”داڑھی والے“ کا پورٹریٹ
ایک روز میں اپنے گھر میں بیٹھا دفتر کا کام کر رہا تھا۔ باہر دروازے پر دستک ہوئی۔ ایک تکنیکی مسلے کے ممکنہ حل پر غور کرتا میں گلی میں پہنچا۔ میرے نام پر ایک پارسل آیا ہوا تھا۔ کھول کر دیکھا تو اندر سے دیدہ زیب سر ورق کے ساتھ ایک عمدہ کتاب برآمد ہوئی۔ یہ حسنین جمال کی کتاب ”داڑھی والا“ تھی۔ دو دن پہلے میں نے بک کارنر جہلم کی ویب سائٹ سے آن لائن آرڈر کی تھی۔
میرے ذہن میں یک لخت تین سوچیں داخل ہوئیں۔ میرے ذہن نے دفتری کام کو عارضی طور پر ایک طرف رکھا اور ان تین سوچوں کو قطار میں کھڑا کر کے ایک ایک کر کے سوچنا شروع کر دیا۔
پہلی سوچ نے یاد کا ایک دریچہ کھول دیا۔ حسنین جمال سے پہلا تعارف ”ہم سب“ پر ہی ہوا تھا۔ بلاگ اور کالموں کی بھیڑ میں میں ان کی تحریر پر اچانک آ کر رک گیا تھا۔ ان کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟ شاید دلوں کے معاملات کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں!
ان کے لفظوں میں اپنا بچپن کھیلتا ہوا نظر آیا۔ ان کے جملوں میں ہم جولیوں کے قہقہوں کی باز گشت سنائی دی۔ پھر انھیں سوشل میڈیا پر فالو کرنا شروع کر دیا۔ ایک تصویر میں ان کی کتابوں کی کلیکشن دیکھی تو مجھے اپنے گھر کی لائبریری یاد آ گئی۔ افسوس کہ وہ گردش زمانہ کی نذر ہو چکی تھی۔ اس باغ کا مالی اسے داغ مفارقت دے چکا تھا۔ دل سے یہی دعا نکلی کہ حسنین بھائی کا علمی آنگن سدا شاد باد رہے۔
یقینا، دلوں کے معاملات ایسے ہی ہوتے ہیں۔
دوسری سوچ نے ایک ارادہ کو اپنے اندر چھپایا ہوا تھا۔ جی ہاں، میں نے یہ کتاب پڑھنے کے لیے ہی منگوائی تھی۔ میں نے اسے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ اس کا معیار واقعی دیدنی تھا۔ میں نے فہرست پر نظر دوڑائی۔ وہی پر تکلف موضوعات، وہی فکر انگیز عنوانات۔
میں نے ”ہم سب“ پر ان کا پیج بک مارک کیا ہوا تھا۔ گاہے گاہے ان کی کوئی تحریر پڑھ لیتا تھا۔ اس کتاب نے میری مشکل آسان کر دی۔ مگر ایک مسئلہ بھی تھا۔ کافی عرصے سے میں نے کاغذ پر پڑھنا چھوڑ رکھا تھا۔ میرے مطالعے کی عادات زمانے کے ساتھ ساتھ جدید ہو گئی تھیں۔ اب موبائل اور کمپیوٹر کی سکرین پر تھوڑی بہت لکھائی پڑھائی ہو جاتی ہے۔
یا یوں کہیے کہ زیادہ پڑھائی اور تھوڑی سی لکھائی۔ ویسے لکھنے کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بندہ کتابوں کا شوقین ہو تو لکھنے کی طرف بھی آہی جاتا ہے۔ جیسے بھرے ہوئے گلاس سے پانی چھلکنے لگتا ہے۔ بس ہمارا لکھنا لکھانا بھی چھلکنے سے زیادہ کچھ نہیں۔
مگر وہ کتاب میری آنکھوں کے سامنے ہی رہی۔ گویا میرے دل کی یہ آرزو تھی:
رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے۔
تیسری سوچ نے خواہش کی ایک شمع روشن کر دی۔ مجھے کتاب کا سرورق بہت پسند آیا تھا۔ میں اسے پینٹ کرنا چاہتا تھا۔ میرے ذہن میں اچانک ایک خیال آیا۔ کیوں نہ حسنین بھائی سے رائے معلوم کی جائے؟ مگر میں ان سے کہوں گا کیا؟ میں آپ کا ایک فیس بکی دوست ہوں۔ خدایا، سوشل میڈیا نے یہ کیسی مصیبت کھڑی کر دی ہے؟ کوئی بھی کہیں سے اٹھ کر کہہ سکتا ہے : میں آپ کا دوست ہوں!
مگر حسنین بھائی نے میرے ساتھ شفقت کا معاملہ کیا۔ انہوں نے میرے کام کو سراہنے کے ساتھ ساتھ اپنا پورٹریٹ بنانے کی اجازت بھی دے دی۔
پھر مجھے دفتری اور گھریلو مصروفیات آڑے آتی رہیں۔ میرا ذہن ”داڑھی والے“ کے نین نقش ماپتا رہا۔ اس چہرے کے پیچھے کیا چھپا ہے یہ جاننے کے لیے میں نے پھر فیس بک کا سہارا لیا۔ میں نے ان کو ایک بھرپور کردار پایا جس کے خاکے کو اب میں سرمئی رنگوں سے بھرنے جا رہا تھا۔ اور پھر مجھے ایک ویک اینڈ پر فراغت میسر آ گئی اور میں نے پورٹریٹ مکمل کر لیا۔
سو اس لفظی خاکے کے ساتھ ”داڑھی والے“ کا بصری پورٹریٹ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔



