طالبان: عبوری یا ادھوری حکومت؟
بلاشبہ یہ خدشہ بعید از قیاس نہیں کہ طالبان کے زیر سایہ افغانستان میں غذائی قلت، بے روزگاری، عدم تحفظ، صنفی امتیاز۔ فرقہ وارانہ عدم برداشت۔ ادویات کی فراہمی، معاشی عدم استحکام کی وجوہات کی بنا پر بہت سے انسانی المیے جنم لے سکتے ہیں لہذا ہمسایہ ممالک اور بالخصوص دنیا افغان عوام کے ممکنہ مصائب کا قبل از وقت تدارک کرنے کے لئے ہنگامی امدادی اقدامات کرے، دنیا بھر کے انسان یقیناً ان امکانی خدشات کو تشویش سے دیکھ رہے ہیں اور یقیناً وہ افغان عوام کے ہمدرد بھی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ متذکرہ خدشات یا انسانی المیوں کی وقوع پذیری کے بنیادی عنصر کو اس کا احساس کرنے یا حالات کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت نہیں؟ عالمی سطح پر طالبان حکومت کو تسلیم کرانے ان کی معاونت کرنے یا ان کے منجمد شدہ اثاثے (وہ ان کے ہیں یا امریکہ کے عطا کردہ) بحال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اگر پاکستان کے حکمران (اقتدار اور اختیار کے دونوں حلقے) طالبان پر بھی دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنے عوام کو امکانی مصائب میں مبتلا کرنے سے گریز کریں دنیا کے ہم قدم ہو کر چلیں اور ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جن کی بنا پر افغانستان اور افغان عوام عالمی تنہائی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ طالبان افغانستان کو دنیا سے الگ تھلگ ایک سیاسی جزیرہ بنانے کی بجائے ایک خود مختار، مستحکم خوشحال اور ترقی کرتے ملک و سماج میں ڈھالیں۔
دوشنبے میں طالبان کی حکمرانی کی حمایت میں اسلام آباد کی تنہا آواز تھی، دیگر ممالک انسانی المیوں کے خدشات کو فوقیت دے رہے تھے۔ کانفرنس کے شرکا طالبان سے (وسیع البنیاد) حکومت بنانے اور تمام افغان دھڑوں کو شریک اقتدار کرنے کی شرائط پر مصر تھے۔ جناب وزیراعظم عمران خان نے تاجک صدر کو تجویز دی کہ وہ افغانستان کے تاجکوں سے رابطہ کر کے انہیں طالبان کے ساتھ شریک اقتدار کرنے آمادہ کریں یا مصالحتی کردار ادا کریں۔
اپنے لیے انہوں نے افغان پشتون دھڑوں اور طالبان کے درمیان افہام و تفہیم و باہمی تعاون پر آمادہ کرنے کا فریضہ ادا کرنے کا عندیہ دیا۔ بہتر ہوتا کہ اس کانفرنس میں پاکستان تمام افغان دھڑوں کو اسلام آباد مدعو کر کے ایک وسیع البنیاد حکومت کے لئے سفارت کاری کرنے کا اعلان کرتا۔ ویسے بھی 15 اگست کے بعد شمالی اتحاد کی ساری قیادت پاکستان آ گئی تھی وہ اب کہاں ہے؟ اگر وہ اسلام آباد میں مقیم ہیں تو طالبان اور ان کے درمیان اختلافات دور کرانے میں بہت آسانی ہو سکتی ہے۔
افغانستان میں ممکنہ خدشات اور دہشت گردی پھیلنے کے خطرات کی دہائی دے کر افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت تسلیم کرانے کی کوششیں رائیگاں جائیں گی کیونکہ اس دلیل میں چھپی ”دھمکی“ مہذب ملکوں کو ہمدردانہ غور کے برعکس خوفزدہ کر سکتی ہے یہ انداز وکالت اور استدلال مغربی دنیا کے خدشات کو تقویت دے گا۔
امریکی وزیر خارجہ کے بیان سے پاکستان کے اقتدار و اختیار کے دونوں مراکز کو اپنے تمام اقدامات اور پرجوش بیانات کا از سر نو تنقیدی جائزہ لینا چاہیے۔ امریکہ بھارت آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ پر مشتمل چار ممالک کا اتحاد۔ اپنی نہج میں شنگھائی تعاون کانفرنس کے اغراض اور جنوب ایشیائی ممالک کی حالیہ نئی باہمی معاشی تعاون کی صف بندی کے خلاف ایک تدارکی اقدام ہے۔ طالبان کی فتح کے ترانے گانے کا مطلب امریکہ اور اتحادیوں کو شکست کے طعنے دینے کے منفی اثرات آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ اتحادیوں میں پاکستان بھی تو شامل تھا۔
جنرل مشرف کی پالیسی کی بنا ہی پاکستان امریکہ کا غیر نیٹو اتحادی ملک قرار پایا تھا چنانچہ طالبان کو فاتح کہنے کا مطلب منطقی طور پر ”پاکستان“ کی شکست کی صورت نکلتا ہے اگر طالبان فاتح اور اتحادی شکست خوردہ ہیں تو پاکستان کس پلڑے میں شمار ہو گا؟ اگر ہم فاتح (طالبان) کے لئے پر جوش رہیں گے تو یہ الزام درست سمجھا جائے گا کہ پاکستان نے 9 / 11 کے بعد اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرار کی حمایت تو کی بظاہر اتحادی افواج کا ساتھی بھی بنا مگر اس کی حقیقی دلی ہمدردیاں طالبان کے ساتھ تھیں۔ امریکی وزیر خارجہ اور دیگر امریکہ اراکین پارلیمان کی تنقید میں پاکستان کے اسی طرز کے دوغلے پن کو نمایاں بنا کر امریکہ کی ”پسپائی“ کا جواز تراشا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت کا از سر نو جائزہ لینے اور پاکستان کے خلاف اقدامات کی سفارتی دھمکی دے چکے ہیں۔ جو قابل مذمت تو ہے لیکن اس میں ہمارے لیے تشویش کا سامان بھی ہے نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا پاکستان پہنچ کر سیریز منسوخ کرنے کا فیصلہ امریکہ کے متذکرہ بالا ”اقدامات“ کا نکتہ آغاز ہو سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ ٹیم کا دورہ جس دھمکی پر منسوخ ہوا ہے وہ 20 اگست 2021 کو مفرور ٹی ٹی پی رہنما احسان اللہ احسان نے اپنی ٹویٹ کے ذریعے جاری کی تھی جس کا لب و لہجہ دھمکی کی بجائے دوستانہ تنبیہ پر مبنی تھا یہ ٹویٹ پیچیدہ صورتحال کی بہت سہل وضاحت بھی کرتا ہے سوال یہ ہے کہ اس ٹویٹ پر 20 اگست کو غور کیوں نہیں کیا گیا؟
اگر یہ ٹویٹ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیز کی نگاہوں سے اوجھل رہی تو پیشہ ورانہ غفلت تھی اور اگر اسے نظر انداز کیا گیا تو یہ تجاہل عارفانہ کہلائے گا۔ اگر نیوزی لینڈ حکومت (20 اگست کے بعد) ہی کرکٹ ٹیم کا دورہ منسوخ کر دیتی تو یہ ایک معمولی قدم ہوتا۔ مگر انہوں نے دھمکی، جیسا کہ بتایا جا رہا، ملنے کے بعد بھی ٹیم پاکستان روانہ کردی لیکن میچ شروع ہونے ذرا قبل دورہ منسوخ کر کے اس اقدام کو دھماکہ خیز خبر بنانا پسند کیا گویا امریکہ، کینیڈا برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے پاکستان میں گھس کر وار کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر اپنے منصوبے پر عمل کر کے دنیا کو پیغام دیا گیا کہ پاکستان غیر محفوظ ملک ہے جہاں القاعدہ کا نیٹ ورک موجود ہے۔
میرے لیے کرکٹ میچ کی منسوخی سے زیادہ یہی تشویشناک پہلو ہے جسے ہمارے سرکاری احتجاجی ردعمل میں پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ طالبان حکومت کو قانونی تسلیم کروانے کے لیے ہماری جدوجہد اور طالبان کا رجعتی حکمرانی پر اصرار باہم مل کر پاکستان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ کیا نیوزی لینڈ کے بعد برطانیہ کی ٹیم کا پاکستان آنا ممکن رہ گیا ہے؟ یقیناً اس سوال کا مثبت جواب آسان نہیں۔ یاد رہے 15 اگست اور 20 اگست میں صرف پانچ دن کا فاصلہ تھا۔
15 اگست کے بعد افغانستان طالبان کی گرفت میں آ گیا۔ امید کی جا رہی تھی کہ وہ ماضی کے بر عکس نیا بدلا ہوا مثبت رویہ اپنائیں گے مگر ایسا ہوا نہ ہی ایسا ہونے کا فی الحال کوئی امکان ہے۔ 20 اگست اب بہت پیچھے رہ گیا ہے طالبان نے کابل پر اپنی واحد گروہی حکومت قائم کرلی ہے جسے عبوری حکومت کا عنوان دیا گیا ہے جبکہ صدارت کا منصب تاحال خالی ہے شاید اسے امیر المومنین کے عہدہ جلیلہ سے بدل دیا جائے افغانستان کا آئین بھی بوٹ کا تسمہ بن چکا۔ دریں حالات اگر میں موجودہ طالبان حکومت کو عبوری کی بجائے ادھوری کہوں تو کیا یہ غلط بات ہو گی!
اس نقطے کو اس تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے جو دو شنبے کانفرنس سے نمایاں ہو کر ابھرا ہے۔ تمام ہمسایہ ممالک نے افغانستان میں موجود حکومتی سانچے کو قبول کرنے سے معذرت کرلی ہے اور کم وبیش ویسی ہی شرائط پیش کی ہیں جیسی مغربی دنیا اور دیگر ممالک کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکمران مسلسل طالبان حکومت تسلیم کرانے کی مہم چلا رہے ہیں۔
26 ستمبر سے شروع ہونے والے برطانیہ کے دورے سے قبل ہی وزیر خارجہ جناب شاہ محمود نے بیان دے دیا ہے، جس میں برطانیہ اور مغربی دنیا سے افغانستان کی ”حقیقت“ قبول کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس عالی دماغ مشورے کے بعد دورہ برطانیہ کی افادیت بہت کم رہ گئی ہے وزیر خارجہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ”ہمیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کام کرنے دیں“ ان کے خیال میں طالبان کو الگ تھلگ کرنے سے خطے میں انتشار پھیلے گا۔ یہ بات درست ہے تو میری رائے میں یہ امر امریکی مفادات کے لیے محوری نقطہ ہے تو وہ کیونکر اپنے اتحادیوں کو خطے میں استحکام کے لیے معاونت کی اجازت دے؟ ویسے طالبان حکومت تسلیم کرنے سے جنوب ایشیائی منطقے میں امن سلامتی و استحکام بارے تاحال کسی جانب سے یقین ظاہر نہیں کیا گیا۔
لگتا ہے جناب شاہ محمود لندن میں افغان طالبان کے لئے سفارتکاری کرنے جا رہے ہیں کیا یہ عمل افغانستان میں طالبان کی ”جانبداری“ ثابت نہیں کرتا؟ یہ بھی کہ وہ اپنے لئے سفارتی مہم چلانے کے اہل نہیں؟ لیکن دو حا میں کامیابی سے مذاکرات کر سکتے ہیں! طالبان کو افغانستان میں ایک بڑا چیلنج یہ بھی درپیش ہے کہ انہیں افغان عوام کی بڑی تعداد پاکستان کا پراکسی اثاثہ قرار دیتی ہے جبکہ طالبان اس منفی تاثر کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
امریکہ نے باضابطہ طور پر پاکستان کو طالبان حکومت تسلیم کرنے میں عجلت سے اجتناب کی دھمکی دی ہے۔ اسی لیے اسلام آباد نے تاحال طالبان حکومت کو با ضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا جو مناسب بات ہے۔ پھر کیا جناب شاہ محمود لندن پہنچ کر امریکی دھمکی کی دھجیاں اڑانے کا احمقانہ شوق پورا کریں گے۔ ؟
میرے خیال میں پاکستان طالبان سے تین توقعات رکھتا ہے (1) وہ افغانستان میں بھارتی رسوخ بحال نہ ہونے دیں (2) موجودہ بین الاقوامی سرحد کو باضابطہ تسلیم کر لیں (3) افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی قیادت /تنظیم کی موجودگی /فعالیت ختم کریں۔ دکھ کی بات ہے اشرف غنی دور میں گرفتار کیے گئے ٹی ٹی پی رہنماؤں بشمول ملا فقیر کو جیل سے طالبان نے رہا کیا ہے۔ سابقہ حکومت جس کے ساتھ اسلام آباد، خوشگوار تعلقات کے قیام کا پر عزم مدعی تھا اور اسے غیر مستحکم کرنے کے کسی بھی اقدام سے لاتعلقی ظاہر کرتا تھا اسی دور میں پاکستان کے مطلوب ملزمان گرفتار کیے گئے تھے۔ اشرف غنی حکومت ختم کیے جانے کے بعد اسلام آباد اشرف غنی پر نااہلی کے الزامات عائد کر رہا ہے۔ باریک بینی سے غور کریں اس گیم میں سبھی دوہرا کردار ادا کر رہے تھے۔
طالبان دیگر سیاسی یا قومیتی اکائیوں کو اقتدار میں شریک کر پائیں گے یا نہیں اس بارے شکوک موجود ہیں تاہم ابھرتے مفادات کے تضادات بتاتے ہیں کہ طالبان اپنا اتحاد بھی شاید برقرار نہ رکھ پائیں اور افغانستان ایک بار پھر 90 کی دہائی کے اوائل جیسی برادر کشی کا شکار ہو سکتا ہے۔


