! ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے تھے کہ ”جی! کہاں کا نگران؟ میں نے تو خود کو زبردستی تمھارا نگران بنایا ہے۔ تم نے تو اپنے تھیسس نگران کے لیے ”عمارہ رشید“ کا نام لکھ رکھا تھا ”۔
او یار! کوئی سوال؟ ”۔
میں ایک بوڑھا استاد، مگر بہت اچھا دوست ہوں ”۔
“! کوئی شعر سناؤ کہ تم لوگ جس عمر میں ہو شعر تمھاری آواز میں ڈھل کر مزید خوبصورت ہو جاتا ”

ڈاکٹر انوار احمد کے سیالکوٹ سے ملتان واپس چلے جانے کے بعد تنقید کا پرچہ پڑھانے کے لیے جو استاد بھی آتا ہمارے دلوں میں استاد محترم کے چلے جانے کی کسک کو کم نہ کر سکتا تھا۔ سو چیونگم چباتا ہوا مسکراتا چہرہ لیے سر طارق حسن زیدی جب ہماری کلاس میں آئے تو ہم طے کر چکے تھے کہ اب چپ چاپ لیکچر ہی اٹینڈ کیا کریں گے۔ لیکن وارد ہوتے ہی کہا گیا کہ ”یار! میں پڑھانے وڑھانے نہیں آیا، اور تم لوگوں کو کیا پڑھانا۔ ہم تو بس باتیں کیا کریں گے۔ تم اردو کے طالب علم ہو تو اپنا شاعرانہ سا تعارف کرواؤ، ایسا کرو اپنے نام پر ایک ایک شعر سناؤ“ ،

بس!
اپنی کلاس میں وہ خاموشی چھائی کے سائیں سائیں۔ اور پھر ہولے ہولے نوبت رکشوں اور ٹرکوں کے پیچھے لکھے شعروں تک آ گئی۔ وہ شعر سنتے، اور اسی نام /لفظ پر کوئی اخیر شعر کہتے، مجھے کاپی پر جلدی سے ہر وہ شعر لکھتے دیکھ کر کہنے لگے ”نام؟“ زارا کرن! کہا کہ ”زارا کا تو پتہ نہیں مگر تمھارے لیے“ کرن ”موزوں ہے۔“ کرن ”پر شعر سناؤ!“ ۔ میں نے کہا نظم سناؤں؟

سن کر کہا واہ! اب یہ شعر سنو
اس کی خلوت میں اترنے کو ”
چاند کی کرنوں کا زینہ چاہیے۔

ان کے پاس تو اشعار سے بھری عمرو عیار کی زنبیل تھی ان کی کلاس میں شاعری کی باری آتی ہی آتی تھی سو میں ہر ہفتے کوئی نئی نظم یا شعر یاد کرتی، وہ عادت تو اب تک قائم ہے، ہاں مگر سن کر کوئی اب یہ نہیں کہتا

مجھ کو سنا کے شعر جو طالب ہو داد کا
یہ بھی بہت کرم ہے کہ ”ہمم ہمم“ کروں ہوں میں

اپنی اب تک کی زندگی میں مجھے ’بحث کرنے، سوال اٹھانے، خود سے اختلاف رائے رکھنے اور اس کا برملا اظہار کرنے پر‘ ما سوائے سر طارق حسن زیدی کے اور کسی نے بھی اس قدر آزادی نہیں دی۔

میرے ہر احمقانہ سوال کو نہایت ہی خندہ پیشانی سے سننے اور آسان جواب میں ڈھالنے کا باکمال ہنر تھا ان کے پاس۔ کسی شعر کی تفہیم ہو یا کوئی پیچیدہ سی تھیوری ہر چیز کو دو لفظوں میں نبیڑ دیتے۔ وسیم کا انتظار کرتے ہوئے اکثر یونیورسٹی میں شام ہو جایا کرتی تھی۔ سردیوں کی شامیں، میں کلاس سے نکل کر باہر گیٹ کے سامنے ہی بیٹھی رہتی تھی۔ رواروی کے اس دور میں جب کہ انھیں اور ان کے ساتھی پروفیسر کو لاہور واپسی کے لیے نکلنا بھی ہوتا تھا۔

وہ کہتے ”یار شام ہو چلی اے تے بچی کلی پریشان ہوئے گی۔ ایس کڑی دا میاں آ جائے فیر واپسی لئی نکلاں گے“ ۔ وسیم کا انتظار کرتے ہم نے گھنٹوں کسی ایک ہی بات پر طویل بحثیں کی ہیں، میں کہا کرتی ”سر آپ ہمیشہ مجھ سے الٹ رائے کیوں رکھتے ہیں؟ تو کہتے کہ“ مخالفت ہی تو گفتگو کو جنم دیتی ہے۔ اگر تمھاری میری رائے ایک ہو جائے تو پھر خاموشی جنم لیتی ہے اور خاموشی تو صرف شہر خاموشاں میں ہی اچھی لگے۔ زندگی میں مجھے اک صرف خاموشی سے ہی تو ڈر لگتا ”۔

چار برس قبل 9 نومبر کو میں اپنا تھیسس جمع کروانے ان کے گھر گئی تھی۔ گھر کا پتہ سمجھاتے باہر سڑک تک لینے آ گئے تھے، پھر اپنی ماں جان کی ”نصیحت“ کے مطابق مہمان نوازی کرتے ہوئے اقبالؔ کے افکار پر آخری بار ہماری بحث ہوئی۔ باہر دروازے تک چھوڑنے آئے، میرے ایک سوال کے جواب پر مسکراتے ہوئے کہا کہ ”فکر مت کرو، تا حیات رابطہ رہے گا۔“ لیکن سر آپ تو تین ماہ پہلے ہی رابطہ ختم کر چکے تھے۔

میرے دل میں جو درد بھرے ہیں ان کی لہریں گھٹتی بڑھتی رہتی ہیں، ان لہروں نے ایک گدلی سی کہر کی چادر تان رکھی ہے جس کے پار سب نظر تو آتا ہے مگر دھندلا، لیکن اس کہرے کے باوجود آپ کا مسکراتا چیونگم چباتا چہرہ صاف کیوں دکھنے لگتا ہے سر؟

جاتے ہوئے وہ خود کو یہاں چھوڑ گیا ہے
اس کو تو بچھڑنے کا بھی سلیقہ نہیں آتا


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments