میرے شہر جام پور کا نوحہ، بنام وزیراعلی پنجاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قارئین کرام کو آگاہ کرتا چلوں کہ یہ کالم کسی سیاسی موضوع پر نہیں بلکہ میرے اپنے علاقہ کا نوحہ ہے۔ گزشتہ دن میری کالونی کے وٹس ایپ گروپ میں کالونی کے مسائل کے حوالے سے چند پیغامات آئے جنہوں نے میری نوے کی دہائی کے اواخر کی بچپن کی یادیں تازہ کر دیں۔ ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی اور اس کے دریائے سندھ کے کنارے پرسکون اور صاف ستھرے گاؤں کو آج تک نہیں بھول پایا۔ مجھے یاد ہے کہ جتوئی میں ہمارے گھر کو آنے والی گلی اس وقت بھی پختہ تھی جبکہ بجلی کے پول کا بھی گھر سے فاصلہ چند گز پر مشتمل تھا۔ اسی طرح ٹیلی فون لائن کی بھی سہولت دستیاب تھی۔

پھر گوناگوں وجوہات کے باعث ضلع راجن پور کی تحصیل جام پور میں منتقل ہونا پڑا۔ جس کے بعد پکی گلیوں، بجلی کی آسانی سے دستیابی اور سیوریج سسٹم کی صورت میں ملنے والی سہولتوں کی صحیح معنوں میں قدر ہوئی۔ دیکھا جائے تو جام پور سابق صدر فاروق لغاری، ان کے صاحبزادے سابق وفاقی وزیر اویس لغاری اور موجودہ ایم این اے جعفر لغاری کی بلاشرکت غیرے جاگیر رہا ہے۔ اس کے باوجود شہر کی یہ صورتحال ہے کہ 70 فیصد ایریا بنیادی سہولیات یعنی کہ سیوریج سسٹم، بجلی، صاف پانی، پکی گلیاں اور پختہ سڑکوں سے محروم ہے۔ بیس سال پہلے شہر کو قبائلی علاقہ جات اور یہاں کے حکمران لغاری برادران کے آبائی علاقے کو جوڑنے کے لئے سڑک کی تعمیر کا آغاز ہوا جو صرف بجری ڈال کر چھوڑ دیا گیا۔

اس سڑک کی تعمیر کا کام بیس سال کی تگ و دو ، منتوں مرادوں کے بعد چار ماہ پہلے شروع ہوا، طے یہ پایا کہ پوری روڈ تو نہیں مگر آبادی سے جڑے بمشکل تین کلومیٹر کے ٹکڑے کی توسیع اور مرمت کی جائے گی۔ مگر اس مرمت میں پہلے پہل تو با اثر افراد کی تجاوزات آڑے آئیں۔ جو کہ انتظامیہ کو درخواستیں اور احتجاج کے بعد دور ہو گئیں۔ اگلا مرحلہ تھا تعمیراتی کام کا ، اب پاکستان کیا بلکہ جنوبی ایشیاء کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں سب سے زیادہ پیسہ سڑکوں اور سرکاری عمارات کی تعمیر میں حاصل کیا جاتا ہے۔ سرک کی تعمیر اور توسیع کی زد میں کئی مکانات اور دکانیں آئیں جنہیں ماڑے لوگوں نے تو خود ہی توڑ دیا۔ اب ایس او پیز کے مطابق تو سڑک کی تعمیر کے موقع پر ڈالی جانے والی، ریت، بجری اور روڑے ڈالنے کے بعد رولر کوسٹر کے ذریعے اسے پریس کیا جاتا ہے ساتھ ساتھ ہی پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا جاتا ہے۔ جس کا مقصد ڈالی گئے میٹریل کو مضبوط کرنا اور گردونواح کو گرد و غبار سے بچانا ہوتا ہے۔

مگر یہاں الٹا ہی ہوا کہ جس دن سے سڑک کی تعمیر ہو رہی اس دن سے نہ تو چھڑکاؤ کیا گیا اور نہ ہی اس تندی سے کام ہو رہا ہے جو ایک مختصر سے ٹکڑے کی تکمیل کے لئے درکار ہوتا ہے۔ اب میدانی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں گرمی اور تیز ہوائیں چلنے کا سلسلہ تو اس موسم میں جاری رہتا ہے۔ اس دفعہ یہ ہوائیں دراصل گردوغبار کے بگولے بن کر سڑک کنارے موجود دکانوں، سکولوں اور مکینوں کے لئے اذیت کا باعث بن رہی ہیں۔ گردوغبار سے سانس کی بیماریاں پھیل رہی ہیں، جبکہ دمہ کے مریضوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹھیکیدار کو بار بار کی درخواست کے باوجود کوئی افاقہ نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ مقامی انتظامیہ کو خود اس تعمیراتی کام کی نگرانی کرنی چاہیے مگر چھوٹے شہر میں کہاں افسر اے سی والوں کمروں سے نکلتے ہیں۔

اسی کے ساتھ ساتھ میری اپنی کالونی اور گھر کی گلی میں تیس سال سے قائم آئل مل جو کہ سیزن میں تو چلتے ہوئے آلودگی اور انڈسٹریل ویسٹ کے باعث بیماریوں کا باعث بنتی ہی ہے۔ وہیں تمباکو کے موسم میں اس فیکٹری کو تمباکو سٹاک کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ میرا کوئی قاری یا مدیر صاحب اگر گاؤں سے ہیں تو انہیں اندازہ ہو گا کہ ہمیشہ تمباکو آبادی سے دور سٹاک کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے نکلنے والی زہریلی گیسیں اور گرمی آبادی کے لئے مضر صحت ہوتی ہیں۔ مگر گنجان آباد رہائشی علاقے میں موجود اس فیکٹری سے اٹھنے والی زہریلی گیسوں کی وجہ سے ہر سیزن میں سکول جانے والے چھوٹے بچوں کی بے ہوشی اور دمہ جیسی بیماریوں کے واقعات ہوئے ہیں۔

اس فیکٹری کے شہری آبادی میں وجود اور تمباکو کے سٹاک پر کئی دفعہ درخواستیں دی گئیں مگر فیکٹری مالک با اثر اور پیسہ والا ہونے اور آبادی کا سیاسی اثر و رسوخ نہ ہونے کی وجہ سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ الٹا فیکٹری مالک کی جانب سے تضحیک اور دھمکیوں کا نشانہ ہی بنایا گیا۔ آج کل اس فیکٹری کا انڈسٹریل ویسٹ کو زہریلے پانی کا اخراج اس کالونی کی گلیوں میں کیا جا رہا ہے۔ جس سے نہ صرف آنے جانے کا راستہ بند بلکہ تعفن نے بھی جینا محال کیا ہوا ہے۔

مگر نہ ہی کسی حکومتی عہدیدار کے کان پر جوں رینگی ہے نہ ہی محکمہ ماحولیات خواب غفلت سے جاگنے کو تیار ہے۔ میری چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعظم، وزیراعلی اور تمام حکام سے ہاتھ جوڑ کر التجا ہے کہ خدارا ہم بھی پاکستان کے شہری ہیں، ہم بھی ٹیکس دیتے ہیں، ہمیں بھی جینے کا حق دیا جائے، ہمارے۔ ساتھ سوتیلا سلوک پن چھوڑ کر ہمارے درد کا درماں بنیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments