیم کو سب کے لیے قابل قبول کیسے بنایا جائے؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ سب سے پہلے تعلیمی معاملات اور امور کی باگ ڈور خالصتاً تعلیمی ماہرین اور بچوں کی نفسیات سے واقف لوگوں کے ہاتھ میں دی جائے۔ موجودہ حکومت کے بقول یکساں نظام تعلیم کے حوالے سے بین الاقوامی ماہرین کی رائے لی گئی ہے لیکن ان ماہرین کی رائے کو کتنی اہمیت دی گئی ہے اور اس پر کس حد تک عملدرآمد کیا گیا ہے، اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔

یکساں تعلیمی نصاب کو نافذ کرنے سے پہلے تمام مکاتب فکر بالخصوص تمام جمہوری اداروں، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور والدین کو شامل کیا جائے۔ یکساں نظام تعلیم کے حوالے سے معاشرے کے باشعور طبقے میں پائی جانے والی بے چینی کا سد باب کیا جائے۔ موجودہ نصاب کو جدید دنیا کے بدلتے تقاضوں اور تاریخی سچائیوں کے عین مطابق ترتیب دیا جائے۔ بنیاد پرستی پھیلانے، ہمسایہ ملک افغانستان کو نظریاتی سپورٹ دینے اور جانبدارانہ سیاسی و عسکری نصاب کو لاگو کرنے کی بجائے اگر صرف ترقی یافتہ مسلم ممالک کے نصاب کو ہی ایک نظر دیکھا جائے تو کثیر سوالات کے جوابات مل سکتے ہیں۔ مزید برآں پاکستان کو کسی بھی قسم کی نظریاتی و دینی تجربہ گاہ بنانے سے گریز کرتے ہوئے ایک خالص ترقی یافتہ ریاست بنانے کی کوشش کی جائے۔ صرف اسی صورت میں ہمارا ملک دنیا کے مہذب ملکوں کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

فضل خان جوئیہ کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments