کیکر، ٹکر، ذکر اور فکر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین کی ایک کہاوت کے مطابق ہم زمانے کے ہنگامہ خیز دور میں زندہ ہیں۔ ہر لحظہ کچھ نہ کچھ نیا وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں جدید دور کی زندگی بہت عجیب ہے۔ ہرطرف ایک ہجوم سا ہجوم ہے۔ پہلے بندہ دیہات جاتا تھا تو سبزہ اور دیگر اجناس دیکھ کر روح کو سکون ملتا تھا۔ اب گاؤں میں اکثر مقامات پر جنگلی کیکر ہی نظر آتے ہیں۔ جنگلی کیکر اتنی تیزی سے پھیل رہے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ خالی اور بنجر زمین پر کیکر اتنی تیزی سے کیسے نشوونما پا جاتے ہیں۔

شہر میں ہر چینل پر ہر وقت، ہرطرف، ٹکر ہی ٹکر۔ نظر آتے ہیں۔ چینلز پر چلنے والے ٹکرز دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ یہ کہاں سے آ گئے اور کیوں کر آ گئے۔ کیکر اور ٹکرا تو آسانی سے جاتے ہیں مگر ان کا جانا اکثر اوقات اتنا آسان نہیں ہوتا۔ خود رو کیکر اچھے خاصے گاؤں کا حسن تباہ کر دیتے ہیں۔ بہت سارے خود رو ٹائپ ٹکرز بھی اکثر اوقات اچھے خاصے بندے کا موڈ تباہ کر دیتے ہیں۔ چاہے کتنا ہی مزیدار پروگرام چل رہا ہو، اس کا حسن بھی تباہ کر دیتے ہیں۔ بہت سے کیکر اور ٹکرز کے بارے میں بھی ماہرین کا خیال ہے کہ ان کا نہ ہونا، ہونے سے بہت بہتر ہوتا۔

بریکنگ نیوز کا مطلب میرے ایک دوست یہ بتاتے ہیں کہ جس نیوز کو بریکنگ نیوز کا درجہ پاتے دیکھ کر بندے کا دل بریک ہو جائے، اس کے عقل و فہم کو بریک لگ جائے۔ اپنے تمام الیکٹرانک آلات اور سر بیک وقت بریک کرنے کو دل کرے، دراصل وہی بریکنگ نیوز ہوتی ہے۔ کئی دفعہ ہمارے ہاں صرف بریکنگ نیوز ہی چل رہی ہوتی ہے اور عام نیوز کی باری کئی کئی دن نہیں آتی۔ ایک شاعر نے کہا تھا کہ ضروری نہیں ہر آدمی انسان بھی ہو۔ بریکنگ نیوز کو بھی اکثر اوقات نیوز ہونا میسر نہیں ہوتا۔

ایک شاعر نے اپنے ذکر پر رشک کا اظہار کیا تھا۔ وجہ یہ بتائی تھی کہ وہ اپنے محبوب کی محفل میں موجود ہویا غیر حاضر ہو، اس کا ذکر مگر محبوب کی مجلس میں ہوتا رہتا ہے۔ بہت سے لوگ کسی نہ کسی چینل سے ہر وقت کسی نہ کسی چینل پر خود موجود ہوتے ہیں ورنہ ان کا ذکر کسی نہ کسی چینل پر کسی نہ کسی حوالے سے ہو رہا ہوتا ہے۔ کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو کسی چینل سے بچنے کے لئے اپنے تمام چینلز استعمال کرتے ہیں مگر پھر بھی ان کا ذکر کا ٹکر کہیں نہ کہیں چل ہی رہا ہوتا ہے، اگرچہ یہ معاملہ ان کے لئے بہت ہی باعث فکر ہوتا ہے۔ اردو کا مح اور ہ ہے ”ایک ہاتھ ذکر پر دوسرا ہاتھ فکر پر “ ۔

گئے وقتوں میں بلو کے لونگ کے لشکارا جب پڑتا تھا تو ہالی اپنے ہل روک لیتے تھے۔ آج کل کسی چینل کے ٹکر کا لشکارا بعض اوقات کسی کی زندگی روک دیتا ہے۔ ”رائی کا پہاڑ بنانا“ تو پرانی بات ہے۔ آج کے دور میں کسی ہرجائی کو قصائی بنانا اور کسی دوست کو دیوتا بنانا قطعاً مشکل نہیں ہے۔

ٹکر، ذکر اور فکر میں عجیب رشتہ ہے۔ کسی کا ٹکر نہ چلے تو اسے فکر ہوجاتی ہے جبکہ کسی کا ٹکر چل جائے تو وہ ہر وقت یہی فکر کرتا رہتا ہے کہ میرے نام کا ٹکر کیوں چل گیا اور اس فکر میں وہ اور کسی چیز کا ذکر کرنا بھول جاتا ہے۔ ایک صاحب حال بزرگ کا کہنا ہے چلا ہے جو ٹکر، تو کچھ نہ کچھ باعث ٹکر بھی ہو گا۔ بہت سے لوگ یہ دہائی دیتے رہ جاتے ہیں۔ :

ٹھہرے جو میرا ذکر ضروری تو کسی طور
میرے لیے مخصوص کوئی باب نہ کرنا

کچھ عرصہ پہلے تک خبر کے معیار اور اپنے ذاتی وقار پر سمجھوتے کا رواج قطعاً نہ تھا۔ آج بھی بہت سے لوگ اس روایت کے امین ہیں۔ وہی آنے والی نسلوں کے من کے مکین ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مگر دشمنوں کی کردار کشی رفتہ رفتہ معمول بنتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت جھوٹ کو ہر لحظہ بڑھوتری مل رہی ہے۔ سچ کو پہچاننا مشکل ہی نہیں ناممکن کر دیا جاتا ہے ۔ ہمارے مذہب میں کسی پر جھوٹی تہمت لگانا گناہ کبیرہ ہے۔ کسی شخص کے بارے میں برا گمان رکھنا بھی شدید نا پسندیدہ ہے۔

ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ایک انسان کے لئے اتنا گناہ ہی کافی ہے وہ دوسرے کو حقیر سمجھے۔ ایک دوسرے کے جان و مال اور عزت کی حفاظت ہم پر فرض کر دی گئی ہے۔ معاشرے کی موجودہ روش دیکھ کر بعض اوقات یہ لگتا ہے کہ رواداری اور باہمی احترام کی ہماری درخشاں روایت جلد ہی قصہ پارینہ بن جائے گی۔ گالم گلوچ کبھی بھی ہمارے کلچر کا حصہ نہیں رہا۔ ہمارے ہاں لکھنو اور دہلی کی تہذیب ایک مثال کا درجہ رکھتی ہے۔ اس دور میں تلخ ترین گفتگو کے دوران مخالف کے احترام کو پوری طرح ملحوظ خاطر رکھا جاتا اور کوئی بھی لفظ اسے بہت بوجھل نہیں لگتا تھا۔

آئیے ہم عہد کریں کہ اپنے بزرگوں کے ورثے کی حفاظت کریں گے۔ ہمیشہ دشنام طرازی سے گریز کریں گے۔ مومن وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ ہمیشہ محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کی زبان کے شر سے اور دوسروں کو ہماری زبان کے شر سے سدا محفوظ رکھے۔ آمین۔

من کیکر کی ایک ٹہنی، صندل کر مولا
پھر صندل کو صندل کا جنگل کر مولا
ایک عمر ہوئی ہے سارا تن من راکھ ہوئے
اب دھوپ بھرے ملبوس کو بادل کر مولا

(کالم نگار نشتر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کا حصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر، چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں )


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments